ہمارے قارئین کئی بار غلط فہمی کے شکار ہو جاتے ہیں اور سیدی و سندی شیخ الحدیث مولانا ابو محمد، محمد عبد الرشید قادری  رضوی علیہ الرحمہ اور حضرت مولانا محمد عبد الرشید رضوی جھنگوی علیہ الرحمہ میں فرق نہیں سمجھتے۔ کئی تحاریر پر ایسے ہی کمنٹس دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ دونوں بزرگ حضرت محدث اعظم پاکستان کے شاگرد ہیں، لیکن ہمارے شیخ علیہ الرحمہ کا تعلق سمندری سے ہے، جھنگ سے نہیں۔  آج پہلی بار سیدی علیہ الرحمہ کی واحد دستیاب فوٹو شئیر کر رہا ہوں۔ یہ تصویر بھی مدینہ منورہ حاضری کے لیے ویزہ کی ضرورت تھی اسی لیے بنائی گئی۔ آپ کی چند اور تصاویر ڈڈیال، آزاد کشمیر میں لی گئی تھین جو اب میرے پاس نہیں ہیں۔ کسی کے پاس ہوں تو ارسال فرما دیں۔  مختصر تعارف درجِ ذیل ہے۔

آپ کا اسم گرامی محمد عبد الرشید، کنیت ابو محمد اور آپ کے والدِ گرامی کا نام صوفی دین محمد علیہ الرحمہ تھا۔ آپ کے والد صاحب حضرت مولانا محمد سردار احمد محدث لائل پوری کے پیر بھائی بھی تھے۔ آپ کا سالِ ولادت ۱۳۴۸ ہجری ہے، گورداسپور (ہند) میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۷ میں ہجرت کی۔
آپ سے متعلق ذاتی معلومات کئی برس قبل شئیر کی تھیں، شاید وہ مضمون کہیں نہ کہیں سوشل میڈیا پر موجود ہو گا، یا کسی میرے اپنے نیک بخت نے میرا نام ہٹا کر اپنے نام سے چھاپ رکھا ہو گا، یہاں آپ کی دینی، علمی و مسلکی معلومات پیش کرتا ہوں۔
آپ نے قصدا دنیا ترک کی، مال، وسائل، روزگار چھوڑا اور علم دین کے حصول کے لیے شیخ الحدیث مولانا محمد سردار احمد علیہ الرحمہ کے پاس لائل پور (فیصل آباد) حاضر ہو گئے، تقریبا گیارہ برس حضرت محدث لائل پوری کی خدمت میں گزارے۔ حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی بدایونی گجراتی کے مشورہ و طلب پر آپ کو تبلیغ دین کے لیے شکر گڑھ بھیجا گیا۔ شکر گڑھ میں قیام کے دوران ہی ایک بار آدھی رات عید کا چاند چڑھانے پر فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان کا فیصلہ قبول نہ فرمایا اور لوگوں کی شرعی رویت کے مطابق روزہ رکھنے کے لیے رہنمائی فراہم کی۔ اس علاقے میں  اہل السنہ کو آپ کی عطا کردہ فکری مضبوطی کی وجہ سے آج تک سُنی مسلمان غالب ہیں۔

