آخر ہم کچھ کیوں نہیں کرتے؟
آخر ہم کچھ کیوں نہیں کرتے؟
مس میری تقریر چیک کر لیں۔
(فلسطین پر کی جانے والی تقریر اس نے اپنی ٹیچر کو دیکھائی)۔
یہ آپ نے کیا لکھا ہے بیٹا اسے کاٹ دیں۔۔۔
“مصر کے پاس نیل تھا مگر غزہ کے بچے امداد کے منتظر رہے، سعودیہ عرب کے پاس تیل تھا مگر غزہ کے بچے امداد کے منتظر رہے، پاکستان ا۔یٹمی طاقت تھا مگر غزہ کے بچوں کے چھٹڑے ہوا میں اچھلتے رہے”۔۔۔۔۔۔۔ ( بات اسی کے ارد گرد گھوم رہی تھی اس پیراگراف میں)
مس لیکن یہ تو سچ یے۔۔۔ بچی نے کہا
بیٹا ہماری پالیسی ہے بس کسی کا نام نہیں لے سکتے اور تقریر صرف مذمت پر بنانی ہے، ہمارے لیے مسئلہ ہوتا ہے۔ کسی کو برا نہیں کہنا چاہیے یہ تو بری بات ہے نا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہانی نہیں بلکہ ایک اسکول میں ہونے والی نویں جماعت کی طالبہ اور ان کی ٹیچر کی گفتگو ہے جو کہ مجھ تک اس بچی کے زریعے سے پہنچی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہی سوال جو اس وقت بہت سے زہنوں میں آرہا ہے کہ آخر ہم ایٹم۔ی پاور ہیں، ہم کیوں نہیں کوئی قدم اٹھاتے؟۔۔۔۔
پیسے، ٹیکنالوجی وغیرہ سے متعلق سوال کا جواب مل چکا ہے کہ جن کے پاس ہے، وہ خود ان کے یار بنے بیٹھے ہیں۔
ہم کیوں کوئی قدم نہیں اٹھاتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ “وہ” جن کو قوم کی تربیت کرنی تھی وہ نفس پرستی کا شکار ہیں، سب کو دنیاوی فائدے عزیز ہیں۔
نہ گھر میں ماں کی گود میں بچہ کسی ایسے مقصد کے بارے میں جان پا رہا ہے کہ جس میں اللہ کے لیے ہاں یا نہ کہنا سیکھایا جا رہا ہو۔
نہ اسکول میں استاد یہ فرض نبھا رہے ہیں۔
جب یہ بچے بڑے ہوتے ہیں تو ان میں کہاں سے آئے گی وہ ایمانی غیرت جو بچپن میں ان سے پالیسی کے ڈھکوسلے کے نام پر چھین لی گئی۔
پھر چاہے ایسے بچے ممبر سنبھال لیں یا افواج کی لیڈر بن جائیں، پھر چاہے یہ بچے سیاسیت دان بنیں یا پروفیسر بن جائیں۔۔۔۔
انہوں نے بزدل بنے رہنے کو ” پڑھا لکھا، سلجھا ہوا” سمجھتے رہنا ہے۔
ان کو سیکھایا گیا یے کہ جہ۔ھاد کی بات، برائی کو ہاتھ سے روکنا یہ سب پڑھے لکھے نہیں بلکہ جاہل لوگ کرتے ہیں اور اگر تم ایسا کرو گے تو تمھیں اس جدید دنیا میں کوئی قبول نہیں کرے گا۔
تمھیں اپنے دین کو ان کے پالیسی کے مطابق ڈھالنا ہے اور فلحال ان کی پالیسی یہ ہے کہ ہم تمھارے باپ ہیں،
ہم تمھیں سیکھائیں گے تمیز سے اس دنیا میں رہنا،
نظام ہم بنائیں گے قبول تمھیں کرنا ہوگا،
بس جائےنماز بچھا کر اللہ اللہ کرو، ترقی کرو اود پیسے کو اپنا قبلہ بناو۔
یہاں تک کہ نیکی کی دعوت بھی دو مگر خبردار جو کبھی ہمارے نظام کے سامنے اپنا سیاسی، معاشی، علمی، تربیتی یا عسکری نظام لے کر آئے۔۔۔۔
تمھارے سامنے کسی لڑکی کی عزت لوٹ لی جائے تو اسے لٹنے دینا، ہاں عزت لٹنے کے “بعد” بےشک تم اسے امداد کے طور پر چادر اوڑھا سکتے ہو، اس کی مدد کر سکتے ہو اس کے جسم کو ڈھانپ کر، کسی ادارے کے سامنے بیٹھ کر ایک موم بتی جلا کر انصاف کی بات کر سکتے ہو، مزمت کر سکتے ہو۔ کچھ پلے کارڈز اٹھا کر تم ہم سے نظر کرم کی بھیک مانگ سکتے ہو مگر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس نظام کو کچھ نہیں کہہ سکتے جس کی وجہ سے لڑکی بےآبرو ہوئی ہے۔
