أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِىۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰٮكَ فَعَدَلَـكَ ۞

ترجمہ:

جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ( تیرے اعضاء کو) متناب بنایا۔

الانفطار : ٧ میں فرمایا : جس نے تجھے پیدا کیا پھر درست کیا، پھر ( تیرے اعضاء کو) متناسب بنایا۔

انسان کی تخلیق کی تفصیل

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور سلطنت کا اظہار فرمایا ہے کہ اس نے ماں کے پیٹ کے تین اندھیروں میں انسان کی تخلیق کی، جہاں کوئی انسان کسی طرح کا تصرف نہیں کرسکتا اور انسان پر اپنی اس نعمت کا اظہار فرمایا تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی مخالفت اور اس کی نافرمانی سے باز آئے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت کا بیان ہے تاکہ اس سے انسان جان لیں کہ ان کو عبث اور بےمقصد نہیں پیدا کیا گیا کیونکہ جو اپنی حکمت اور قدرت سے انسان کو پیٹ کے تین اندھیروں میں پیدا فرماتا ہے وہ اپنی مخلوق کو عبث اور فضول پیدا نہیں فرما سکتا بلکہ اس نے اپنی مخلوق کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ ان کو نیک باتوں کا حکم دے اور بری باتوں سے روکے اور ان کی طرف رسولوں کو بھیجے اور ان پر آسمانی کتابوں کو نازل کرے، جن کی اتباع کرنے کو ان پر لازم کرے اور جب لوگ ان کی اتباع کرنے سے اعراض کریں اور ان کی پیروی کو ترک کریں تو ان کو سزا دے۔

اس کے بعد فرمایا : پھر ( تیرے اعضاء کو) متناسب بنایا یعنی تجھے ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل کیا کیونکہ انسان اصل میں اپنے باپ کی پشت میں ایک گندہ قطرہ تھا، پھر اس گندے قطرہ کو اس کی ماں کے رحم میں منتقل کیا، پھر اس کو نفطہ بنایا، پھر اس کو جمے ہوئے خون کی طرف منتقل کیا، پھر اس کو گوشت کا ٹکڑا بنایا اور اس کو ہڈیاں پہنائیں اور اس کے تمام اعضاء بنائے اور اس کی بہترین صورت بنائی اور یہ نعمت ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے انسان کو یاد دلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر کتنا عظیم احسان فرمایا ہے تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔

القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 7