واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں
مرزے انجینئر نے اپنے تحقیقی مقالے بنام “واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں”(حالانکہ اس میں ضعیف روایات بھی شامل ہیں) روایات کی تحکیم کیلئے جہاں اپنے بابے البانی اور زبیر علی زئی کی مدد لی ، وہیں اسی کلاس کے ایک اور کارکن “غلام مصطفی ظہیر امن پوری ” سے بھی مشکل کشائی حاصل کی ، جیسا کہ آپ اس مقالے کو دیکھ سکتے ہیں کہ مرزے انجینئر نے اس میں تقریباً 13 مقامات پر غلام مصطفی ظہیر کی تحقیق اور تحکیم پر آنکھیں بند کرتے ہوئے روایات کو تسلیم کیا ہے ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر روایات مولا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و شان سے تعلق رکھتی ہیں ۔
لیکن جب باری آئی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کی تو ابوداؤد کی حدیث نمبر4131 نقل کرنے کے بعد لکھ دیا : قال الشیخ البانی و الشیخ زبیر علی زئی ” اسنادہ صحیح ”
لیکن اس روایت پر اسی غلام مصطفی ظہیر امن پوری کی تحکیم کو نظر انداز کردیا کیونکہ امن پوری صاحب نے اپنی کتاب دفاع صحابہ میں اس روایت کو ضعیف لکھا ہے جیسا کہ لکھتے ہیں :
سند ضعیف ہے بقیہ بن ولید تدلیس تسویہ کا مرتکب ہے ۔۔۔۔(دفاع صحابہ ص586)
تو مرزا اور اس کی اندھا دھند پیروی کرنے والے اس کے فالورز سے پوچھنا یہ تھا : کہ اس روایت کی تحکیم کیلئے امن پوری کو لفٹ کیوں نہیں کرائی گئی؟
اگر امن پوری کی تحقیقات پر اعتماد نہیں تو اپنے اس مقالے میں اس کی 13روایات پر تحکیم کیوں قبول کی؟
اور اگر اعتماد تھا تو پھر ابوداؤد کی 4131 کی باری کیوں بقیہ بن ولید کی تدلیس کو چھپایا گیا؟
اب یا تو مرزا صاحب کو بقیہ کی تدلیس کا علم ہی نہیں یا پھر ہوسکتا ہے کہ امن پوری کی تحریر بعد کی ہو اور مرزا صاحب کا مقالہ پہلے کا ۔۔۔۔چلیں ہم نے اب تحقیق پیش کردی ہے مرزا صاحب اب رجوع کرلیں ۔
نہیں تو پھر بھی مرزے صاحب کی منجی ٹُھکنی ہے کیونکہ مرزے کے وڈے باباجی زبیر علی زئی کے مقالات تو پرانے ہیں جس میں زبیر زئی نے بقیہ بن ولید کو مدلس شمار کیا ہے جیسا کہ مقالات جلد اول ص290 پر امام ابن جوزی کے حوالے سے لکھا :
“وبقیة کان یدلس”
پھر مقالات جلد 3 صفحہ 613 پر علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کے حوالے سے بقیہ کا ذکر کرتے ہوئے بریکٹ میں بقیہ بن ولید کو (مدلس راوی) لکھا ۔
یہی نہیں مدلس راوی کا حکم بھی بیان کیا جیسا کہ مرزے کے محدث اعظم پاک و ہند زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں :
“اصول حدیث ، شروح حدیث ، محدثین کرام اور علماء کی مذکور تصریحات سے ثابت ہوا کہ مدلس راوی کی عن والی روایت ضعیف و مردود ہوتی ہے ۔(مقالات جلد 4 صفحہ 164)
قارئین کرام ! جان لیں کہ ابوداؤد کی روایت 4131 میں بقیہ بن ولید مدلس راوی ہے جو کہ عن سے روایت کرتا ہے لہذا زبیر علی زئی کے مطابق بھی یہ روایت ضعیف ٹھہرنی چاہیے ۔
الحمدللہ عزوجل ہم نے خالصتاً علمی کتابی گفتگو کردی ہے اور نیچے ترتیب وار کتابوں کے اسکین بھی لگادئیے ہی ، اب مرزے کے جاہل اور بدتمیز فالورز چاہیں تو حق قبول کریں ، اور۔چاہیں تو حسب عادت اپنے فرقے کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن “بابے تے شے ای کوئی نئیں ” کہتے ہوئے گوز مارتے پھریں ۔
✍🏻ارسلان احمد اصمعی قادری
3/4/25ء





