بیرون ممالک میں حلال گوشت اور کچھ مشاہدات
بیرون ممالک میں حلال گوشت اور کچھ مشاہدات
از قلم مفتی علی اصغر
28 جمادی الاول 1446 بمطابق یکم دسمبر 2024
میں نے کچھ سال قبل عرب میں واقع ایک عالمی فقہ فورم کے دفتر جا کر ان کے سیکریٹری جنرل سے مشینی ذبیحہ پر بات کی تو معلوم ہوا کہ وہ تو اس میں کوئی مضائقہ ہی نہیں سمجھتے۔اس موقف پر اگر کوئی حلال کی اسٹیمپ لگاتا ہے تو کوئی بعید معاملہ نہیں لیکن وہ علماء ایسی چکن کو کبھی حلال نہیں کہہ سکتے جو مشینی ذبیحہ حلال نہیں سمجھتے ۔
اکابر اور جمہور علمائے اہل سنت کا یہی موقف ہے کہ مشینی ذبیحہ حرام ہے ۔
بلکہ حلت کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہاتھ سے ذبح کیا جائے اور گردن کی مطلوبہ رگیں ہاتھ میں موجود تیز دھار آلے سے کاٹی جائے اور جان بوجھ کر اللہ کا نام لینا بھی ترک نا کیا ہو۔
چند سال قبل ایک صاحب امریکہ سے وہاں کی ایک چکن سپلائی کرنے والی کمپنی کی سپلائی کی تصاویر بھیجی
اس پروڈکت پر حلال کی اسٹیمپ لگی تھی انہوں نے ساتھ ہی کمپنی کی ایک میل بھی فارورڈ کی جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ہم مرغی کو ہاتھ سے ذبح نہیں کرتے
ظاہر ہے کہ اسٹیمپ ایسے حضرات کی رائے پر لگی ہوگی جو مشینی ذبیحہ کو حلال سمجھتے ہیں۔
ایک عرب ملک میں ایک جاننے والے نے بڑا باربی کیو ریسٹورنٹ کھولا انہوں نے چکن کے گوشت کے لئے ایک بہت بڑی کمپنی سے رابطہ کیا انہوں نے جواب دیا کہ ہم ذبح تو ہاتھ سے کرتے ہیں لیکن ہماری کمپنی ایک گھنٹے میں 8 ہزار مرغیاں کاٹتی ہے۔ ہم صرف پہلی مرغی پر تکبیر پڑھتے ہیں باقی پر نہیں اور ہمارے پاس اس پر فتوی بھی ہے ۔
شوافع کے یہاں جان بوجھ کر تکبیر ترک کی جائے تو ایسا جانور حلال ہوتا ہے جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک ایسا جانور حرام اور مردار ہے۔
ان صاحب نے دور کسی اور شہر میں ایک چھوٹی کمپنی سے بات کی اس نے یقین دلایا کہ ہم ہاتھ سے بھی ذبح کرتے ہیں اور تکبیر بھی پڑھتے ہیں
وہ صاحب مجھے اس کمپنی میں لے کر گئے ہم نے وزٹ کیا دونوں باتوں پر اطمنان رہا۔ آج تک وہ دور کے شہر سے مرغی منگواتے ہیں جو قدرے مہنگی پڑتی ہے
عرب کی ایک معروف فوڈ چین سے متعلق حضرت قبلہ مولانا شاہ تراب الحق صاحب رحمةاللہ تعالی علیہ کا ایک آڈیوز کلپ وائرل ہے جس میں وہ اپنی تحقیق بیان کر رہے ہیں کہ وہ برازیل سے مرغی منگواتے ہیں
میں نے گزشتہ دو تین سال میں یہ نوٹ کیا کہ اب بعض عرب ممالک میں ہوٹل کے استقبالیے پر لکھا ہوتا کہ کہ کونسا گوشت کس ملک کا ہے۔
پچھلے سال کی بات ہے مدینہ شریف میں ایک جگہ فروٹ جوس لیا ساتھ میں ایک صاحب نے بڑے فخر سے بتایا کہ یہاں جو چکن برگر اور شاورما مل رہا ہے وہ مقامی پروڈکٹ ہے اور ہاتھ سے ذبح ہوتی ہے
مجھے یقین دلانے کے لئے وہ صاحب کاؤنٹر پر گئے پوچھنے پر پتا چلا کہ آج کل جو مرغی استعمال ہو رہی ہے یہ برازیل سے آ رہی ہے۔
ویسے پاکستان میں تو یہ سہولت موجود ہے کہ کلئیرنگ ایجنٹ کسی بھی پروڈکٹ کے بارے میں بتا دیتا ہے کہ کون کون سی چیز کس ملک سے امپورٹ ہو رہی ہے
باقی ممالک میں بھی یہ معلومات لینا کوئی مشکل نہیں ہے۔
چکن کے مقابلے میں بڑے جانور کا معاملہ مختلف ہے
اب تک کوئی ایسی اطلاع میرے پاس تو نہیں کہ کسی بڑے جانور کو حلال کہہ کر بیچا جاتا ہو اور اس کو ہاتھ سے ذبح نہ کیا جاتا ہو ۔بڑا جانور چونکہ طویل وقت لیتا ہے اس لئے اس حد تک تو مشین استعمال ہوتی ہیں کہ اس کو گرانے اور ذبح کرنے کے بعد مشین سب کام کرتی ہیں لیکن بڑے جانور یعنی بکرے اونٹ بیل وغیرہ کو ہاتھ سے ہی ذبح کیا جاتا ہے۔
خود کراچی کے قریب گھارو میں پچاس ایکڑ ایک بڑا سلاٹر ہاؤس ہے جس پر ایک مرتبہ ہم نے قربانی کے جانور ذبح کروائے تھے۔
اسی دوران میں نے اس کا وزٹ کیا تھا وہاں بھی سوائے ذبح کے ہر کام مشین سے ہی ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ بڑے جانور میں بھی جو گوشت غیر مسلم اپنے لئے کاٹتے ہیں وہاں وہ اپنا طریقہ استعمال کرتے ہوں گے اور وقت نصاری کی ایک بڑی تعداد تو ویسے بھی دہریے ہو چکے ہیں اور انہوں نے تکبیر بھی ترک کر دی ہے
یہود کی تکبیر پر بھی کچھ تفصیل ہے جس کو محقق عصر سراج الفقہاء مفتی نظام الدین صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اپنی کتاب مشینی ذبیحہ میں بیان کیا ہے۔
مشینی ذبیحہ کا موضوع اور معاملہ کیا ہے اور کیوں ہے؟
یہ جاننے کے لئے موجود میری ویڈیو ملاحظہ کریں۔6 منٹ کی اس ویڈیو میں آپ بہت کچھ جان پائیں گے۔