وَاِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحٰـفِظِيۡنَ – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 10
sulemansubhani نے Wednesday، 27 November 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحٰـفِظِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور بیشک تم پر نگہبان (مقرر) ہیں.
الانفطار : ١٢۔ ١٠ میں فرمایا : اور بیشک تم پر نگہبان ( مقرر) ہیں۔ معزز لکھنے والے۔ وہ جانتے ہیں تم جو کچھ عمل کرتے ہو۔
” کراماً کاتبین “ کے اعمال بنی آدم لکھنے کی تفصیل
اللہ تعالیٰ نے مختلف فرشتوں کے ذمہ مختلف کام لگائے ہوئے ہیں، جیسے حضرت عزرائیل کے ذمہ روح قبض کرنا لگایا ہے اور حضرت میکائیل کے ذمہ رزق پہنچانا ہے اور بعض فرشتوں کے ذمہ یہ ہے کہ وہ زمین میں گھوم پھر کر دیکھیں کہ کہاں اللہ کے بندے اس کا ذکر کر رہے ہیں، ان کو ملائکہ سیاحین کہا جاتا ہے اور اسی طرح بعض فرشتوں کو بندوں کے اعمال لکھنے پر مامور کیا ہے ان کو کراماً کاتبین کہا جاتا ہے، ان فرشتوں کو انسانوں کے اعمال لکھنے پر اس لیے مامور کیا ہے تاکہ ان کا لکھا ہوا قیامت کے دن انسان پر حجت ہوجائے۔
اس میں اختلاف ہے کہ کفار کے اعمال کو بھی فرشتے لکھتے ہیں یا نہیں کیونکہ وہ تو صرف برے کام کرتے ہیں نیک کام نہیں کرتے، اس لیے بعض علماء نے کہا : ان کے اعمال کو لکھنے والے فرشتے نہیں ہیں، اور بعض نے کہا : ان کے لیے بھی لکھنے والے ہیں، قرآن مجید میں ہیں :
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتَابََہٗ بِشِمَالِہٖ فَیَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ کِتَابِیَہْ ۔ (الحاقہ : ٢٥ )
اور رہا وہ شخص جس کو اس کا صحیفہ ٔ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، پس وہ کہے گا : اے کاش ! مجھ کو یہ صحیفہ نہ دیا جاتا۔
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ کِتٰـبَہٗ وَرَآئَ ظَھْرِہٖ ۔ فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا۔ (الانشقاق : ١٠۔ ١١)
اور جس شخص کا صحیفہ ٔ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ تو وہ عنقریب موت کو پکارے گا۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ جو فرشتہ کافر کی دائیں جانب ہوتا ہے وہ کیا کرتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بائیں جانب کے لکھے ہوئے پر گواہ ہوتا ہے۔
سفیان سے سوال کیا گیا کہ جب بندہ نیک یا بد عمل کرتا ہے، اس کا فرشتوں کو علم ہونا تو ظاہر ہے لیکن جب نیک یا بد عمل کا ارادہ کرتا ہے، اس کا فرشتوں کو کیسے علم ہوتا ہے ؟ سفیان نے جواب دیا : جب بندہ نیک عمل کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے مشک کی خوشبو آتی ہے اور جب وہ برے عمل کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے سخت ناگوار بدبو آتی ہے۔
مسلمانوں کو برے کام کرنا کفار کے برے کام سے زیادہ سنگین ہے کیونکہ مسلمانوں کو علم ہے کہ ان کے اعمال کی حفاظت کرنے والے فرشتے مقرر ہیں جو ان کے اعمال کو لکھتے رہتے ہیں، اس کے باوجود جب وہ برے کام کریں تو یہ زیادہ قابل ملامت ہے کیونکہ کفار کو تو اس پر ایمان نہیں ہے کہ ان کے تمام اعمال کو فرشتے لکھ رہے ہیں۔
کراماً کاتبین قضاء حاجت اور جماع کے وقت انسان سے الگ ہوجاتے ہیں
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ برہنہ ہونے سے بچو کیونکہ تمہارے ساتھ وہ فرشتے رہتے ہیں جو صرف قضاء حاجت کے وقت تم سے جدا ہوتے ہیں اور جس وقت مرد اپنی بیوی کے ساتھ ترویج کرتا ہے، سو تم فرشتوں سے حیاء کرو اور ان کی تکریم کرو۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٨٠٠)
امام بزار حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم کو برہنہ ہونے سے منع فرماتا ہے، سو تم ان فرشتوں سے حیاء کرو، جو تمہارے ساتھ رہتے ہیں، وہ کراماً کاتبین ہیں جو تین اوقات کے سوا تم سے جدا نہیں ہوتے، قضاء حاجت کے وقت، جنابت کے وقت اور غسل کے وقت۔
امام ابن مردویہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت باہرنکلے، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو جنگل میں نہا رہا تھا، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : اللہ سے ڈرو اور کراماً کاتبین کا اکرام کرو، جو دو حالتوں کے سوا ہر وقت تمہارے ساتھ رہتے ہیں، جب انسان بیت الخلاء میں ہو یا اپنی بیوی کے ساتھ ہو، کیونکہ اللہ نے ان کا نام کرام رکھا ہے، وہ ایسی حالتوں میں دیوار یا اوٹ کے پیچھے جاتے ہیں اور انسان کی طرف نہیں دیکھتے۔
امام بزار نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتے جب ایسا صحیفہ اللہ کے پاس لے کر جائیں جس کے اول اور آخر میں استغفار ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان میں لکھی ہوئی چیزوں کو بخش دیتا ہے۔ ( الدرا لمنثورج ٨ ص ٤٠٣۔ ٤٠٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 10
[…] تفسیر […]
[…] تفسیر […]