آڑٹیفیشل اینٹیلجس سے استفادہ کیجیے، مگر آنکھیں پوری کھلی رکھ کر
آڑٹیفیشل اینٹیلجس سے استفادہ کیجیے، مگر آنکھیں پوری کھلی رکھ کر!
یوں تو انٹرنیٹ پر دینی حوالے سے جو کچھ بھی دستیاب ہے، اس پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کیا جا سکتا۔ الا یہ کہ وہ مستند ویب سائٹ پر، معتبر علماء کا تحریر کردہ ہو، اور آپ کو اس تک براہ راست رسائی حاصل ہو۔ ورنہ آجکل افواہوں اور خلافِ واقعہ مواد کی بھرمار ہے۔ اچھے خاصے تعلیم یافتہ حضرات بھی بے بنیاد باتوں پر یقین کر لیتے ہیں۔
البتہ جب کسی دینی مسئلے پر وضاحت ہو، اس کے نیچے عربی متن کے ساتھ حوالہ بھی موجود ہو، اور ترجمہ بھی اس کے مطابق درست دیا گیا ہو، تو اسے آسانی سے رد کرنا ممکن نہیں رہتا۔ لیکن… بات صرف اتنی سادہ نہیں ہے۔
میں مثال سے وضاحت کرتا ہوں۔
ایک عرصہ پہلے، میں نے دارالافتاء منہاج القرآن کی ویب سائٹ پر ایک شرعی مسئلے کے تحت ایک عربی جزئیہ دیکھا۔ وہ بہ ظاہر مسئلے میں صریح معلوم ہوتا تھا، لیکن الفاظ میں کچھ اجنبیت سی محسوس ہو رہی تھی۔ مجھے کھٹکا لگا کہ شاید کوئی گڑبڑ ہے۔ چنانچہ میں نے اصل کتاب بحر الرائق سے وہ جزئیہ تلاش کیا، تو معاملہ کھل گیا۔ اصل عبارت میں “علی سطح المسجد” جیسے کلیدی الفاظ درج تھے، جو ویب سائٹ پر موجود جزئیے سے حذف کر دیے گئے تھے۔ اس جزئیے کو سیاق و سباق سے کاٹ کر، اپنی مطلوبہ بات ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ یہ صریح علمی بددیانتی تھی۔
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف۔
چند روز قبل ایک بھائی نے عدالتی خلع کے بارے میں سوال کیا۔ جب میں نے جواب دیا تو اُس بھائی نے کچھ اسکرین شارٹس ارسال کیے۔ حوالہ جات، عربی اقتباسات، ترجمہ، سب کچھ ایسا لگ رہا تھا گویا کسی کہنہ مشق فقیہ کی تحقیق ہو۔ مگر غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ تمام حوالے “جنریٹ” کیے گئے تھے یعنی وہ حقیقی کتابوں میں موجود ہی نہ تھے، نہ وہ بات علماء نے کہی تھی، نہ وہ کتابیں ہی حقیقت میں موجود تھیں۔ مثال کے طور پر ایک جگہ لکھا تھا: “مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے فرمایا ہے… حوالہ: فتاویٰ منیب” حالانکہ “فتاویٰ منیب” کے نام سے کوئی کتاب موجود ہی نہیں!
ایک اور جگہ حرمتِ مصاہرت سے متعلق ایک نازک مسئلہ نظر سے گزرا، وہ بھی آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے “جنریٹڈ” تھا، بہ ظاہر مدلّل اور علمی انداز میں لکھا گیا تھا، مگر مکمل طور پر غلط تھا۔ اس میں درمختار کے ایک عربی جزئیے کا حوالہ بھی دیا گیا، تاکہ مسئلے کو مضبوط بنایا جا سکے۔ لیکن جب میں نے اس عبارت کو درمختار میں تلاش کیا تو وہ کہیں موجود نہ ملی۔ یعنی عربی جزئیہ بھی گھڑا گیا تھا!
میں نے وہی جھوٹا جزئیہ لے کر AI سے سوال کیا کہ درمختار کی کتاب النکاح، فصل فی المحرمات میں یہ عبارت نہیں ملی، تو جواب آیا:
“آپ بالکل بجا فرما رہے ہیں۔ درحقیقت یہ عبارت ‘ویحرم من المحرمات بالمصاھرة…’ درمختار کی اصل عبارت نہیں بلکہ مختلف فقہی کتب سے اخذ کردہ مفہوم کا خلاصہ ہے…”
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خلاصہ بھی جھوٹا تھا! یعنی نہ صرف حوالہ گھڑا گیا، بلکہ عربی عبارت بھی اختراع کی گئی۔
ان مثالوں سے مقصود یہ ہے کہ صاحبانِ علم و دانش بالخصوص علماء کرام آنکھیں کھلی رکھیں۔ آج کا دور تحریر کا نہیں، تاثّر کا دور ہے۔ عوام کو اگر عربی عبارت کے ساتھ کوئی بات مل جائے، تو وہ اسے سچ مان لیتے ہیں، چاہے وہ عبارت ہی من گھڑت ہو۔ ایسی حالت میں علماء اگر غفلت کا شکار ہو جائیں، تو نہ صرف خود دھوکہ کھائیں گے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف دھکیل دیں گے۔ عوام تو بے چارے کسی نہ کسی حد تک دھوکہ کھا ہی لیتے ہیں، لیکن علماء کو کم از کم اتنی پہچان ضرور ہونی چاہیے کہ جھوٹے، من گھڑت، یا AI سے جنریٹ شدہ مواد کو پہچان سکیں۔
ورنہ یہ AI کا فریب کہیں آپ کی علمی ساکھ پر زد نہ ڈال دے!
Mufti-Muhammad Ata Ul Mustafa


