دی نیویارک ٹائمز کی سٹوری پراپیگنڈہ اور گمراہ کن کیوں ہے ؟

امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز کے مطابق بھارت اور پاکستان کے چار روزہ فوجی تصادم میں دونوں نے ڈرونز اور میزائلوں سے ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان کے بھولاری، نور خان، رحیم یار خان اور سرگودھا ایئر بیسز کو شدید نقصان پہنچایا جو سیٹلائٹ تصاویر سٹوری میں لگائی گئی ہیں ان میں نقصان محدود ہے۔

پاکستان نے بھارت کے دو درجن اڈوں کو نشانہ بنایا،نیو یارک ٹائمز نے تصاویر کے متعلق لکھا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ حملے وسیع پیمانے پر ہونے کے باوجود نقصان دعوؤں سے کہیں کم تھا اور زیادہ تر بھارت کی طرف سے پاکستانی تنصیبات پر ہوا رپورٹ کے مطابق بھارت کو واضح برتری پاکستانی فوجی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے میں نظر آتی ہے۔

دی نیویارک ٹائمز نے پراپیگنڈہ کر کے جانبدار سٹوری لکھی ہے اس میں تکنیکی طور پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں، پہلے سٹلائٹ کے بنیادی اصولوں کو سمجھ لیتے ہیں تاکہ سٹوری پراپیگنڈہ کیوں ہے سمجھ آ جائے سیٹلائٹ تصاویر کے بنیادی اصولوں میں سب سے پہلے ہائی ریزولوشن (30 سینٹی میٹر سے 5 میٹر تک) کا ہونا ضروری ہے تاکہ تفصیلات واضح ہوں، جیسے میکسر یا پلینیٹ لیبز سیٹلائٹس سے حاصل کردہ تصاویر ہوتی ہیں۔دوسرا تصاویر کے ساتھ سورس، وقت، تاریخ اور جغرافیائی کوآرڈینیٹس فراہم کرنا لازمی ہوتا ہے جس سے اصل ہونے کی تصدیق ہوتی ہے، روشنی، سائے اور موسمی حالات کا خیال رکھنا بہت اہم ہوتا ہے،ورنہ یہ تصویر کے معیار کو خراب کرتا ہے۔آخر میں تصاویر کا غیر جانبدار تجزیہ پیش کرنا ضروری ہے تاکہ کسی جانبداری یا پروپیگنڈا سے بچا جا سکے۔

دی نیو یارک ٹائمز کی 14 مئی 2025 کو شائع ہونے والی سٹوری میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ نیویارک ٹائمز نے سیٹلائٹ کا نام، وقت یا کوآرڈینیٹس کیوں نہیں بتائے۔ کیا یہ تصاویر مشکوک ہیں یعنی خود ساختہ ہیں ان کے اصلی ہونے کا ثبوت کہاں ہے؟

دی نیویارک ٹائمز نے پاکستانی حملوں سے بھارتی ایئر بیسز کے نقصان کی تفصیلات کیوں نہیں دکھائیں؟ جبکہ وہ اپنی رپورٹ میں چار ائیر بیسز کے تباہ ہونے کا دعویٰ بھی کر رہا ہے کہ بھارت نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا نقصان ہوا کس نوعیت کا ہوا ہے یہ بتانے سے گریز کیا دی نیویارک ٹائمز کی جانبداری کیوں؟

دی نیویارک ٹائمز کی سٹوری میں پاکستانی اڈوں کی تصاویر تو دکھائی گئی ہیں لیکن ادھم پور ایئر بیس پر پاکستانی حملے کی تصویر میں کوئی واضح نقصان کیونکہ نہیں دکھایا ؟ حالانکہ ایک بھارتی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی اس سٹوری میں بھی وہ کر رہا ہے۔کیا نیویارک ٹائمز نے جان بوجھ کر ایسی تصاویر منتخب کیں جو بھارت کے حق میں ہوں؟

نیویارک ٹائمز نے بھولاری ایئر بیس پر ایک ہینگر کے نقصان کی بات کی، لیکن تکنیکی طور پر ایک ہینگر کا محدود نقصان کسی ایئر بیس کی آپریشنل صلاحیت کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟ پاکستانی فوج نے ان اڈوں سے آپریشنز جاری رکھے،پھر نقصان کی شدت کو بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کیا؟

نیویارک ٹائمز نے سٹلائٹ سے تصاویر لینے کا وقت اور موسمی حالات کیوں نہیں بتائے؟ جو سٹلائٹ تصاویر کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے یعنی جو موازنہ کیا گیا ہے وہ بالکل گمراہ کن ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹنگ جانبدار اور غیر شفاف ہے، جو ایک گمراہ کن پروپیگنڈا ہے رپورٹنگ میں جانبداری قائم کی گئی ہے اور پراپیگنڈا سٹوری بنائی گئی دی نیویارک ٹائمز جیسا انٹرنیشنل لیول کا میگزین سٹلائٹ کے بنیادی اصول کیسے بھول گیا اور اپنی رپورٹ میں جن بیسز کے نقصان کا دعویٰ کر رہا ہے ان کی سٹلائٹ تصاویر میں نقصان ہی نہیں دکھا رہا۔ سٹلائٹ کا سورس بھی نہیں بتا رہا۔
تحریر:۔ فرحان ملک
نوٹ:۔ نام کیساتھ کاپی کی اجازت ہے۔