سندھ میں ایک معلون ڈاکٹر شاہ نواز  نے سوشل میڈیا پر گستاخی کی۔ گستاخی کیس میں پولیس نے اس کو موبائل فون سمیت گرفتار کرلیا۔ موبائل میں آئی ڈیز لوگن تھیں تمام پیغامات موبائل سے ہوئے تھے۔ پولیس کو اس کے موبائل سے ناقابل تردید شواہد مل چکے تھے۔
پولیس اسے لے کر جا رہی تھی اس کے ساتھیوں نے اسے چھڑانے کے لیے حملہ کردیا اور اس حملے میں ڈاکٹر شاہ نواز مارا گیا۔ معاملہ عدالت تک نہیں پہنچا۔ اس کے بعد اسلام اور پاکستان دشمن تمام لبرل، سیکولر۔ قوم پرست، لامذہب نکل آئے کہ ظلم ہو گیا۔ ایک ہنگامہ کھڑا کردیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ کرین پارٹی کا بے گناہ کارکن شہید کردیا گیا۔ یہاں تک کہ اعلیٰ پولیس افسران تک کو معطل کروایا گیا۔ اور مقدمات قائم ہوئے۔

تازہ خبر یہ ہے کہ بہاولپور میں ایک بچی کا ریپ اور قتل ہوا۔ چار ملزمان گرفتار ہوئے۔ جس میں دو سگے ماموں بھی شامل تھے۔ پولیس کو ناقابل تردید شواہد مل گئے۔ بلکل ہو بہو ڈاکٹر شاہ نواز قتل کی طرح کا ایک مقابلہ ہوا ملزمان کے ساتھی انھیں چھڑانے کے لیے آئے اور وہ چاروں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ یہاں بھی معاملہ عدالت تک نہیں پہنچا۔
پولیس کی تحویل میں ملزمان کا قتل ہونا پاکستان میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں سنہ 2019 سے لے کر سنہ 2024 کے درمیان پولیس مقابلوں میں کم از کم 550 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں سے اکثریت ان افراد کی تھی جو سنگین جرائم میں ملوث تھے۔
صوبہ سندھ میں اسی عرصے کے دوران پولیس مقابلوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔
عموماً اس طرح کے واقعات میں ایف آئی آر میں مقام، تاریخ اور ملزم کا نام بدلنے کا علاوہ باقی عبارت لگ بھگ ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔
ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟
فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل بشارت اللہ خان کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار ہی پراسیکوشن میں تعینات ہوتے ہیں اور سنگین نوعیت کے مقدمات کا چالان بھی انھوں نے بنانا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کمزور پراسیکوشن کی وجہ سے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے عدالتوں سے رہائی ملنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اس لیے مبینہ طور پر ’پولیس مقابلے‘ پر انحصار کیا جاتا ہے۔(بی بی سی)

چاہے کوئی گستاخ ہو یا اللہ کی حدود کو پامال کرنے والا زانی یا قاتل ہمیں کسی مجرم سے کوئی ہمدردی نہیں۔
ہمارا سوال تو یہ ہے کہ پاکستانی قانون کے مطابق قتل کی سزا بھی موت اور گستاخی کی سزا بھی موت ہے۔ اور عدالتی کاورائی سے پہلے دونوں ملزمان کا قتل غیر قانونی ہے۔
لبرل، سیکولر، قوم پرست، لامذہب، فارن فنڈڈ اسلام اور پاکستان دشمن این جی اوز اور ان کے کارندے ریپ اور قتل کے چار ملزمان کے ماورائے عدالت قتل پر احتجاج کب کر رہے ہیں؟
یہ ہر گز نہیں کریں گے،
اس لیے کہ ان لوگوں کے نزدیک قتل اور ریپ تو جرم ہے لیکن گستاخی جرم نہیں ہے۔ درحقیقت ان کے دلوں میں اسلام دشمنی ہے اور یہ اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔

شعیب مدنی
3 اپریل 2025