١٦٨ – حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، عَن مَسْرُوق عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي تَنَعْلِهِ وَتَرْجُلِهِ وَطَهُورِه  وَفِي شَأْنِهِ كُلَّه۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں حفص بن عمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے اشعث بن سلیم نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا از مسروق از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر چیز میں دائیں طرف سے ابتداء کرنا پسند تھا، جوتی پہننے میں اور کنگھی کرنے میں اور وضوء کرنے میں اور اپنے تمام کاموں میں ۔

اطراف الحدیث : 426 – ۵۳۸۰ – 5854-۵۹۲۶

( صحیح مسلم : 268،  الرقم المسلسل : ۶۰۵ سنن ابوداؤد: ۴۱۴۰ سنن ترمذی : ۶۰۸ ، سنن نسائی: ۱۱۲- ۵۲۴۰ السنن الکبری للنسائی:9320، سنن ابن ماجه : ۴۰۱ مسند ابوداؤد الطیالسی: ۱۴۱۰، صحیح ابن خزیمہ: ۱۷۹ مسند ابوعوانہ ج اص ۲۲۲ صحیح ابن حبان: ۱۰۹۱ سنن کبری ج اص ۸۶ شعب الایمان:6280، معرفة السنن والآثار : ۷۵۶ شرح السنة : ۲۱۶، مسند احمد ج ۶ ص ۹۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۶۲۷ – ج ۴۱ ص ۱۷۴ مؤسسة الرسالة بیروت )

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے کہ آپ ہر کام میں دائیں طرف سے ابتداء کو پسند کرتے تھے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) حفص بن عمر الحوضی البصری یہ ثبت اور حجت ہیں امام احمد نے کہا: ان پر ایک حرف کی بھی گرفت نہیں ہے ۲۲۵ھ میں بصرہ میں فوت ہوئے تھے۔

(۲) شعبہ بن الحجاج ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔

(۳) اشعث بن سلیم کوفہ کے ثقات میں سے ہیں

(۴) سلیم بن الاسود المحار بي ابو الشعثاء ان کی کنیت زیادہ مشہور ہے۔

(۵) مسروق بن الاجدع الکوفی ابو عائشہ ، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے مسلمان ہوگئے تھے انہوں نے صحابہ کے ابتدائی دور کو پایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  نے ان کو بیٹا بنالیا تھا، پس انہوں نے اپنی بیٹی کا نام عائشہ رکھ دیا اور ان کی کنیت ابو عائشہ ہو گئی

(۶) حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی الله  عنہا

(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۳)

حدیث مذکور کے بعض مسائل

اس حدیث میں تیمن ” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: دائیں طرف سے ابتداء کرنا، کسی چیز کو دائیں ہاتھ سے دینا اور دائیں جانب کا قصد کرنا’ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر فضیلت حاصل ہے اور یہ کہ ہر کام میں دائیں جانب کو فضیلت حاصل ہے۔

حضرت ابن عمر نے فرمایا: مسجد میں بہترین جگہ مسجد کی دائیں جانب ہے، سعید بن المسیب نے کہا: مسجد کی دائیں جانب میں نماز پڑھے، ابراہیم کو یہ پسند تھا کہ مسجد کی دائیں جانب میں نماز پڑھے، حضرت انس حسن بصری اور ابن سیرین مسجد کی دائیں جانب میں نماز پڑھتے تھے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۷)

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۵۳۷ – ج ۱ ص 937 پر مذکور ہے، وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