قربانی کے گوشت کی منڈیاں
از قلم مفتی علی اصغر
12 ذو الحجہ 1446
بمطابق 9 جون 2025

بعض یوٹویبر ان جگہوں پر جا کر ویڈیوز بنا رہے ہیں کہ دیکھو یہ بندہ قربانی کا گوشت بیچ رہا ہے اور یہاں پوری منڈی لگ چکی ہے
ان یوٹیوبرز کا جذبہ اور خلوص ہو سکتا ہے اچھا ہو نیت نیک ہو۔
لیکن علماء سے رہنمائی لے کر کوئی رائے قائم کرتے تو  غلطی نہ ہوتی
درست مسئلہ
جس کی قربانی ہے وہ گوشت نہیں بیچ سکتا بلکہ وہ کسی دوسرے  کو دے گا تو وہ بطور صدقہ اور نیکی کے دینے کا پابند ہے
لیکن جس کو قربانی کرنے والے نے گوشت گفٹ کیا وہ اس کا مالک ہے جو چاہے کر سکتا ہے بیچ بھی سکتا ہے

غور کریں کہ وہ لوگ  جن کو گوشت گفٹ کیا گیا  وہ سڑک پر کھڑے ہو کر گوشت بیچ رہے ہیں
کیا ان کو گوشت اچھا نہیں لگتا ؟
ان کو رقم کی حاجت ہوگی جو زندگی کی بنیادی ضروریات کے لیے اہم ہے
اس گوشت کے ذریعے ان کو رقم مل جائے گی تو کیا حرج ہے؟ کوئی حرج نہیں ۔

یا پھر یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ ان غریبوں کے گھر میں فریج نہیں ہوگا
جو بھی وجہ ہو جب ان کے لئے بیچنا جائز ہے تو پھر ان کو تنگ کرنا ان کے چہرے ویڈیوز میں دکھانا ان پر ملامت کرنا  یہ روا نہیں ہے

کوئی یہ بھی نا کہے کہ ان کو اتنا دیا ہی نا جائے کہ یہ لوگ یہ کام کریں
واضح رہے کہ  قربانی کے گوشت میں ایک حصہ غرباء کو دینا مستحب ہے اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ غریب بھی اس خوشی میں شامل ہو جائیں
شریعت کی طرف سے دی جانے والی ترغیب پر  کوئی روک ٹوٹ نہیں لگائی جا سکتی
اللہ پاک روڑ پر کھڑے ان مسکینوں کو بھی اتنا مال و اسباب عطا کرے کہ یہ خود دینے والے ہاتھ بنیں
نا جانے کون کون سی نعمتیں ہیں جو ہم غریب و کمزور لوگوں کی برکت سے پا رہے ہیں
بعض احادیث کے مضمون کا خلاصہ ہے کہ تمہیں فقراء کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے۔

چنانچہ بخاری شریف کی حدیث یے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
“هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم”
یعنی تمہیں جنگ میں فتح ملتی ہے اور تمہیں رزق دیا جاتا ہے  کمزور (غریب و ناتواں ) لوگوں کی وجہ سے
بلا شبہ اعتدال شریعت کی تعلیمات میں ہے کیوں کہ ہماری شریعت دین فطرت ہے اور وہ اعتدال سے ہٹ کر حکم نہیں دیتی۔