حضرت ابوبکر صدیقؓ کے آزاد کردہ غلاموں کے نام
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کئی غلاموں کو اللہ کی راہ میں آزاد کیا، جو اسلام قبول کرنے کے بعد کفار کے ظلم و ستم کا شکار تھے۔ ان کی آزادی کے لیے حضرت ابوبکرؓ نے اپنے مال کو بے دریغ خرچ کیا۔ یہ ان کے تقویٰ، سخاوت، اور اسلام کے لیے بے لوث محبت کی عظیم مثال ہے۔
—
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے آزاد کردہ غلاموں کے نام:
1. حضرت بلال حبشیؓ:
کفار مکہ کے ہاتھوں سخت اذیتیں جھیلنے والے مشہور صحابی تھے۔
امیہ بن خلف نے ان پر پتھر رکھ کر ان سے اسلام چھوڑنے کا مطالبہ کیا، لیکن وہ “أحدٌ أحدٌ” کہتے رہے۔
حضرت ابوبکرؓ نے بھاری قیمت ادا کرکے انہیں آزاد کیا۔
2. حضرت عامر بن فہیرہؓ:
ایک مظلوم غلام تھے، جو حضرت ابوبکرؓ کے آزاد کردہ غلاموں میں شامل ہیں۔
انہوں نے ہجرت کے وقت حضرت ابوبکرؓ اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی اور غزوۂ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔
3. حضرت زنیرہؓ:
ایک خاتون غلام تھیں، جنہیں اسلام قبول کرنے کے بعد شدید اذیتیں دی گئیں۔
کفار کے ظلم سے بچانے کے لیے حضرت ابوبکرؓ نے انہیں آزاد کیا۔
مشہور ہے کہ ان کی بینائی چلی گئی تھی، لیکن اللہ کے حکم سے دوبارہ لوٹ آئی۔
4. حضرت نہدیہؓ اور ان کی بیٹی:
یہ دونوں غلام خواتین تھیں، جنہیں اسلام قبول کرنے کے بعد اذیت دی گئی۔
حضرت ابوبکرؓ نے انہیں خرید کر آزاد کیا۔
5. حضرت ام عبیسؓ:
ایک خاتون غلام تھیں، جنہیں کفار نے اسلام قبول کرنے پر سخت سزائیں دیں۔
حضرت ابوبکرؓ نے انہیں آزاد کیا۔
6. حضرت ابو فکیہؓ:
یہ ایک غلام تھے، جنہیں کفار نے اسلام لانے پر سخت سزا دی۔
حضرت ابوبکرؓ نے انہیں آزاد کر کے ان کی زندگی کو محفوظ کیا۔
—
حضرت ابوبکرؓ کے جذبے کی تعریف:
حضرت ابوبکرؓ نے اپنی دولت سے تقریباً 7 غلاموں کو آزاد کیا، جو اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لانے والے مظلوم مسلمان تھے۔
ان کے والد، حضرت ابو قحافہؓ، نے ان سے کہا:
“تم ان غلاموں کو آزاد کرتے ہو، جن سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔”
اس پر حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا:
“میں یہ اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہوں۔”
—
قرآن میں ان کی مدح:
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکرؓ کے ان اعمال کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
> “وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى وَلَسَوْفَ يَرْضَى”
(سورہ اللیل: 17-21)
یہ آیات حضرت ابوبکرؓ کی سخاوت اور تقویٰ کی نشاندہی کرتی ہیں۔
—
نتیجہ:
حضرت ابوبکرؓ کے آزاد کردہ غلام ان کے ایمان، قربانی، اور اسلام کے لیے غیر معمولی محبت کی علامت ہیں۔ ان کے یہ اعمال اسلام کے ابتدائی دور میں مظلوم مسلمانوں کے لیے بڑی سہارا بنے اور ان کی شخصیت کو عظمت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