گوانگژو (چائنہ) کے  نزدیک ایک صنعتی علاقے میں ہمارے میزبان نے بہت محنت سے ایک حلال ریستوران تلاش کیا۔  تقریبا ۲۰ گھنٹوں کی بھوک تھی، جونہی کھانے کے لیے بیٹھے تو والد صاحب کی کال آئی۔ میں نے بتایا کے کھانے کی میز پر ہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا یہاں واقعی حلال ملتا ہے؟ میں نے پورے یقین سے کہا کہ ہاں لکھا بھی ہے اور لوگ بھی معتبر ہیں۔ تو والد صاحب نے کہا جن برتنوں میں وہ پکا رہے ہیں اور جو چمچ وہ استعمال کر رہے ہیں وہ چیک کر لو، اسی میں سوٴر بھی پک رہا ہو گا۔ اور پھر ہم نے یہی سب دیکھا!!!

دوسرا واقعہ حال ہی میں لندن میں پیش آیا۔ کارشلٹن کے ایریا میں شبیر بھائی کے ساتھ ہم دوپہر کے کھانے پر جمع ہوئے۔ مجھے ابو کی وہی بات یاد تھی، حلال بورڈ والے ریستوران کے کاوٴنٹر پر جا کر میں نے کہا کوکنگ ایریا دیکھنا ہے، اس نے دکھایا تو وہیں سوٴر بھی پک رہا تھا لیکن الگ برتن میں۔ تاہم چمچ، اور پلیٹس وغیرہ مکس ہی تھیں۔

لہٰذا، صرف حلال بورڈ ہی کافی نہیں، اس کا حلال ہونا یقینی بنائیں، وہاں کے برتن، چمچ، گوشت کا سورس، گوشت کی سٹوریج وغیرہ کی تسلی کریں کیونکہ F&B کے بزنس میں ایک پروڈکٹ کا دوسری کے ساتھ contamination بہت آسان ہے، بلکہ بات اس سے آگے کی ہے۔ اگر شدید بھوک لگی ہو، کھائے بغیر گزارا نہ ہو تو جوس، دودھ، بسکٹ، پھل وغیرہ سے گزارا کر لیں۔ سفر طویل ہو خشک میوہ جات ساتھ رکھیں۔  یورپ اور غیر مسلم ممالک میں رہنے والے اپنی روحانی بے چینیوں، بے سکونی، نیند کی خرابی، عبادات میں دل کا نہ لگنا وغیرہ جیسے معاملات سے اگر گزر رہے ہیں تو خوراک پر خاص توجہ دیں۔

محمد افتخار الحسن