أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَّشۡهَدُهُ الۡمُقَرَّبُوۡنَؕ ۞

ترجمہ:

جس پر اللہ کے مقرب بندے گواہ ہیں.

المطففین : ٢١۔ ١٨ میں فرمایا : بیشک نیکو کاروں کا صحیفہ اعمال ضرور علیین میں ہے۔ اور آپ کیا سمجھے کہ علیین کیا ہے ؟۔ وہ مہر لگایا ہوا صحیفہ ہے۔ جس پر اللہ کے مقرب بندے گواہ ہیں۔

اس کے بعد فرمایا : جس پر اللہ کے مقرب بنے گواہ ہیں۔

یعنی ابرار کے نیک اعمال پر ہر آسمان سے مقرب فرشتے گواہ ہیں۔ وہب بن منبہ اور امام ابن اسحاق نے کہا ہے کہ مقربین سے مراد یہاں پر حضرت اسرافیل (علیہ السلام) ہیں، پس جب مومن کوئی نیک عمل کرتا ہے تو فرشتہ اس کو صحیفہ میں لکھ کر آسمان پر چڑھتا ہے اور اس کا نور آسمانوں میں اس طرح چمکتا ہے جس طرح سورج کا نور زمین پر چمکتا ہے حتیٰ کہ وہ فرشتہ اس کو لے کر حضرت اسرافیل تک پہنچتا ہے، پھر وہ اس پر مہر لگا دیتا ہے اور حضرت اسرافیل اس پر گواہ ہوتے ہیں۔

( الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٢٢٦ )

القرآن – سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 21