أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيۡلٌ لِّلۡمُطَفِّفِيۡنَ ۞

ترجمہ:

ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے شدید عذاب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے شدید عذاب ہے۔ وہ لوگ جب دوسروں سے ناپ کرلیں تو پورا کرلیں۔ اور جب انہیں ناپ کر یا تول کردیں تو کم دیں۔ ( المطففین : ٣۔ ١)

” مطففین “ کا معنی اور ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے متعلق احادیث

المطففین : ١ میں ” ویل “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : ان کو آخرت میں شددی عذاب ہوگا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جہنم میں ” ویل “ نام کا ایک وادی ہے جس میں دوزخیوں کی پیپ بہہ کر آئے گی۔

” المطففون “ کا معنی ہے : وہ لوگ جو ناپ اور تول میں کمی کرتے ہیں، بعض علماء نے کہا :” تطفیف “ پیمائش اور وزن میں بھی ہوتی ہے اور وضو اور نماز اور حدیث میں بھی ہوتی ہے۔ امام مالک نے کہا : ہر چیز میں پورا پورا دینا بھی ہے اور کم کر کے دینا بھی ہے۔

اہل لغت نے کہا :” المطفف “ ” تطفیف “ سے مآخوذ ہے اور ” طفیف “ کا معنی ہے : قلیل اور ” مطفف “ وہ شخص ہے جو اپنے صاحب کو وزن یا پیمائش میں اس کے حق سے کم کر دے۔

ناپ تول میں کمی کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو اہل مدینہ ناپ تول میں سب سے زیادہ خبیث تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :” وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ ۔ “ (المطففین : ١) پھر وہ عمدہ طریقہ سے ناپ تول کرنے لگے۔ ( السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٦٥٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٢٣، صحیح ابن عباس رقم الحدیث : ٤٩١٩، المستدرک ج ٢ ص ٣٣، المعجم الکبیررقم الحدیث : ١٢٠٤١، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٦ ص ٣٢)

امام بن سعد، امام بزار اور امام بیہقی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مباع بن عرفطہ کو مدینہ کا عامل بنایا، جب وہ خیبر کی طرف گئے تو انہوں نے یہ آیت پڑھی :” وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ ۔ “ تو میں نے کہا : فلاں شخص ہلاک ہوگیا، اس کے پاس ایک صاع ( چار کلو اناج کا پیمانہ) ہے، جس سے وہ ناپ کردیتا ہے اور ایک دوسرا صاع ہے جس سے وہ ناپ کرلیتا ہے۔ ( مسند البزار رقم الحدیث : ٢٢٨١، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا : ایک شخص کسی ناپ تول کرنے والے کو ملازم رکھے اور اس کو علم ہو کہ یہ ناپ تول میں کمی کرتا ہے تو اس کا گناہ اس کے اوپر ہوگا۔ ( المستدرک ج ٢ ص ٥١٧، المستدرک رقم الحدیث : ٣٩٠٧ طبع جدید)

حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس آئے اور فرمایا : اے مہاجرین کے گروہ ! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ تم ان میں مبتلا ہو جائو گے اور میں اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان میں مبتلا ہو : (١) جس قوم میں بھی بےحیائی ظاہر ہوتی ہے، حتیٰ کہ وہ برسر عام بےحیائی کے کام کریں تو ان میں طاعون پھیل جاتا ہے اور وہ بیماریاں جو ان کے پہلے لوگوں میں نہیں تھیں (٢) اور جو قوم بھی ناپ طول میں کمی کرتی ہے، اس پر قحط آجاتا ہے اور افلاس چھا جاتا ہے اور ان پر ظالم حکم ران مسلط کردیئے جاتے ہیں (٣) اور جو لوگ اپنے اموال کی زکوٰۃ نہیں دیتے، وہ آسمان کی بارش سے محروم کردیئے جاتے ہیں اور اگر حیوانات نہ ہوتے تو ان پر بالکل بارش نہ ہوتی (٤) اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑتے ہیں، ان کے اوپر ان کے مخالف دشمن کو مسلط کردیا جاتا ہے وہ ان کے ہاتھوں سے مال چھین لیتا ہے (٥) اور جو ائمہ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے اور اللہ کے نازل کیے ہوئے احکام کو ترجیح نہیں دیتے، اللہ تعالیٰ ان میں ایک دوسرے کا خوف پیدا کردیتا ہے۔ ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠١٩، تلخیص الحبیرج ٢ ص ٦٣٦، الدرالمنثور ج ٨ ص ٤٠٥)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 1