تم بےشک تبلیغ کرو مگر خبردار جو تم نے تیغ اٹھانے کا سوچا بھی۔۔۔۔۔ یہی ہے ہماری پالیسی اس پر چلو اور دنیا داری کے مزے لوٹو وہ بھی اس وقت تک جب تک ہم چاہتے ہیں۔
گھر، اسکول، کالج، یونیورسٹی، ایوان ہو یا “مدرسہ” پالیسی یہی رہنی چاہیے۔۔۔۔
پچھلے کچھ دہائیوں سے خاص طور پر،
مسلمانوں کی Brain conditioning ہی ایسی کر دی گئی ہے کہ جس میں ” ان ” کے نظام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا گویا پالیسی پر چلنا ہے ( ہم دل میں برا جانتے ہیں) یہ کہہ اس پالیسی پر مذہبی ٹھپا بھی لگا دیا گیا یے۔
ہماری مثال اس ہاتھی جیسی یے جس کے پاوں میں بچپن میں ایک رسی باندھی گئی ہو، جوان ہونے پر وہ موٹا تازہ ہاتھی ایک جھٹکے میں یہ رسی توڑ کر آزاد ہوسکتا ہے مگر ذہنی طور پر رسی اس پر حاوی یے، اسے لگتا یے کہ وہ کبھی بھی یہ رسی نہیں توڑ سکتا۔
ہم پر ان کی تہذیب کا اثر بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے کہ جو حق بات کرنے کی پوزیشن میں ہے وہ بھی نہیں کر پارہا ہے کیوں کہ بچپن سے ڈٹ جانے، حق بیان کرنے کی تربیت دی ہی نہیں گئی ہے۔
کسی بڑے پلیٹ فارم پر بلاخوف و خطر حق کا نائب بننا تو بہت دور کی بات یے، نفسیاتی طور پر ہم ایسے بھونڈے پن کا شکار ہو چکے ہیں کہ ہمیں کھل کر برائی کو برائی کہنا والا جاہل یا شدت پسند لگتا ہے۔
بائیکاٹ، احتجاج، مالی امداد اور دعا یہ سب بھی ہونا چاہیے اور بھرپور ہونا چاہیے مگر ایک کام جو کئی نسلوں پر اثر ڈال سکتا یے وہ یہ ہے کہ اللہ کے سامنے اپنی بے وفائی کا اقرار کرتے ہوئے سچی توبہ اور پھر تربیت کا بیڑا اٹھایا جائے۔
گھر، اسکول، مدرسہ یا کوئی بھی درس گاہ جہاں کچھ لوگ کچھ نہ کچھ سیکھنے آرہے ہیں ان کی ذہن و کردار سازی کی جائے۔
مغرب کے Awe ( ہیبت) سے باہر نکلنا ہوگا۔ اپنے بچوں کے سامنے جہا۔د امت، خلافت جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے ہمیں کالی کھانسی نہیں آنی چاہیے۔۔۔۔۔ جب ہم بچوں کے سامنے ان الفاظ سے کتراتے ہیں تو بلاواسطہ یہی پیغام جاتا یے کہ یہ No go area ہے، پھر باقی رہی سہی ایمانی غیرت ہمارے اعمال برباد کر دیتے ہیں تو بھلا کیسے آئے گی ایمانی غیرت کہاں سے آئے گی؟
یہ سوال کہ آخر ہم کیوں نہیں کر رہے کچھ؟ یہ سوال مرنا نہیں چاہئے، یہ جو شمع جلی یے اب اسے بجھنے نہیں دینا ہے۔
اور یہ کام سب سے پہلے والدین، علماء اور اساتذہ کا ہے۔ ہم سب نے بروز محشر اپنے عمل کا جواب دینا ہے۔
جو کچھ ہوچکا وہ ہوچکا ہم اسے تبدیل نہیں کر سکتے مگر اس دنیا سے جانے سے پہلے اپنی نسلوں کی تربیت کر سکتے ہیں کہ جو آنے والے وقت میں مردان حق بن کر حق کی صدا بلند کریں۔
نوٹ: جس ذہن سازی کا اوپر تذکرہ ہوا ہے وہ محض چیخ چلا کر جہا۔د کے نعروں سے نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے گفتار اور کردار دونوں کو شریعت کے تابع کرنا ہوگا۔ جب تک دین پر عمل اپنے نفس کے دائرے سے باہر نکل کر نہیں کیا جائے گا تب تک کردار کی تعمیر ممکن نہیں۔
فیض عالم
#highlighteveryone
#WakeUpPakistan
#reality #Ummah #Teachers #Mothers #Parents #SaveTheFamily #Savemuslims #generations