بعد ازاں آپ نے اپنی زندگی کا کچھ وقت لاہور، گوجرانوالہ میں بھی گزارا اور زندگی کی آخری تین دہائیاں سمندری، ضلع فیصل آباد میں گزارے۔ سمندری میں آپ نے درس گاہ قائم کی، جس کا نام دار العلوم غوثیہ رضویہ مظہر اسلام رکھا۔ یہاں مروج درس نظامی کے علاوہ سال میں دو بار دورہ تفسیر و حدیث ہوتا، جس کا بنیادی مقصادی فرض علوم، عقائد اور فقہ کی تعلیم عام کرنا تھا۔ گرمیوں میں چالیس روز اور پھر شعبان کی بیس سے انتہائے رمضان تک۔ اس دورے میں علماء و مشائخ، خواص و عوام سب شریک ہوتے اور ہزار ہا طلباء و طالبات فیض یاب ہوئے۔
عقائد، حدیث اور اصلاحِ معاشرہ آپ کی خصوصی دلچسپی کے موضوعات تھے۔ ۱۹۹۰ کے آس پاس جب دعوت اسلامی پنجاب کے حالات بگڑے تو مولانا محمد الیاس قادری صاحب پنجاب گئے تھے۔ حضرت صاحب نے نہ صرف ان کا مکمل ساتھ دیا بلکی رات بھر ان کے ساتھ سفر کیا اور اپنے محبین کو دعوتِ اسلامی سے جوڑا۔ مولانا الیاس قادری صاحب خود فرماتے ہیں کہ میں نے پہلی ملاقات پر عرض کیا کہ شاید ہماری پہلے بھی ملاقات ہو چکی ہے اور پہلی ملاقات میں آپ نے “قراقلی” پہنی ہوئی تھی۔ آپ علیہ الرحمہ نے لاحول پڑھا اور فرمایا فقیر اس مسنون عمامے کے علاوہ کچھ بھی سر پر نہیں سجاتا۔ آپ نے دعوتِ اسلامی کو ہر اعتبار سے مدد پہنچی، یہاں تک کے دار العلوم میں واقع مسجد میں روزانہ دعوت اسلامی کے نصاب سے تبلیغ ہوتی تھی۔
آپ نے ساری زندگی انتہائی سادہ لباس، سادہ طعام اور ایک حجرے میں وقت گزارہ۔ اولیاء کے ساتھ خصوصی محبت، بالخصوص جمعرات کو سیدنا علی ہجویری داتا دربار اور فیصل آباد سے گزرتے ہوئے اپنے شیخ، استاذ و رہبر مولانا سردار احمد رحمہما اللہ کے مزارات پر بکثرت حاضر ہوتے۔
آپ دنیوی معاملات سے اس قدر دور تھے کہ کسی سیاسی لیڈر، وزیر مشیر وغیرہ کے ہاں کبھی نہیں گئے اور نہ ہی انہیں کبھی اپنے آستانے پر دعوت دی۔ کبھی کسی سے سفارش نہیں کروائی اور نہ ہی کسی دنیا دار کو اپنا کوئی کام کہا۔ اربابِ حل و عقد کی خواہش کے باوجود آپ نے خود کو دنیا سے دور رکھا۔ آپ حد درجہ صاف گو، کھرے، غیرت مند، با حیاء اور ایمان دار انسان تھے۔ آپ کی سچائی اور کردار کی شفافیت کی وجہ سے رب تعالٰی نے لوگوں کے دلوں میں آپ کا رعب و عزت بڑھا دی تھی۔ آپ کے چہرے پر جلالت، رعب، چمک اور نورانیت کا یہ عالم تھا کہ آپ کی زیارت بھی ذریعہ ہدایت تھے۔
آپ کے ہم عصر علماء نے آپ کے متقی، پرہیز گار، کامل ولی اور اپنے علم پر عامل ہونے کی گواہیاں دیں۔ شیخ الحدیث مفتی عبد القیوم ہزاری، شیخ الحدیث مولانا غلام رسول رضوی، شرف ملت علامہ عبد الحکیم شرف قادری، نباض قوم مولانا ابو داوٴد محمد صادق رضوی رحمہم اللہ اجمعین سمیت درجنوں مشائخ آپ کے تقوٰی و تزکیہ کی وجہ سے آپ کے ساتھ محبت فرماتے۔
آپ علماء کے ساتھ خصوصی محبت فرماتے۔ ہم نے انہیں ضعف کے باوجود دین کی خاطر مسلسل سفر کرتے دیکھا۔ مولانا محمد ضیاء اللہ  قادری سیالکوٹی، پیر سید محفوظ الحق شاہ بورے والا، مولانا الحاج ابو داوٰد محمد صادق رضوی، برکة العصر استاذ حافظ عبدالستار سعیدی، شرف ملت علامہ عبد الحکیم شرف قادری، شہزادگان محدث اعظم، مولانا فیض احمد اویسی محدث بہاولپوری، مولانا محمد حسن علی رضوی میلسی، ساداتِ علی پور شریف سمیت متعدد ایسے مشائخ کا استقبال کے مناظر ہم نے دیکھے کہ آپ علیہ الرحمہ بستر پر آرام فرما ہوتے، ان کی آمد کی خبر سن کر فورا کھڑے ہو جاتے، معانقہ فرماتے اور سادات کی دست بوسی فرماتے۔
آپ اپنے حجرے میں ضروری آرام کے بعد مطالعہ میں مصروف رہتے، عصر اور عشاء کے بعد درسِ حدیث ہوتا۔ صحاح کے علاوہ قاضی عیاض اور امام سیوطی ان کے فیورٹ بزرگ تھے اور کلامِ رضا تو حفظ تھا۔ ان کے بعد استاذ خادم صاحب علیہ الرحمہ ہی ایک ایسے شخص گزرے ہیں جو کلامِ رضا اس قدر روانی سے پڑھتے تھے۔

آپ علیہ الرحمہ نے ساری زندگی گاڑی سکوٹر وغیرہ نہیں رکھا، پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کیا، وہ بھی عام مسافر کی طرح، کبھی سمندری سے لاہور تک کھڑے ہو کر بھی بس میں گزارا کیا تو کبھی لاری اڈے پر کھڑے ہو کر طویل انتظار بھی۔ آپ نے اپنے چاروں صاحبزادوں کو روایتی پیری مریدی سے کوسوں دور رکھا۔ وقتِ وصال آپ کے ترکہ میں کوئی کیش، بینک بیلنس، پلاٹ، زمین، گاڑی حتٰی کہ دو پہیوں والی کوئی سائکل بھی نہ تھی۔ لیکن آپ نے اپنی وراثت میں ہزار ہا ایسے مسلمان چھوڑے جو اچھے مسلمان ہیں۔

میری فکری سلامتی میں اسی شیخ کامل کی توجہ و تربیت شامل ہے ورنہ عباد النفوس والفلوس کے حلقات میں رہتے ہوئے ابن الوقتی سے بچنا کب ممکن تھا۔ یہ دعوٰی رہے گا، تمغہ سینے پر سجا رہے گا اور ماتھے کا جھومر بنا رہے گا کہ ہمارا در ایک ہی ہے اور اس کی دریوزہ گری کی وجہ  سے ہی سب عطا ہوا ہے۔ ہم نے بریلی و مارہرہ بھی اپنے شیخ ہی کی برکت سے دیکھا ہے۔

اللہ تعالٰی آپ کی قبر شریف پر بے حساب رحمتوں کا نزول فرمائے۔

محمد افتخار الحسن رضوی
۱۰ رجب ۱۴۴۶ بمطابق ۱۰ جنوری ۲۰۲۵