٢٤ – بَابُ الْوُضُوْءِ ثَلَاثًا ثَلَانَّا

تین تین مرتبہ وضوء کرنا

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت بالکل واضح ہے۔

١٥٩ – حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْأَوَيْسِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ اَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ اَخْبَرَہ انَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا بِإِنَاءٍ ، فَافْرَغَ عَلَی كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَعَسَلَهُمَا ثُمَّ ادْخَلَ يَمِينَهُ فِی الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ مَسَحَ براسہ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَاَ نَحْو وضُونِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نفْسَهُ غُفِرَ لهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

اطراف الحدیث:160- ۱۶۴ – ۱۹۳۴ – 6433

صحیح مسلم:226،  الرقم المسلسل : ۵۲۷ سنن ابوداؤد : ۱۰۶ سنن نسائی: ۸۴ سنن ابن ماجه: ۲۸۵، السنن الکبری للنسائی: 176،  صحیح ابن حبان : 360،مسند احمد ج ا ص ۶۸ طبع قدیم، مسند احمد : ۴۸۹ – ج ا ص ۵۲۴ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبد العزیز بن عبداللہ الاویسی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی، از ابن شہاب کہ ان کو عطاء بن یزید نے خبر دی کہ ان کو حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام حمران نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ  کو دیکھا’ انہوں نے پانی کا برتن منگایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی انڈیلا، پھر ان دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا، پھر اس سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک تین بار دھویا پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیروں کو ٹخنوں تک تین بار دھویا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا، پھر دو رکعت نماز اس طرح پڑھی، جس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کی (اپنے اختیار سے کوئی بات نہ سوچی ) تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔

عنوان باب کے ساتھ مطابقت اس چیز میں ہے کہ اس حدیث میں اعضاء وضوء کو تین تین بار دھونے کا ذکر ہے۔ 

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عبد العزیز الاویسی

(۲) ابراہیم بن سعد

(۳) محمد بن مسلم بن شہاب الزہری

(۴) عطاء بن یزید التابعی ان سب کا تعارف ہو چکا ہے

(۵) حمران بن ابان بن خالد بن عمر یہ عین التمر کے قیدیوں میں سے تھے ان کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قید کیا تھا اور ان کو بہت ذہین پایا، پھر ان کو حضرت عثمان کی خدمت میں پیش کردیا انہوں نے ان کو آزاد کر دیا اور یہ ان کے منشی اور دربان تھے، امام بخاری نے ان کا ضعفاء میں شمار کیا ہے اور اپنی صحیح میں ان کی روایت سے استدلال کیا ہے ابن سعد نے کہا: یہ کثیر الحدیث تھے اور میں نے نہیں دیکھا کہ ان کی احادیث سے استدلال کیا جاتا ہو یہ ۷۵ ھ میں فوت ہوگئے تھے حجاج نے ان پر ایک لاکھ ( درہم) کا جرمانہ کیا تھا، بعد میں عبد الملک کی سفارش سے وہ درہم واپس کر دیئے تھے

(۶) حضرت امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ  عنہ ان کا لقب ذوالنورین ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ان کے عقد میں دی تھیں، وہ ان کے پاس فوت ہوگئیں، پھر حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ان کے عقد میں دیں، حضرت عثمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱۴۶ حدیثیں روایت کی ہیں امام بخاری نے ان میں سے ۱۱ حدیثیں روایت کی ہیں، یکم محرم ۲۴ھ کو انہیں خلیفہ بنایا گیا اور ۱۸ ذوالحجہ ۳۵ھ کو انہیں شہید کر دیا گیا‘ الاسود التجیبی نے ان کو قتل کیا تھا۔ ( حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ الاسود نے حضرت عثمان کا گلا گھونٹ دیا تھا اور ایک روایت یہ ذکر کی ہے کہ سودان بن حمران نے آپ کو تلوار سے قتل کیا تھا، ایک روایت ذکر کی ہے کہ رومان بن سودان نے تلوار کے وار سے آپ کو قتل کیا تھا۔(البدایہ والنہایہ ج 5 ص ۲۷۸-۲۷۶ دار الفکر بیروت ۱۴۱۹ھ ) ) ہفتہ کی شب بقیع میں حضرت عثمان کو دفن کردیا گیا۔ ان کی عمر اس وقت ۸۲ سال تھی، حکیم بن حزام نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، ان کے دور خلافت میں بیت المال میں بہت اموال جمع ہوگئے تھے ۔(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۷ )

اس حدیث میں تین تین بار کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے اور چہرہ ہاتھوں اور پیروں کو تین تین بار دھونے کا ذکر ہے ان کی تفصیل اور بیان مذاہب ہم صحیح البخاری : ۱۴۰ میں ذکر کر چکے ہیں اس حدیث میں سر پر ایک بارمسح کرنے کا ذکر ہے۔

