وَاِنَّ الۡفُجَّارَ لَفِىۡ جَحِيۡمٍ – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 14
sulemansubhani نے Friday، 6 December 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِنَّ الۡفُجَّارَ لَفِىۡ جَحِيۡمٍ ۞
ترجمہ:
اور بیشک بدکار ضرور دوزخ میں ہیں۔
معتزلہ نے یہ کہا ہے کہ : اور بدکار ضرور دوزخ میں ہیں ( الانفطار : ١٤) اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے ( الانفطار : ١٦)
یہ آیتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ مرتکب گناہ کبیرہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، کیونکہ مرتکب کبیرہ فاجرہ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فجار ضرور دوزخ میں ہیں اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، لیکن ہمارے نزدیک مومن مرتکب کبیرہ فاجر نہیں ہے، فاجر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید کی تکذیب کرے جیسا کہ ان آیات سے واضح ہوتا ہے :
کَلَّ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ ۔ وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا سِجِّیْنٌ۔ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ (المطففین : ٧۔ ١١)
بے شک فجار کا صحیفہ اعمال میں ہے۔ اور آپ کیا سمجھے کہ سبحین کیا ہے ؟۔ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے۔ اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے۔ وہ لوگ جو روز جزاء کی تکذیب کرتے ہیں۔
پس فجار کے عموم میں مؤمنین مرتکبین کبائر داخل نہیں ہیں اور اگر بالفرض مومن مرتکب کبیرہ کو دوزخ میں داخل کیا جائے تو وہ تھوڑا عرصہ تطہیر کے لیے دوزخ میں داخل ہوگا، بعد میں اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے یا اللہ تعالیٰ کے فضل محض سے دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔
القرآن – سورۃ نمبر 82 الإنفطار آیت نمبر 14