اگر کوئی علمی اختلاف تھا بھی تو کیا اسکو طے کرنے کا یہ طریقہ کار ہونا چاہئیے تھا۔ ؟؟؟ جو کل ہم نے دیکھا
جن کا نام نامی اسم گرامی لیتے وقت دل بھی جھکانا پڑتا ہے اور آنکھیں بھی کیا انکی ذات پر اس طرح مجلسوں اور چوراہوں میں مناظرے ہونے چاہئیے تھے۔۔۔۔ ہم تو ہر طرف چارسُو ہمیشہ یہ نغمہ الاپتے رہے کہ ہم ہی ادب والے ہیں۔۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہمیں ۔۔۔ کس کی نظر لگ گئی
یقین مانیں میں تو کل سے ایک عجیب حیرانی اور پشیمانی میں مبتلا ہوں ۔۔۔ کہ ہم میں اب کوئی بھی نہ صاحب نظر کہیں دکھائی دے رہا ہے اور نہ کوئی صاحب بصیرت۔۔۔۔ ہر کسی کو اپنی ذاتی برتری اور شہرت چاہئیے اور کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ بہت ساری رکاوٹیں اور خندقیں دو قدم پیچھے ہٹ کر عبور کی جاتی ہیں مگر جب ضد،انا، شہرت اور جاہ پرستی فطرت اور شخصیت میں رچ بس جائے ۔ یہ پاؤں سے لپٹ جاتی ہیں اور انسان کےلئے ایک قدم بھی سنبھل کر چلنا مشکل ہو جاتا ہے
اس مسئلے کو تنہا بیٹھ کر بغیر ہجوم لگائے بھی حل کیا جا سکتا تھا ۔اس قضیے پر ایک کمرے میں کیمروں کے بغیر بھی بات ہو سکتی تھی۔ اس معاملے کو آپس میں بغیر دنیا کو دکھائے بھی طے کیا جا سکتا تھا  مگر برا ہو اس سستی شہرت کا ۔ ستیاناس ہو ذاتی تشہیر اور برتری کا بیڑا غرق ہو نام نہاد علمی فوقیت دکھانے کا اور غرق ہو غرور و تکبر کا کہ جس نے آج اس عالی شان اور پروقار جماعت کو رسوائی کی اس عمیق  کھائی میں پھینک دیا

وائے ناکامی؛ متاع کارواں جاتا رہا
                    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

جتنی پاکیزہ اور عفت مآب ہستی ہیں وہ۔۔۔۔۔۔ ان پر بات کرنے کےلئے اتنے ہی آداب بھی ضرورت ہیں ۔ اس پیکر تطہیر پر گفتگو کرتے وقت تو زبان و کلام کو طاہر، مطہر ، پاکیزہ و مصفہ ہونا چاہئیے۔ لہجوں کو شستہ اور آواز کو دھیمہ رکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔ بھائی بات کس شخصیت پر کر رہے ہیں وہ جو راحت سرور کونینﷺ ہیں۔ وہ جو عزت و عصمت علی المرتضی فاتح بدر و حنین ہیں وہ جو ام الحسنین ہیں وہ جو ملکہ کونین ہیں ۔۔۔۔ 
کل سارے جیتے ہیں سب جشن منا رہے ہیں ہارا کوئی نہیں ۔ اگر کوئی ہارا ہے تو ایمان ہارا ہے ،محبت ہاری ہے عقیدت ہاری ہے ہماری وحدت ہاری ہے ہمارا بھرم ہارا ہے ہمارا دھرم ہارا ہے ۔۔۔۔ ہماری خوش عقیدگی ہاری ہے ہماری فکر کی بالیدگی ہاری ہے
اللہ پاک ہمیں ہدایت و فراست عطا فرمائے آمین ثم آمین
پیر سید اسد اللہ شاہ غالب
سجادہ نشین آستانہ عالیہ چُورہ شریف