پاک فوج کا آپریشن “ بُنیانٌ مَرصُوص”
پاک فوج کا آپریشن “ بُنیانٌ مَرصُوص”
ایک عربی ترکیب ہے جو قرآن مجید کی سورۃ الصف (61:4) میں آئی ہے:
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ
ترجمہ:
“بے شک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔”
🔍 “بنیان مرصوص” کے الفاظ کی وضاحت:
بنیان (بُنیان):
عربی میں “بنیان” کا مطلب ہے “عمارت” یا “تعمیر”۔ مراد مضبوط اور منظم بنیاد یا ڈھانچہ۔
مرصوص:
اس کا مطلب ہے “چُست، جُڑا ہوا، یکجا کیا گیا، سیسہ (lead) پلائی ہوئی”، یعنی ایسی چیز جس میں خلا نہ ہو، جو مضبوطی سے جُڑی ہوئی ہو۔
📌 مجموعی مفہوم:
“بنیان مرصوص” کا مطلب ہے “سیسہ پلائی ہوئی دیوار جیسی مضبوط اور متحد صف”۔
یہ تشبیہ اس چیز کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مؤمنین کو اللہ کے دین کی راہ میں اس طرح منظم، مضبوط، اور متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے جیسے اینٹیں بغیر خلا کے سیسہ (lead) سے جُڑ کر ایک اٹل دیوار کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
🇵🇰 پاک فوج کی اصطلاح میں استعمال:
پاکستانی فوج نے بھارت کے خلاف آپریشن کا نام “بنیان مرصوص” رکھا ہے اس کے معنی ہیں کہ
یہ فوجی محاذ ایسی منظم، مضبوط، متحد اور ناقابل شکست صف کی نمائندگی کرتا ہے۔
دشمن کے مقابلے میں ایک سیسہ پلائی ہوئی، متحد اور مربوط دفاعی لائن کی علامت۔
اس میں قرآن کی اس آیت سے روحانی اور نظریاتی تحریک لی گئی ہے کہ اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو صف باندھ کر اُس کے راستے میں لڑتے ہیں۔
یہ نام صرف فوجی طاقت نہیں، بلکہ نظریاتی قوت، دینی وابستگی اور اتحادِ ملت کی علامت بن جاتا ہے۔
دشمن پر نفسیاتی دباؤ ڈالتا ہے کہ پاکستانی فوج صرف عسکری نہیں بلکہ ایمانی جذبے سے بھی سرشار ہے۔
🤲 آئیے! ہم بھی:
➡ صفوں میں اتحاد پیدا کریں
➡ قوم کی طرح ایک “بُنیانٌ مَرْصُوص” بنیں
➡ فوج کے اس جذبے کو سمجھیں اور دعا و اخلاقی حمایت فراہم کریں
حسنات