“دینی جلسوں کا مقصد: غیر مستند مقررین اور ان کے اثرات”

آج کل کے دور میں دینی جلسے اور محافل مذہبی شعور اور اصلاح کے لیے ایک اہم وسیلہ سمجھی جاتی ہیں۔ یہ جلسے جہاں ایک طرف لوگوں کے درمیان دین کی صحیح تعلیمات پہنچانے کے لیے ایک زبردست پلیٹ فارم ہوتے ہیں، وہیں دوسری طرف ان محافل کا مقصد صرف عوامی تعداد بڑھانا اور دکھاوے کے طور پر دین کا پرچار کرنا بن چکا ہے۔ بہت سے جلسوں میں جو مقررین آتے ہیں، ان کی تقریریں عموماً دینی اصولوں اور حقائق کے خلاف ہوتی ہیں۔ ان مقررین کی تقریروں میں جھوٹے قصے، کہانیاں اور موضوع روایات کی بھرمار ہوتی ہے، جو سامعین کو وقتی طور پر خوش تو کر سکتی ہیں، لیکن یہ دین کی روح کو مجروح کرتی ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرکے چلے جاتے ہیں۔
غیر مستند روایات بیان کرنے والے  مقررین اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عوامی دلچسپی بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ طریقہ نہ صرف دین کے اصولوں سے متصادم ہے بلکہ لوگوں کی دین کے بارے میں غلط فہمیوں کا باعث بھی بن رہا ہے۔ یہ مقررین اپنے بیانات میں جھوٹے قصے، غیر مستند روایات اور موضوع روایات پیش کرتے ہیں، جنہیں علمائے کرام نے واضح طور پر غلط اور جھوٹا قرار دیا ہے۔ ان مقررین کی تقریریں دین کی اصل حقیقت سے دور ہوتی ہیں اور اس کا مقصد صرف اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنا ہوتا ہے، نہ کہ دین کی صحیح تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانا۔

اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ عوام ایسے مقررین کی باتوں کو سچ مان کر انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ جب لوگ ایسی جھوٹی روایات اور کہانیوں پر ایمان لاتے ہیں، تو یہ نہ صرف ان کی عقیدہ سازی میں غلط اثر ڈالتا ہے بلکہ دین کے پیغام کو بھی مسخ کرتا ہے۔

حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان قدس سرہ  نے ایسے مقررین کی نہ صرف شدید تنقید کی ہے بلکہ ان کے بارے میں ایک سخت وعید بھی بیان کی ہے۔ آپ فتاویٰ رضویہ (قدیم جلد: 9، صفحہ: 218) میں فرماتے ہیں: “روایات موضوعہ پڑھنا بھی حرام، سننا بھی حرام ہے۔ ایسی مجالس سے اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کمال ناراض ہیں۔ ایسی مجالس کے بانی، مقرر اور سامع سب غضبِ الٰہی کے مستحق ہیں۔” آپ کا یہ فرمان اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ جب کسی مقرر نے جھوٹے قصے یا موضوع روایات بیان کیں، تو نہ صرف اس مقرر کا گناہ ہے بلکہ اس جلسے میں شریک ہونے والے ہر فرد کا گناہ بھی اس پر آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی جلسہ ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں ہو اور اس میں جھوٹی روایات پیش کی جائیں، تو ان ہزاروں لوگوں کا گناہ جلسے کے منتظمین اور مقررین پر بھی آ جائے گا۔
امام اہل سنت  نے اس بارے میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ جھوٹی روایات اور قصے سننا یا ان کا پڑھنا صرف گناہ نہیں بلکہ یہ اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ یہ وہ سخت وعید ہے جو ایسے مقررین اور ان کے پیروکاروں کے لیے ہے جو عوامی محافل میں دین کی حقیقت کو چھپاتے ہیں اور جھوٹے قصے بیان کرتے ہیں۔
جلسے کے منتظمین کے لازم ہے کہ وہ محض عوامی تعداد بڑھانے کی بجائے دین کی صحیح تعلیمات کی ترویج کریں۔ اگر وہ ایسے مقررین کو بلاتے ہیں جو جھوٹے قصے اور موضوع روایات بیان کرتے ہیں تو وہ نہ صرف ان کی غلطی کے ذمہ دار ہیں بلکہ اس سے وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا اصل مقصد دین کی صحیح تعلیمات کو عوام تک پہنچانا ہے، نہ کہ لوگوں کو غلط عقائد میں مبتلا کرنا۔

مقررین کو بلانے والی کمیٹیاں اور مدارس نہ صرف اپنے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھاتی ہیں جو اس جھوٹی علم کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ جانتے ہیں کہ مقرر جھوٹ بول رہا ہے اور اس کے بیانات موضوع روایات پر مبنی ہیں، تو پھر انہیں ان مقررین کو مدعو کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
یہ بات نہ صرف مقررین اور منتظمین کے لیے ضروری ہے بلکہ عوام کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے جلسوں میں شرکت کرنے سے گریز کریں جہاں جھوٹے قصے اور غیر مستند روایات پیش کی جاتی ہیں۔ اگر عوام ان جلسوں میں شرکت کریں گے، تو وہ اس گناہ میں شریک ہوں گے جو ان جھوٹے مقررین کی باتوں کو سن کر ان کے پیروکار بنتے ہیں۔ امام اہل سنت  کے مطابق، جھوٹے مقررین کو سننا بھی گناہ ہے اور ایسی مجالس میں شرکت کرنا اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے دینی جلسوں اور محافل کو بہتر بنائیں۔ ہم نے ان محافل میں موجود مقررین کو اپنی اصلاح اور دین کی تعلیمات کی درست تشہیر کے لیے مدعو کرنا ہے۔ جلسوں میں مستند علمائے کرام کو بلانا ضروری ہے جو صحیح دینی معلومات فراہم کریں اور لوگوں کی عقیدے کی اصلاح کریں۔ جھوٹے مقررین کو بلانا بند کر دینا چاہیے تاکہ ہماری محافل دین کے حقیقی پیغام کو عام کر سکیں اور لوگوں میں دین کے بارے میں صحیح آگاہی پیدا ہو۔
دینی جلسوں کا اصل مقصد لوگوں میں صحیح علم دینا اور ان کی روحانی تربیت کرنا ہے، نہ کہ صرف عوامی سطح پر ہجوم اکٹھا کرنا۔ یہ صرف تب ممکن ہے جب ہم جلسوں میں مستند علمائے کرام کو بلائیں جو دین کی اصل حقیقت کو لوگوں تک پہنچائیں اور جھوٹے مقررین کو ان محافل سے باہر رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں شریعت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
م۔ع۔الازہری