سر پر مسح کی کیفیت اور سر پر مسح کی تعداد میں مذاہب

قاضی عیاض بن موسی الاندلسی مالکی متوفی ۵۴۶ ھ لکھتے ہیں :

چہرے، ہاتھوں اور پیروں کو تین تین بار دھونے کا بہ کثرت احادیث میں ذکر ہے اور سر پر صرف ایک بار مسح کرنے کا ذکر ہے پس امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک سر کے مسح میں تکرار نہیں ہے اور امام شافعی کے نزدیک سر کے مسح میں بھی تکرار سنت ہے۔

اکمال المعلم الموائد مسلم ج ۲ ص ۱۴ – ۱۳ دار الوفا ، 1419ھ )

علامہ ابوالحسن علی بن محمد بن حبیب الماوردی الشافعی متوفی ۴۵۰ ھ لکھتے ہیں:

امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: پھر سر کا مسح تین بار کرے اور مستحب یہ ہے کہ پورے سر کا مسح کرے اور کنپٹیوں کا مسح کرے، سر کے اگلے حصہ سے مسح کی ابتداء کرے، پھر ہاتھوں کو گدی تک لے جائے، پھر ہاتھوں کو لوٹا کر اسی جگہ لائے، جہاں سے ابتداء کی تھی۔(مختصر المزني ص ۲)

سر پر تین بار مسح کرنے کی دلیل یہ حدیث ہے:

حمران بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضوء کیا، پھر سابقہ روایت کی طرح بیان کیا اور اس حدیث میں کہا کہ انہوں نے سر پر تین بار مسح کیا اور تین بار پیروں کو دھویا۔ (سنن ابوداؤد : ۱۰۷)

اس کے بعد امام ابوداؤد نے حدیث : ۱۰۸ حدیث : ۱۰۶ کی مثل بیان کی، پھر فرمایا :

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تمام صحیح احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے صرف ایک بار سر کا مسح کیا، کیونکہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عثمان نے اعضاء وضوء کو تین تین بار دھویا اور سر کا مسح صرف ایک بار کیا اور سر کے مسح میں تعداد کا ذکر نہیں کیا، جس طرح دیگر اعضاء وضوء میں تعداد کا ذکر کیا تھا۔ (سنن ابوداؤد ص 33،  دارالفکر بیروت)

علامہ مرغینانی لکھتے ہیں: امام شافعی نے جو تین بار مسح کرنے کی روایت کی ہے وہ ایک پانی سے تین بار مسح کرنے پر محمول ہے اور وہ بھی جائز ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ سے منقول ہے کیونکہ فرض مسح کرنا ہے اور تین بار نے پانی سے مسح کرنے سے مسح نہیں رہے گا’ بلکہ وہ سر کا دھونا ہو جائے گا۔ (ہدایہ اولین ص 22 مکتبه شرکت علمیه ملتان )

نماز میں بُرے کاموں کا منصوبہ بنانا مذموم ہے اور نیک کاموں کا منصوبہ بنانا مستحسن ہے

اس حدیث کے آخر میں فرمایا: جس شخص نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا، پھر دو رکعت نماز اس طرح پڑھی کہ اس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کی تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔

انسان کے دماغ میں جو خیالات آتے ہیں ان کی پانچ قسمیں ہیں:

(1) ھاجس: کسی چیز کا اچانک خیال آجائے۔

(۲) خاطر: کسی چیز کا بار بار خیال آئے۔

(۳) حدیث نفس : جس چیز کا خیال آئے، نفس یا ذہن اس چیز کی طرف راغب ہو اور اس کے حصول کا منصوبہ بنائے۔

(۴) ھم : غالب جانب اس چیز کو حاصل کرنے کی ہو اور مغلوب جانب اس کو ترک کرنے کی ہو، مبادا اس میں کوئی ضرر ہو۔

(۵) عزم: مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے اور وہ اس کے حصول کا پختہ ارادہ اور نیت کرلے۔

اگر انسان کے ذہن میں گناہ کا خیال آ جائے تو پہلے تین مرتبوں میں اس سے مواخذہ نہیں ہوگا نہ پچھلی امتوں میں مواخذہ تھا نہ اس امت میں ہے اور چوتھے مرتبہ میں پچھلی امتوں پر مواخذہ تھا اس امت میں نہیں ہے اور جب گناہ کا عزم کر لے گا تو پھر اس سے مواخذہ ہوگا، خواہ وہ اس کے بعد گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔ نماز میں انسان اگر کسی بُرے کام کے متعلق حدیث نفس کرے یعنی کسی برائی اور گناہ کا منصوبہ بنائے تو وہ مذموم ہے اور اگر کسی نیکی کا منصوبہ بنائے تو وہ محمود اور مستحب ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نماز کی حالت میں بھی لشکر کی صفیں مرتب کرتا رہتا ہوں ۔ (صحیح البخاری ۔ العمل فی الصلوۃ : ۱۸)

