اقوام متحدہ کے بیانات آتے رہتے ہیں کہ اتنے دن میں امداد غزہ کے اندر نہ پہنچی تو اتنے بچے اور ابادی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔

الفاظ سے اپنی ‘لاچاری’ اور ‘انسانی اخلاص’ سے دنیا کو بے وقوف بنانے والی اقوام متحدہ کے کمیشن برائے  انسانی حقوق نے سن 2023 میں فنڈز اور ڈونیشن کے نام پر 178.2 ملین ڈالرز جمع کیے۔ پاکستانی روپے میں یہ رقم 175 فی ڈالر کے حساب سے 31.19 ارب روپے بنتی ہے۔

2024 میں جمع کیے جانے والے فنڈز اور ڈونیشن ملا کر 447.1 ملین ڈالر رہی جو 180 کے ریٹ پر 32.41 ارب روپے بنتے ہیں۔

2025 کے لیے 500 ملین ڈالرز کا ٹارگٹ ہے۔ یہ سب OHCHR اور Reuters کے پیجز پر دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن یہی ادارہ |غزہ| کے وقت بے چارہ بن کر کہتا ہے ہم کچھ نہیں کر پا رہے۔ یہی ادارہ ساری دنیا میں مسائل حل کروانے کے نام پر اپنی (سمجھ تو گئے ہوں گے) من پسندی کے تحت مخصوص قوانین تک بنوا لیتا ہے۔ ٹرانس جینڈروں جیسے جنس کے باغیوں کے لیے حکومتوں کو مجبور کر دیتا ہے کہ ان کو عام شہری سمجھا جائے، یہی اتنا طاقتور بنتا ہے کہ عالمی فیصلے صادر کرتا ہے۔

مگر جیسے ہی |غزہ| کی بات آتی ہے، یہ لاچار بن جاتا ہے اور ایک عام آدمی کی طرح مذمت کر کے سائڈ ہوجاتا ہے۔ ملینز آف ڈالرز اور کا متناہی طاقت اشرائیل کے سامنے ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ وجہ صاف ہے۔ یا تو مسلمانوں کی نسل مٹا دی جائے، یا پھر ان کو ماڈرن ازم کی چاٹ لگا کر خصی کر دیا جائے۔

مسلمانوں نے جب جب عزیمت کی راہ چھوڑی ہے اور غیروں کے ساتھ یاری لگائی ہے، ان کا بیڑہ غرق ہی ہوا ہے۔ آج غزہ ہے۔ کل یمن، شام، اور پھر سب ہی دجال کے اس بچے کے سامنے سرنگوں ہوں گے۔

حق پر وہی رہیں گے جو انکار کرنے اور انکار کا عتاب سہنے کا ارادہ کر لیں گے۔

سیف اللہ خالد
Saifullah Khalid