أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خِتٰمُهٗ مِسۡكٌ ‌ؕ وَفِىۡ ذٰلِكَ فَلۡيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اس کی مہر مشک ہے اور اسی میں رغبت کرنے والوں کو رغبت کرنی چاہیے.

المطففین : ٢٦ میں ” فلیتنافس “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” تنافس “ ہے، اس کا معنی ہے : رغبت کرنا، یعنی ان نعمتوں میں رغبت کرنا چاہیے اور ان نعمتوں کے حصول کے لیے اعمال صالحہ کرنے چاہئیں۔

اور اس ( شراب) میں چشمہ تسنیم کی آمیزش ہے۔ تسنیم وہ مشروب ہے جس کو اوپر سے انڈیلا جائے گا، اور یہ جنت کی سب سے افضل شراب ہے۔ لغت میں تسنیم کا معنی ہے : بلندی، اونٹ کے کوہان کو سنام کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ بھی اونٹ کی پیٹھ پر بلند ہوتا ہے، اسی طرح ” تسنیم القبور “ اس قبر کو کہتے ہیں جو اونٹ کے کوہان کی شکل پر بنائی جائے، حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا : تسنیم جنت میں ایک چشمہ ہے جس سے صرف مقربین کو پلایا جائے گا، ایک قول یہ ہے کہ تسنیم ہوا میں ایک چشمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بہہ رہا ہے اور اس سے اہل جنت کے برتنوں میں صاف شراب انڈیلی جائے گی۔

القرآن – سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 26