نماز میں خود بہ خود خیالات آتے رہتے ہیں، انہیں آنے دیں از خود کسی کام کے متعلق نہ سوچیں، خصوصا کسی بُرے کام کے متعلق ۔۔۔ وضوء کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے سے کن گناہوں کی بخشش ہوگی

اس حدیث میں فرمایا ہے: اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گئے حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

اس حدیث کا ظاہر معنی یہ ہے کہ اس کے گناہ کبیرہ اور صغیرہ سب معاف کر دئیے جائیں گئے لیکن علماء نے اس کو صغائر کے ساتھ خاص کیا ہے کیونکہ دوسری روایت میں کبائر کا استثناء فرمایا ہے پس جس کے صغیرہ اور کبیرہ گناہ ہوں اس کے صفائر معاف کر دیئے جائیں گئے اور جس کے صرف صفائر ہوں وہ معاف کر دیئے جائیں گے اور جس کے صرف کبائر ہوں ان میں تخفیف کر دی جائے گی اور جس کے نہ صفائر ہوں نہ کبائر اس کی نیکیوں میں اضافہ کر دیا جائے گا۔ (فتح الباری ج ۱ ص ۷۰۱ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )

وضوء کے بعد دو رکعت نماز “سنت وضوء” ہے نہ کہ تحیۃ الوضوء

وضوء کے بعد جو دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے، اس کو فقہاء سنت وضوء سے تعبیر کرتے ہیں، جیسا کہ ردالمختار ج ۲ ص ۴۰۴ میں مذکور ہے۔

بعض علماء دیوبند نے اس کو “تــحـيـة الوضوء “ کہا ہے۔ (انوار الباری ج ۷ ص ۴۰۸ انعام الباری ج ۲ ص ۲۶۹) یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ ” تحية الوضوء” کا معنی ہے: وضوء کا شکرانہ، یعنی دور کعت نماز پڑھ کر وضوء کرنے کا شکر ادا کیا جائے حالانکہ نماز مقصود ہے اور وضوء اس کا ذریعہ ہے اور نماز اعلیٰ عبادت ہے اور وضوء ادنی عبادت ہے اور ادنی کے لیے اعلیٰ کو شکرانہ بنانا صحیح نہیں ہے۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی متوفی ۱۰۵۲ھ نے لکھا ہے کہ “تحیۃ الوضوء “ اور شکر وضوء کوئی چیز نہیں ہے۔ (الی قولہ ) کیونکہ نماز اصل اور مقصود لذاتہ ہے، جب کہ وضو اُس کی فرع اور اس کے طفیل ہے۔ وضو، نماز کے لیے ہے نہ کہ نماز وضوء کے لیے ۔ (اشعتہ اللمعات ج اص ۱۹۸ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ) اور علامہ شامی نے لکھا ہے کہ تحیتہ المسجد اور شکر وضوء کے لیے کوئی علیحدہ نماز نہیں ہے۔ (ردالختار ج ۲ ص ۴۰۴) نیز انہوں نے لکھا ہے کہ تحیتہ المسجد بھی اصل میں” تحيّة ربّ المسجد “ ہے کیونکہ جب انسان بادشاہ کے گھر جاتا ہے تو گھر کے بجائے بادشاہ کو سلام کرتا ہے۔ (رد المختار ج ۲ ص 399،  دار احیاء التراث العربی بیروت )

وضوء کے بعد جو دو رکعت نماز پڑھی جاتی ہے، اس کو سنت وضوء دو وجہوں سے کہا جاتا ہے ایک وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ اس باب کی حدیث میں ہے: جس شخص نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا، پھر دو رکعت نماز اس طرح پڑھی کہ اس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہ کی تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور اس سلسلہ میں دوسری حدیث یہ ہے:

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے اچھی طرح وضوء کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی اور وہ اپنے قلب اور اپنے چہرے سے اس نماز ہی کی طرف متوجہ تھا تو اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ (صحیح مسلم : 234،  الرقم المسلسل : ۵۴۲ سنن ابوداؤد :169 سنن نسائی: ۱۵۱)

وضوء کے بعد دو رکعت نماز کو سنت وضوء اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ ہر وضوء کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا، حضرت بلال رضی اللہ کی سنت ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی  اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے وقت حضرت بلال سے کہا: اے بلال! تم نے اسلام میں کون سا ایسا عمل کیا ہے، جس کے اجر کی تم کو زیادہ توقع ہے؟ کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے نعلین کی آواز کو سنا حضرت بلال نے کہا: میں نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جس کے اجر کی مجھے زیادہ توقع ہو، بے شک میں دن یا رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو میں اس وضوء کے ساتھ وہ نماز پڑھتا ہوں، جس کا پڑھنا میرے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ (صحیح البخاری: ۱۱۴۹ صحیح مسلم: ۲۴۵۸) سو اس حدیث کے اعتبار سے وضوء کے بعد دو رکعت نماز حضرت بلال کی سنت بھی ہے۔