روافض کے بہت سے اعتراضات نہ تو نقلی اعتبار سے درست ہیں اور نہ ہی عقلی اعتبار سے مانے جاسکتے ہیں ۔
مثلاً مشہور طعن ہے رافضی کہتے ہیں
کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدہ پاک رضی اللہ عنہا کا دروازہ جلایا یا جلانے کی کوشش کی وغیرہ ۔

نقلی اعتبار سے تو یہ واقعہ سرے سے جھوٹا ہے کہ کوئی بھی رافضی اسے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں کرسکتا ۔

عقلی اعتبار سے بھی یوں غلط ہے کہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسی عظیم شخصیت سے یہ ہرگز ممکن نہیں کہ وہ اس طرح کا کام سر انجام دیں ۔
نیز مولا علی شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم چپ چاپ یہ سب ہوتا دیکھتے رہیں ہوں اور اپنے گھر پہ ہونے والے حملے کی مزاحمت نہ کی ہو ، یہ عقل نہیں مانتی ۔
اس وقت مدینہ طیبہ میں سینکڑوں ہزاروں صحابہ کرام موجود تھے اُنہوں نے بھی اس فعل کی مذمت نہ کی ۔ کسی نے بھی احتجاج نہ کیا ۔

مولا علی کے بعد کتنے ائمہ اہل بیت آئے انہوں نے بھی کبھی اس بات کا ذکر نہ کیا ؟

(2)اسی طرح حدیث غدیر خم کو لے کر روافض کہتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ” من کنت مولاہ فعلی مولاہ ” فرما کر مولا علی کے خلیفہ بلافصل ہونے کا اعلان کردیا تھا ۔

تو ہم کہتے اس واقعہ کہ اگرچہ کئی سندیں صحیح ہیں لیکن اس سے جو معنی و مفہوم رافضی نکالتے ہیں وہ ہرگز صحیح نہیں ۔
کہ اگر مولا علی کو ہی خلیفہ بلافصل نامزد کرنا تھا تو کھلے لفظوں یہ اعلان کردیا جاتا ۔

لفظ مولا جو کہ کئی معانی رکھتا ہے اسے ذکر کرنا بتاتا ہے کہ یہاں اعلان خلافت نہیں بلکہ اعلان محبت ہے کہ اس واقعے کا پس منظر یہی بیان کرتا ہے کہ یہاں مولا علی سے محبت رکھنے اور آپ کو دوست رکھنے کا حکم دیا جارہا ہے ۔

اگر مولا علی کی خلافت کا اعلان ہوچکا تھا تو آپ نے تینوں خلفاء کے دور میں اتنے سالوں خاموشی کیوں رکھی؟
آپ نے یہ کیوں نہ کہا مقام غدیر پر میری خلافت کا اعلان کیا جاچکا ہے لہذا یہ حق میرا ہے ؟
آپ کے اس فعل سے پتا چلا کہ آپ خود حدیث غدیر کو اپنی خلافت کی سند نہیں سمجھتے تھے ۔
وہاں موجود سینکڑوں ہزاروں صحابہ کرام جنہوں نے غدیر کے مقام پر یہ خطبہ سنا تھا انہوں نے اس بات کی گواہی کیوں نہ دی ، کیوں نہ کہا کہ بعد از نبی صلی اللہ علیہ وسلم مولا علی کو خلافت نہ دینا یہ حکم رسول کی نافرمانی ہے؟

روافض کے نزدیک تو امامت منصوص من اللہ ہے اگر مولا علی خلیفہ بلافصل ہوتے تو اس کی مخالفت اس امت کے سب سے افضل لوگ یعنی صحابہ کرام کیسے کرسکتے تھے؟

اگر مولا علی خلیفہ بلافصل ہوتے تو بعد میں آنے والے گیارہ ائمہ اہل بیت نے اس بات کا ذکر کیوں نہ کیا؟
انہوں نے خلفاء ثلاثہ کی خلافت کا انکار کیوں نہ کیا اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر کو صدیق صدیق صدیق کہہ کر یاد کرتے ہیں ۔

(3)اسی طرح مسئلہ فدک کو لے لیں اس بارے میں بھی روافض نے بہت سی کہانیاں و قصے گھڑ رکھے ہیں اور اسے بھی کفر و اسلام کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔
اس بارے میں مختصراً یہ جان لیں کہ سیدہ پاک رضی اللہ عنہا اس دنیا سے اس حالت میں تشریف لے گئیں کہ آپ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے راضی تھیں ،
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک قدموں میں اپنا سارا مال لا کر پیش کردینے والی ہستی یعنی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مال اُن کی اولاد کو نہ دیں؟
اگر وہ مال وراثت اُن کا ہوتا تو آپ ضرور تقسیم فرماتے ، مگر انبیاء کرام وراثت میں مال نہیں چھوڑتے یہ بات مولا علی کو بھی اور آپ کے بعد آنے والے سبھی ائمہ کرام کو معلوم تھی تبھی کبھی کسی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر طعن نہ کیا ، انہیں معاذاللہ غاصب نہ کہا ۔
اگر وہ باغ سیدہ پاک کا ہوتا تو چلو اس دور میں سہی جب مولا علی خود خلیفہ بنے تب اسے آپ کی اولاد میں تقسیم فرما دیتے لیکن آپ کا اسے اسی حالت میں رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ درست تھا ۔

پھر سوائے روافض کے آج تک امت میں کسی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو غلط قرار نہ دیا ۔

(4) اسی طرح روافض کہتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مولا علی رضی اللہ عنہ کو معاذاللہ گالیاں دیتے یا دلواتے تھے ۔

تو اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں یہ بھی آپ پر الزام ہے جو کوئی مائی کا لعل صحیح سند روایات سے ثابت نہیں کرسکتا کہ حضرت معاویہ نے مولا علی کو گالی دی ہو  ۔

عقلی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو تربیت یافتگان نبوت سے ممکن نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہوں ۔

اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔

✍🏻ارسلان احمد اصمعی قادری
11/6/25ء