أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَا يَظُنُّ اُولٰٓئِكَ اَنَّهُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا ان لوگوں کا یہ گمان نہیں ہے کہ ان کو (مرنے کے بعد) اٹھایا جائے گا ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا ان لوگوں کا یہ گمان نہیں ہے کہ انہیں مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا۔ بہت بڑے دن میں۔ جب سب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ بیشک کافروں کا صحیفہ اعمال سجین میں ہے۔ اور آپ کیا سمجھے کہ سجین ( والا صحیفہ) کیا ہے۔ وہ مہر لگایا ہوا صحیفہ ہے۔ تکذیب کرنے والوں کے لیے شدید عذاب ہے۔ جو روز جزاء کی تکذیب کرتے ہیں۔ اس دن کی تکذیب صرف سرکش گنہ گناہ کرتا ہے (المطففین : ١٢۔ ٤)

المطففین ٦۔ ٤ میں فرمایا : کیا ان لوگوں کا یہ گمان نہیں ہے کہ ان کو ( مرنے کے بعد) اٹھایا جائے گا۔ بہت بڑے دن میں۔ جب سب لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

ناپ تول میں کمی کرنے والوں کو ملامت

المطففین : ٤ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے حال پر تعجب کا اظہار فرمایا ہے کہ یہ کس قدر دیدہ دلیزی سے ناپ تول میں کمی کر رہے ہیں، گویا ان کے دلوں میں ناپ تول میں کمی کرنے کے متعلق کوئی خطرہ اور کوئی کھٹکا نہیں ہے اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ ان کو مرنے کے بعداٹھایا جائے گا اور ناپ تول میں کمی کرنے کے متعلق ان سے سوال کیا جائے گا، یعنی ان کو ناپ تول میں کمی کرنے پر عذاب کا یقین ہی نہیں ہے، اگر انہیں اس پر عذاب کا یقین ہوتا تو وہ اس فعل سے باز آجاتے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 4