ایک وضاحت۔۔!!!

کچھ عرصہ پہلے میں اشرف علی تھانوی کا حفظ الایمان کی متنازعہ عبارت سے اسکی توبہ و رجوع مانتا تھا کیونکہ اس کا رجوع سیدنا پیر مہر علی شاہ علیہ الرحمہ کے مرید خاص غلام محمد گھوٹوی نے بیان کیا تھا [شخصیت و افکار شیخ الاسلام محدث گھوٹوی، ص ٣٠٨]
لیکن مزید اس میں تین سال گہری تحقیق کی تو یہ پتہ چلا کہ اگر واقعی تھانوی صاحب نے رجوع کر لیا تھا تو یہ بات مرتضی حسن چاندپوری دیوبندی کو کیوں پتہ نہیں چلی؟؟ جب کہ اسی مرتضیٰ حسن دیوبندی کے سوال پر تھانوی صاحب نے تو اپنی عبارت کے دفاع میں بسط البنان لکھی لہذا یہ رجوع و توبہ والی بات بالکل جھوٹی ہے۔
باقی رہا غلام محمد گھوٹوی صاحب کا رجوع لکھنا پہلی بات تو یہ ہے ان کا تعلق تھانوی صاحب سے گہرا نہیں تھا نہ ہی یہ ان کے شاگرد خاص تھے اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی گہری صحبت کے آثار ملتے ہیں۔
جہاں تک مجھے لگتا ہے یہ کس نے ان کی کتاب میں یہ مواد ملایا ہے کیونکہ تھانوی صاحب کی توبہ و رجوع جو ان کے شاگرد اور ان کی گہری صحبت رکھنے والے ہیں ان سے ہرگز نہیں ملتا۔
اس لیے تھانوی صاحب کی توبہ و رجوع ہرگز ثابت نہیں۔ لہذا جو میں تھانوی صاحب کے رجوع و توبہ کا قائل تھا، اب میں اس کا ہرگز قائل نہیں ہوں۔ لہذا اب میرا تھانوی صاحب کے بارے میں پرانا موقف ہی ہے یعنی تکفیر والا۔ اسی طرح تھانوی صاحب کے ذریعے میں قاسم نانوتوی صاحب کے رجوع کا قائل تھا جو اس نے تحذیر الناس سے اس کی توبہ و رجوع کی بات لکھی [ملفوظات حکیم الامت ج ٤، ص ٣٣٧] اب وہ بھی ساقط ہوگئی کیونکہ اس کو بیان کرنے والے راوی کی عدالت ہی پہلے سے ساقط ہے تو اس کے رجوع و توبہ کی روایت کو کیسے تسلیم کیا جائے؟؟؟
واللہ اعلم

✍️ رضاءالعسقلاني غفرالله له
     ٢٢ رمضان المبارك ١٤٤٦ھ