بوہرہ کا اصل چہرہ
یہ
” بوہرہ کا اصل چہرہ “
تاریخِ اسلام میں جب جب باطن نے ظاہر کے نقوش کو دھندلانے کی جسارت کی، تب تب ایک نیا فتنہ، نئی شکل، نئے رنگ اور نئے چہرے کے ساتھ سامنے آیا۔ انہی فتنوں میں سے ایک فتنہ “باطنیہ” کے بطن سے پیدا ہونے والا “بوہری فرقہ” بھی ہے، جو آج روحانی نقوش میں لپٹا ہوا ایسا جال بن چکا ہے جس میں سادہ لوح مسلمان بڑی آسانی سے الجھ جاتے ہیں۔ اس فرقے کی بنیادیں نہ قرآن کے ٹھوس اصولوں پر ہیں، نہ سنت کی روشن ہدایت پر۔ بلکہ یہ خالصتاً غلو، تاویلِ باطن اور امامتِ موروثی کے گھنے اندھیروں میں لپٹی ایک گمراہ کن تحریک ہے۔
بوہری فرقہ، اسماعیلیہ کے طیبی سلسلے سے وابستہ ایک گروہ ہے۔ اسماعیلیہ خود ایک فاطمی شیعہ شاخ ہے، جس نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت اسماعیل بن جعفر کو بطور امام تسلیم کیا، جبکہ دیگر شیعہ اثنا عشریہ نے حضرت موسیٰ کاظم کو۔ اس اختلاف کے بطن سے جو فکری زہریلا دریا نکلا، وہ بعد ازاں فاطمی خلافت (297ھ – 567ھ) کی صورت میں مصر میں ظہور پذیر ہوا اور پھر اس خلافت کے زوال کے بعد دعوتِ طیبیہ کے نام سے یمن منتقل ہوا۔ جب طیب بن آمر باللہ کا ظہور موقوف ہوا، تو دعویٰ ہوا کہ امام مستور ہوچکا ہے اور اب دنیا امام کے وجود سے خالی نہیں، مگر اس تک رسائی صرف “داعی مطلق” کے ذریعہ ہوگی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے بوہری فکر کی اصل شروعات ہوتی ہے۔
بوہری عقیدہ یہ ہے کہ امام معصوم ہے، اس کی اطاعت واجب ہے، اور اس کے اختیارات اس قدر وسیع ہیں کہ وہ شریعتِ محمدیہ میں ترمیم، تنسیخ یا تاویل کا پورا حق رکھتا ہے۔ جی ہاں! بوہری تصور میں امام کی مرضی سے نماز کا وقت بدل سکتا ہے، روزہ معاف ہوسکتا ہے، حج کی حیثیت ایک روحانی تمثیل میں ڈھل سکتی ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک اصل چیز “باطن” ہے، اور “ظاہر” محض ایک پردہ ہے۔ وہ قرآن کی ہر آیت کی تاویل کرتے ہیں، اور بعض تاویلات اس قدر خطرناک اور شریعت شکن ہوتی ہیں کہ عقل و دین دونوں پناہ مانگیں۔
ان کے امام کو اللہ کا مظہر، خالق و مخلوق کے درمیان واسطہ، اور کبھی کبھی خدائی صفات سے متصف بھی کیا جاتا ہے (دیکھیں: Daftary, Farhad. “A Short History of the Ismailis”, 1998, p. 153)۔ ان کے ہاں امام کا انتخاب وراثتی ہوتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ امام خود اپنے بعد آنے والے پر “نص” کرے، یعنی امام کے امام ہونے کا اعلان خود موجودہ امام کرے، نہ کہ عوام یا علما۔ اگر وہ ظاہر نہ ہو، تو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ “غیبت” میں ہے۔ لیکن جب بھی کوئی داعی مطلق اپنی گدی پر بیٹھتا ہے، تو اس کے نعرے گونجتے ہیں: “ہم امام الزماں کے نائب ہیں!” حالانکہ امام غائب ہے، اس کا وجود کہاں ہے؟ کیسا ہے؟ اس پر مکمل راز داری۔
بوہری فرقے میں داعی مطلق کو وہی مقام حاصل ہے جو امام کو حاصل ہوتا ہے۔ وہی شریعت کے احکام کی تشریح کرتا ہے، وہی حدودِ حلال و حرام طے کرتا ہے۔ یہاں تک کہ داعی کو رسول کی صفات کا حامل کہا جاتا ہے (دیکھیں: Blank, Jonah. “Mullahs on the Mainframe”, 2001, p. 88)۔ گویا امتِ محمدیہ میں ایک نیا نظامِ نبوت تشکیل دیا جا رہا ہے، حالانکہ قرآن نے اعلان فرما دیا:
> “ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين”
(الأحزاب: 40)
یہ سب کچھ ایک بڑے خفیہ نظام کے تحت ہوتا ہے۔ بوہرہ فرقے میں مذہبی کتابیں عام عوام تو دور، اپنے ہی غیر داعیوں کو نہیں دکھائی جاتیں۔ ان کی نشستیں بند دروازوں کے پیچھے ہوتی ہیں، ان کے دروس مخصوص حلقے میں، ان کی رسومات راز میں۔ اگر کوئی شخص ان کے اسرار کو غیر تک پہنچائے، تو وہ “لعنت زدہ” قرار دیا جاتا ہے اور امام الزماں کی زیارت سے محرومی کا سزاوار ٹھہرتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی تبلیغی حکمت عملی اتنی باریک اور جذباتی ہوتی ہے کہ وہ دین کی اصل روح سے ناآشنا افراد کو شریعت کا نقاب اوڑھا کر “روحانیت” کے لبادے میں باطن پرستی کی ایسی دنیا میں لے جاتے ہیں جہاں عقل سلب ہوجاتی ہے اور اطاعت مجبوری بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان، خصوصاً گجرات اور ممبئی میں ان کا اثرو رسوخ بڑھا ہے۔ یہاں کے بوہری تاجر طبقے نے اپنے مذہب کو مال و دولت کی چادر میں چھپا دیا ہے۔ خوبصورت عمارات، نفیس لباس، اور لذتِ لذتوں سے بھرپور دعوتیں—یہ سب ان کی “خدمتِ دین” کا نیا چہرہ ہے۔ جبکہ باطن میں امام کے خدائی اختیارات، شریعت میں تحریف، اور اہل سنت سے علی الاعلان بیزاری ہے۔
اہلِ سنت والجماعت کا مؤقف واضح ہے کہ باطن اگر ظاہر کی نفی کرے تو وہ ضلالت ہے، نہ کہ حکمت۔
امام اہل سنت اعلی حضرت احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
“باطنی فرقے اسلام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے منافقین کا نیا روپ ہیں۔ ان کا ظاہر کچھ اور، باطن کچھ اور ہوتا ہے۔” (فتاویٰ رضویہ، ج: 15، ص: 185)
آج کے دور میں سنی عوام کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ جو دینِ محمدی کے نام پر امامتِ غیبیہ اور داعی مطلق کی اطاعت کو فرض بنا رہا ہے، وہ دراصل سنتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کر رہا ہے۔ اہل سنت کے لئے ضروری ہے کہ محبتِ اہلِ بیت کے نام پر کی جانے والی انحرافات سے خود کو اور اپنی نسلوں کو بچائیں، اور واضح پیغام دیں کہ:
“باطن کے نام پر دین میں تحریف، امامت کے نام پر الوہیت، اور داعی کے نام پر نبوت، ہم ہر اس فتنے کو رد کرتے ہیں جو شریعتِ محمدیہ کے خلاف ہو!”
✍محمد عباس الازہری