كَلَّاۤ اِنَّهُمۡ عَنۡ رَّبِّهِمۡ يَوۡمَئِذٍ لَّمَحۡجُوۡبُوۡنَؕ – سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 15
sulemansubhani نے Wednesday، 11 December 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَلَّاۤ اِنَّهُمۡ عَنۡ رَّبِّهِمۡ يَوۡمَئِذٍ لَّمَحۡجُوۡبُوۡنَؕ ۞
ترجمہ:
بیشک وہ اس دن اپنے رب (کے دیدار) سے محروم ہوں گے.
المطففین : ١٥ میں فرمایا : بیشک وہ اس دن اپنے رب ( کے دیدار) سے محروم ہوں گے۔
قیامت کے دن کافروں کا اپنے رب کے دیدار سے محروم ہونا اور مؤمنوں کا اپنے رب کے دیدار سے شاد کام ہونا
اس آیت میں ” کلا “ کا لفظ تحقیق کے لیے ہے یا کفار کے قول کو رد کرنے کے لیے ہے، یعنی بیشک کفار قیامت کے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے۔
زجاج نے کہا : اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دکھائی دے گا اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس آیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور نہ پھر اس میں کفار کو کوئی تخصیص اور تنقیص ہوگی کہ وہ قیامت کے دن اپنے رب کو نہیں دیکھ سکیں گے اور اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ خبر دی ہے کہ قیامت کے دن مؤمنین اپنے رب کا دیدار کر رہے ہوں گے۔
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ۔ اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ (القیامہ : ٢٢۔ ٢٣ )
اس دن بہت سے چہرے تروتازہ اور با رونق ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء اور مؤمنین کو قیامت کے دن جو اپنے دیدار سے شاد کام کرے گا، کفار کو اس سے محروم رکھے گا کیونکہ دنیا میں انہوں نے اپنے رب کی توحید پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت اور عبادت کرنے سے اعراض، انکار اور انحراف کیا تھا، اس لیے قیامت کے دن ان کو اس کے دیدار سے محروم رکھا جائے گا، قیامت کے دن جو ہولناک امور ہوں گے اور سب پر اس دن کے واقعات سے دہشت چھائی ہوئی ہوگی تو مؤمنین جب اپنے رب کا دیدار کریں گے تو ان کی سارش وحشت اور کلفت زائل ہوجائے گی، دنیا میں مؤمنین کاملین اس طرح اپنے رب کی عبادت کرتے تھے گویا اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں، یہی وجہ ہے کہ جب کوفہ کی مسجد میں چھت سے سانپ گرپڑا تو مسجد میں بھگدڑ مچ گئی، ایک ہنگامہ مچ گیا لیکن امام اعظم ابوحنیفہ اسی طرح صبر و سکون سے نماز پڑھتے رہے، ان کے خضوع اور خشوع میں کوئی فرق نہیں آیا کیونکہ وہ اس طرح اپنے رب کی عبادت کر رہے تھے گویا کہ وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں، سو قیامت کے دن ان کاملین کو ان کی اس عبادت کا انعام اس طرح دیا جائے گا کہ ہو بالقین فی الواقع اپنے رب کا دیدار کر رہ ہوں گے، قیامت کے دہشت ناک واقعات سے ایک ہنگامہ برپا ہوگا اور ان کاملین کو کچھ خبر نہیں ہوگی، یہ اطمینان اور سکون سے اپنے رب کے دیدار کے جلوئوں میں مست اور بےخود ہوں گے، رہے ہم ایسے عام مؤمنین تو ہمارے شب و روز ایسی غفلت اور معصیت میں گزرتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال اور اپنی ناقص عبادات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی کسی ایک نعمت کے بھی مستحق نہیں ہیں، ہوا، پانی، خوراک اور دنیا کی جو نعمتیں ہمیں ملتی ہیں، وہ ان کاملین کے توسل اور تصدق سے ملتی ہیں، سو آخرت میں بھی ہمیں امید ہے کہ ان ہی کاملین کے توسل سے ہمیں آخرت کی نعمتیں نصیب ہوں گی اور قیامت کے دن ان کی عبادتوں کی برکت سے ہمیں بھی اپنے رب کا دیدار حاصل ہوگا اور انشاء اللہ ہماری یہ امید پوری ہوگی۔
علامہ قرطبی لکھتے ہیں :
امام مالک بن انس (رض) نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو اپنے دیدار سے محروم رکھے گا اور وہ اس کو نہیں دیکھ سکیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے لیے اپنے دیدار کی تجلی فرمائے گا اور وہ اس کو دیکھ لیں گے، امام شافعی نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کفار پر ناراضگی کی وجہ سے ان کو اپنے دیدار سے محروم رکھے گا تو جب اللہ تعالیٰ مؤمنین سے راضی ہے تو ان کو اپنا دیدار عطاء فرمائے گا، سنو ! اللہ کی قسم ! اگر محمد بن ادریس کو یہ یقین نہ ہوتا کہ وہ قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھے گا تو وہ دنیا میں اس کی عبادت نہ کرتا، الحسین بن الفضل نے کہا کہ اللہ تعالٰ نے کفار کو دنیا میں اپنی توحید پر ایمان کے نور سے محروم رکھا اور آخرت میں ان کو اپنے دیدار سے محروم رکھے گا۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٢٢٤، دارالفکر، بیرو ت، ١٤١٥ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 15