عرض یہ ہے کہ انجینئر محمد علی مرزا صاحب نے جھوٹ بولنے کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ کتابیں کھول کر اعتراضات کی بھرمار کرنا بہت آسان ہے، تحقیق کرنا بڑا مشکل کام ہے۔
پہلی بات: اس بارے میں عرض یہ ہے کہ مرزا صاحب نے جو اس عبارت میں صحو کے معنی ہوش اور سکر کے معنی مدہوشی کے کئے ہیں وہ سیاق و سباق سے ہٹ کر اور فریب کاری سے کیا ہے کیونکہ داتا حضور نے اس عبارت میں کسی بھی جگہ حالت صحو اور حالت سکر کے معنی نہیں کئے جبکہ بریکٹ () میں اس کے دیئے ہوئے معنی بالکل غلط ہیں اور مرزا صاحب کی تحریف اور اضافہ جات ہیں۔
دوسری بات: حضرت داؤد علیہ السلام کی عبارت نقل کرنے سے پہلے حضور داتا صاحب حالت صحو اور حالت سکر کی تعریف حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ سے کچھ یوں کرتے ہیں اور جن لوگوں نے سکر کو صحو سے افضل سمجھا ہے ان میں سے حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ اور ان کے متبعین ہیں ۔ وہ(حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ) کہتے ہیں کہ صحو صفيت آدمیت پر تمکین و اعتدال کی صورت پیدا کرتا ہے اور یہ اللہ تعالی سے حجاب اعظم ہے۔۔۔۔۔ اور سکر آفت کے زائل ہونے، صفات بشریت میں نقص آنے، بندے کے اختیار و تدبیر کے چلے جانے، معنوی بقاء کے ساتھ حق تعالیٰ میں بندے کے تصرفات کے فنا ہونے اور اس کے قوت کے فنا ہونے سے جو بندے میں اس کی جنس کے خلاف ہے، سے حاصل ہوتی ہے اور یہ حالت صحو سے زیادہ بلیغ زیادہ تام اور زیادہ کامل ہوتی ہے۔
چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام حالت صحو میں تھے تو ان سے ایک فعل صادر ہوا جسے حق تعالیٰ نے ان سے منسوب کر دیا اور فرمایا ” وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ (سوره بقره آیت 251) اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا اور مصطفی ﷺ حالت سُکر میں تھے چنانچہ ایک فعل آپ ﷺ سے صادر ہوا تو حق تعالیٰ نے وہ فعل اپنی طرف منسوب فرما لیا۔۔۔۔ قوله تعالی۔۔۔۔  وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى
(سورہ انفال آیت 17)
“اور آپ نے کنکریاں نہیں پھینکی جب آپ نے پھینکی لیکن وہ تو اللہ نے پھینکیں۔”
پس دیکھئے کہ بندے( نبی پاک ﷺ ) کا بندے(حضرت داؤد علیہ السلام) کے درمیان کتنا فرق ہے۔ ایک بندہ( حضرت داؤد علیہ السلام ) جو اپنے وجود میں قائم تھا اور اپنی صفات سے ثابت اس کے متعلق ارشاد ہوا کہ تم نے قتل کیا یہ اس کی کرامت کا اظہار تھا اور ایک وہ بندہ( نبی پاک ﷺ) ہے جو حق تعالیٰ کے ساتھ قائم رہتا تھا اور اپنی صفات سے فانی ہو چکا تھا۔ اس فعل کو(اللہ تعالیٰ نے) اپنا فعل فرمایا اور کہا کہ جو کچھ (آپ ﷺ نے) کیا ہم نے کیا۔
پس بندے کے فعل کی نسبت خدا تعالی کے ساتھ ہونا اس نسبت سے بہتر ہے جو حق تعالیٰ کے فعل کی نسبت ہو اور بندے سے کی جائے ۔ جب حق کے فعل کی نسبت بندے کے ساتھ ہو تو بندہ اپنے وجود کے ساتھ قائم ہوتا ہے اور جب بندے کے فعل کی نسبت حق تعالیٰ سے ہو تو حق تعالیٰ سے قائم ہوتا ہے۔ جب بندہ اپنے وجود کے ساتھ قائم ہوتا ہے تو اس کی حالت وہی ہوتی ہے جو داؤد علیہ السلام کی تھی۔ ان کی نظر اس جگہ پڑی۔ (کشف المحجوب ص 230 کرمانوالہ بک شاپ)
اے میرے مسلمان بھائیو! اس عبارت میں کسی جگہ صحو کی تعریف میں حالت ہوش اور سُکر کی تعریف میں حالت مدہوشی نہیں لکھا مگر مرزا صاحب نے اس عبارت میں اپنا ترجمہ گھسیڑنے کی جو ہمت کی ہے اللہ تعالیٰ سے وہ اس تبدیلی کی معافی مانگیں اور اس عبارت پر اعتراض کرنے سے رجوع کریں۔
تیسری بات : حضور داتا صاحب نے کشف المحجوب میں سکر و صحو کے باب کے بالکل شروع میں لکھا ہے۔ اگر مرزا صاحب اس عبارت کو ہی پڑھ لیتے تو ایسا اعتراض کرنے کی جسارت نہ کرتے۔ حضور داتا صاحب فرماتے ہیں۔
جان لے اللہ تعالیٰ تجھے سعادت دے کہ سکر و غلبہ کو ارباب معانی نے اللہ تعالیٰ کے غلبۂ محبت سے عبارت کیا ہے اور صحو حصولِ مراد سے عبارت ہے۔ اہل معانی نے ان کے بارے میں خاص سخن زنی کی ہے۔ (کشف المحجوب ص 230 کرمانوالہ بک شاپ)
اس باب کے اختتام پر داتا صاحب نے پھر صحو اور سکر کی اقسام بھی بیان کی ہیں۔ اگر مرزا صاحب ان اقسام کی بحث ہی پڑھ لیتے تو ہوش اور مدہوشی والا ترجمہ اپنی طرف سے نہ کرتے۔