حضرت عثمان کی شہادت کے نقصانات
حضرت عثمان کی شہادت کے نقصانات!!
حدثنا عبد الله: قثنا بشار بن موسى قثنا حماد بن زيد قثنا ابن عون، عن محمد بن سيرين قال: كانوا لا يفقدون الخيل البلق في المغازي حتى قتل عثمان، فلما قتل فقدت فلم ير منها شيء، قال: كانوا يرونها الملائكة، قال: وكانوا لا يختلفون في الأهلة حتى قتل عثمان، فلما قتل عثمان لبست عليهم، قال: وكانت الصدقة تدفع إلى النبي صلى الله عليه وسلم ومن أمر به، وإلى أبي بكر الصديق ومن أمر به، وإلى عمر بن الخطاب ومن أمر به، فلما قتل عثمان اختلفوا فرأى قوم يقسمونها برأيهم، ورأى قوم يرفعونها إلى السلطان، قال ابن عون: وسمعت إبراهيم النخعي يقول: لما نزلت {ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون} [الزمر: 31] قال أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ما خصومتنا هذه؟ وإنما نحن إخوان، فلما قتل عثمان قالوا: هذه هذه.
ابن عون نے محمد بن سیرین سے روایت کی، انہوں نے کہا:
وہ (صحابہ) غزوات میں ‘بلق گھوڑے’ (یعنی ایسے گھوڑے جن کے بدن پر مختلف رنگ کے دھبے ہوں) کو کبھی ناپید نہیں پاتے تھے، یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے۔ جب ان کو شہید کر دیا گیا، تو وہ گھوڑے ناپید ہو گئے، اور ان میں سے کچھ بھی نظر نہ آیا۔
انہوں نے کہا:
وہ (صحابہ) ان گھوڑوں کو ملائکہ (فرشتے) سمجھا کرتے تھے۔
اور انہوں نے کہا:
چاند دیکھنے (یعنی نئے چاند کے تعین) میں کوئی اختلاف نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ حضرت عثمان شہید کیے گئے، پھر جب وہ شہید کیے گئے تو (چاند کا معاملہ بھی) مشتبہ ہو گیا۔
اور انہوں نے کہا
زکوٰۃ (یا صدقہ) نبی کریم ﷺ کے زمانے میں، اور ان کے مقرر کردہ لوگوں کو دی جاتی تھی، اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے مقرر کردہ افراد کو دی جاتی تھی۔ لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے، تو لوگوں میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ کچھ لوگ اپنی رائے سے (زکوٰۃ) تقسیم کرنے لگے، اور کچھ نے اسے حاکمِ وقت کے سپرد کرنا مناسب سمجھا۔
ابن عون کہتے ہیں:
میں نے ابراہیم نخعی کو یہ کہتے سنا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:
{ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِندَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ}
(پھر قیامت کے دن تم سب اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے)
(سورہ الزمر: 31)
تو صحابہ نے کہا: ہمارا آپس میں کیا جھگڑا ہو سکتا ہے؟ ہم تو سب بھائی بھائی ہیں۔
لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے، تو وہ کہنے لگے: یہی (جھگڑا) ہے، یہی مراد ہے۔
[فضائل صحابہ ، برقم:764 وسندہ حسن]