1971 کی جنگ  اور  ہم

 

1971 میں ہماری عمر تقریباً  10 سال ہوگی جب پاکستان اور انڈیا میں جنگ چھڑی۔ اس وقت ہم  کراچی کے علاقے “لیاقت آباد” میں رہتے تھے جسے اُس زمانے میں”لالو کھیت” بھی کہا جاتا تھا۔ بسوں کے دروازوں پر ان کے اسٹاپوں کے جو نام لکھے جاتے تھے، ان میں اس علاقے کا مشہور نام

لالو کھیت تحریر ہوتا تھا۔

ہمارا علاقہ ، لونڈے لپاڑوں کے حوالے سے مشہور تھا۔احتجاجی تحریکوں اور جلاؤ گھیراؤ کا آغاز عموماً اسی بستی کے جیالے نوجوان کرتے تھے۔ یہ علاقہ سیاسی طور پر اس وقت کی مسلم لیگ، جمیعت علماء پاکستان اور جماعت اسلامی کے زیر اثر تھا۔ اکثر مساجد اہلسنت کے زیر انتظام تھیں۔

لیاقت آباد کے باسیوں کا وطن عزیز  میں چلنے والی مختلف تحریکوں میں ایک نمایاں کردار رہا ہے ۔

تو دوستو  بات تھی، 71 کی جنگ کی جب ہم اپنے ابو ، امی اور بہن بھائیوں کے ہمراہ 40 گز کے ایک نصف کوارٹر میں رہتے تھے۔ 80 گز کے کوارٹر- 1952-1951 میں حکومت نے مہاجرین کو دیئے تھے ہمارے والد کو بھی ملا تھا۔ ضرورت پر 40 گز فروخت کردیا گیا تھا اور بقیہ 40 گز میں ہماری دنیا تھی۔ گھر کی دیواروں کی طرح، گھر کے مکینوں کے حوصلے بھی مضبوط تھے۔ روکھی سوکھی کھا کر گزارا ہوجاتا تھا۔ ہمارے گھر کی چھت اس وقت کے ، ٹین کی تھی جو انڈین بمباری کو سہہ نہیں سکتی تھی۔

جب انڈیا کے جنگی جہازوں کی آمد ہوتی تو سائرن بجتا اور لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع ہوجاتے تھے۔

ایک گھر چھوڑ کر ہماری پھوپھی کا گھر تھا جس پر آر سی سی کی پکی چھت تھی۔ جب سائرن بجتا تو ہمارے والد ، ہم سب چوزوں کو لے کر ان کے گھر چلے جاتے اور سب لوگ گھر کے زینے کے نیچے دبک جاتے تھے۔

لوگ کانوں میں روئی ٹھونس لیتے تھے کہ کہیں طیاروں کی تیز آوازیں کان کے پردے نہ پھاڑ دیں۔ ان ہی دنوں ہم نے روئی کی جگہ تھرما پول کے ٹکڑے اپنے کان میں ٹھونس لیے جو کافی دن ہمارے کانوں میں رہے اور جنہیں کانوں سے نکالنے کے لیے ہمیں ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑا۔

اکثر مکینوں نے اپنے گھر کے بیرونی دروازوں کے اوپر

   نَصْرٌ مِّن اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ  کی آیت لکھوا لی تھی۔

ہسپتالوں میں فوجی بھائیوں کے لیے خون دینے والوں کی قطاریں لگتی تھیں۔  درسی کتب میں بھی وطن سے محبت پروان چڑھانے والے اسباق تھے۔  1965 کی جنگ کے شہداء کے تذکرے بھی تھے۔

اپنی درسی کتاب کی ایک کہانی ہمیں یاد ہے کہ ایک بچہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کے لیے خون دینے پہنچا تو اس کا وزن مطلوبہ وزن سے کم تھا جس پر اسے واپس کردیا گیا۔ بعد میں وہ بچہ اپنی جیبوں میں وزن رکھ کر دوبارہ خون دینے پہنچ گیا اور خون دے کر ہی واپس ہوا۔

رات کو سائرن کی آواز کے ساتھ بلیک آؤٹ ہوجاتا تھا۔ محلوں میں “شہری دفاع” کے تربیت یافتہ رضا کار رات بھر گشت کرتے تھے۔ ان رضا کاروں نے ابتدائی طبی امداد کی فراہمی اور ایمرجنسی میں کام کرنے کی بھی تربیت حاصل کی ہوئی تھی۔ کوئی گھر روشن ہوتا تو یہ رضا کار اس گھر کی بتیاں بند کراتے تھے۔گھروں پر سفید یا ایسے روشن رنگ ممنوع تھے جو فضا سے نمایاں نظر آئیں ۔

ان ہی دنوں لیاقت آباد کی گوشت مارکیٹ کو شاید بھارتی بمباری سے نقصان پہنچا تھا، بعد میں حکومت نے اس جگہ

” سپر مارکیٹ ”  تعمیر کی، جس کا افتتاح ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا۔

لوگ گھر کے راشن کی وجہ سے فکر مند ہوتے تھے اور جس کی جتنی حیثیت تھی اس نے اسی طرح خوراک کا ذخیرہ کررکھا تھا۔ تاہم محبت و ایثار کا ماحول تھا۔ لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور لوگ ایک دوسرے کے کام آنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے ۔

 

جنگ کا اختتام، پاکستان کی شکست پر ہوا،  مشرقی پاکستان الگ ہوا ، پاکستان کے 93 ہزار لوگ ، بھارت کے قیدی بنے جن میں اکثریت پاکستان کے فوجیوں کی تھی۔تفصیل کے لیے مطالعے کو عادت بنائیے

 

معین نوری

9 مئی 2025