*حضرت مولانا کمال احمد علیمی نظامی کا بہترین تبصرہ *
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
زیر نظر تصویر اگر صحیح ہے تو اس سے اندازہ لگائیں کہ ہمارا فریق مخالف ہمیں زیر کرنے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے،بڑی چابک دستی کے ساتھ اہل علم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اہل سنت وجماعت کے “امام ومقتدی” حدیث کی قوت وضعف اور اس کی صحت وسقم سے نابلد تھے،یہاں تک انہوں نے موضوع روایات کو بھی مستدل بنالیا،یہ ایک بہت بڑی سازش ہے، اس کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ امام اہل سنت کی علمی جلالت کو مجروح کرکے اہل سنت کو ارباب علم وتحقیق کے مابین ایک کم علم، بے شعور، اور تحقیق وتفحص سے عاری فرقہ ثابت کیا جائے،اگر یہ تصویر فرضی نہیں تو ہم اہل سنت کو اس سے متنبہ ہوکر اس پہلو پر سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے.
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امام اہل سنت کا علمی قد اتنا اونچا ہے کہ کوئی معاند وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتا، اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلم حقیقت رقم کو اس طرح کی کمیوں کوتاہیوں سے پاک رکھا ہے،فن حدیث میں آپ کی تحقیق اہل علم وفضل کے لیے حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے،آپ کے فتاوی قوی اور صحیح احادیث سے مبرہن ہیں، علم حدیث میں آپ کی علمی لیاقت مسلم ہے، راویان حدیث پر جرح وتعدیل میں مہارت تامہ رکھتے ہیں،آپ کے دور میں معرفت رجال، روایت حدیث، درایت سنت اور فقہ حنفی کی مستدل روایات کے استحضار میں آپ کا کوئی ہم پلہ نظر نہیں آتا،محدث اعظم ہند ،حضرت علامہ سید محمد اشرف کچھوچھوی کے بقول :علم الحدیث کا اندازہ اس سے کیجئے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی ماخذ ہیں ہر وقت پیش نظر، اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پر بظاہر زد پڑتی ہے ، اس کی روایت ودرایت کی خامیاں ہر وقت ازبر۔ علم حدیث میں سب سے نازک شعبہ علم اسماء الرجال کا ہے۔ اعلی حضرت کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو ہر راوی کی جرح و تعدیل کے جو الفاظ فرما دیتے، اٹھا کر دیکھا جاتا تو تقریب و تہذیب اور تذہیب میں وہی لفظ مل جاتا ، اسکو کہتے ہیں علم راسخ اور علم سے شغف کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت.(مقدمہ جامع الاحادیث)
میرے محدود مطالعہ کے مطابق اس فن میں امام اہل سنت کی تصنیفات وتالیفات کی تعداد پچاس سے زائد ہے، جن میں سے اکثر عربی زبان میں ہیں، فتاوی رضویہ شریف میں مستدل احادیث کی تعداد ہزاروں میں ہے، ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء
ایسے جلیل القدر امام حدیث بلکہ امیر المومنین فی الحدیث پر اس طرح کے رکیک حملے کرکے معاندین خود اپنی فضیحت کروائیں گے ،اس کا جواب دینے کے لئے کوئی نہ کوئی ضرور کھڑا ہوگا، حاسدین کو اپنی حرکت مذبوحی پر ضرور افسوس ہوگا. ان شاء اللہ تعالیٰ.
“امام احمد رضا اور علوم حدیث” کے عنوان سے ناچیز نے بہت پہلے ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا، جو عربی اردو دونوں زبانوں میں شائع ہوئی تھی،ان شاء اللہ تعالیٰ جلد ہی وہ تحریر پھر سے منظر عام پر لائی جائے گی، امام اہل سنت کی عبقریت فی الحدیث کا اندازہ لگانا ہو تو حضرت مولانا محمد عیسی رضوی صاحب کی کتاب “امام احمد رضا اور علم حدیث”، حضرت مولانا محمد حنیف رضوی بریلوی کی تالیف “جامع الاحادیث”، فیض ملت مفتی محمد فیض احمد اویسی کی کتاب “امام احمد رضا اور علم حدیث” کے ساتھ امام اہل سنت کی یہ کتابیں ضرور مطالعہ فرمائیں :(١)منیر العینین فی حکم تقبیل الابھامین(٢)الھاد الکاف لاحادیث الضعاف(٣)حاجز البحرین(٤)مدارج طبقات الحدیث(٥)الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی۔

*کمال احمد علیمی نظامی*
دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
٢٩ جمادی الآخرۃ ١٤٤٦ھ/یکم جنوری ٢٠٢٥ء