جنگ نہروان (جنگِ نہروان) 659 عیسوی (38ہجری) میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خوارج کے درمیان ہوئی۔ یہ جنگ اس وقت لڑی گئی جب خوارج نے حضرت علیؓ کی خلافت کو چیلنج کیا اور آپ کے خلاف بغاوت کر دی۔ جنگ نہروان خوارج کے ساتھ آخری معرکہ تھا جس میں حضرت علیؓ کی قیادت میں مسلمانوں نے ان بغاوت کرنے والوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی۔

جنگ نہروان میں شامل افراد:

1. حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج:

حضرت علیؓ کی قیادت میں مسلم فوج میں آپ کے وفادار سپہ سالار، جنگجو اور صحابہ شامل تھے جنہوں نے آپ کے ساتھ جنگ میں شرکت کی۔ ان میں حضرت علیؓ کے قریبی ساتھی اور اہم جنگجو جیسے:

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ (جو جنگِ بدر اور دیگر جنگوں میں شریک ہوئے تھے)

حضرت قیس بن سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ

مالک اشتر نخعی (جو حضرت علیؓ کا اہم سپہ سالار تھا)

2. خوارج:

خوارج وہ گروہ تھے جنہوں نے حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت کی اور جنگ نہروان میں شامل ہوئے۔ خوارج کا تعلق ابتدائی طور پر حضرت علیؓ کے حمایتیوں میں سے تھا، لیکن جنگ صفین میں حضرت علیؓ کی صلح کی پیشکش کے بعد انہوں نے آپ کی مخالفت شروع کی اور اس کے نتیجے میں وہ علیؓ کے مخالف گروہ بن گئے۔ خوارج کی قیادت عبداللہ بن وهب الراسی نے کی، اور ان کا موقف یہ تھا کہ خلافت صرف اللّٰہ کے حکم سے ہے نہ کہ کسی بھی قسم کے سمجھوتے یا صلح کے ذریعے۔

جنگ نہروان کا پس منظر:

جنگ نہروان اس وقت ہوئی جب خوارج نے جنگ صفین کے بعد حضرت علیؓ کے  تحکیم(ثالثی) کے فیصلے کو قبول نہ کیا اور صلح کو اپنے اصولوں کے خلاف سمجھا۔ جب حضرت علیؓ نے حضرت معاویہ سے صلح کی پیشکش کی تھی، تو خوارج نے اسے “کفر” قرار دیتے ہوئے آپ کے خلاف بغاوت کر دی اور نہروان میں آپ کے خلاف صف آرا ہوئے۔

نتیجہ:

جنگ نہروان میں حضرت علیؓ کی فوج نے خوارج کو شکست دی۔ اس جنگ کے بعد خوارج کا ایک حصہ فرار ہو گیا، جبکہ باقی افراد کو جنگ میں قتل کر دیا گیا۔ حضرت علیؓ نے ان کے ساتھ انصاف کے اصولوں کے مطابق سلوک کیا، اور آپ نے ان کی حوصلہ شکنی کی جو دین کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرتے تھے۔

اس جنگ کا ایک اہم سبق یہ تھا کہ حضرت علیؓ نے اپنی قیادت میں اسلامی اصولوں کی پیروی کی اور فتنہ و فساد کے خلاف جنگ کی، اور اس میں اپنی رعیت کے مفاد کو مقدم رکھا۔