ایران کی فضا میں چھپی دراڑیں: اسرائیلی حملے، داخلی کمزوریاں اور عالمی خاموشی”

جب کسی قوم کی خودی، خودداری اور دفاعی صلاحیتیں زنگ آلود ہو جائیں تو دشمن کے خنجر کو پیچھے سے وار کرنے میں زیادہ دقت نہیں ہوتی۔ ایران آج اسی دکھ بھری صورتِ حال سے دوچار ہے جہاں نہ صرف بیرونی طاقتیں اس کی خودمختاری کو روند رہی ہیں بلکہ اندرونِ ملک چھپی غداریاں دشمن کی راہوں کو ہموار کر رہی ہیں۔

اسرائیل نے حالیہ برسوں میں ایران کے اندر جس طرح “ہائی ویلیو ٹارگٹس” کو نشانہ بنایا ہے، وہ کسی بھی ریاست کے لیے ناقابلِ برداشت رسوائی ہے، بشرطیکہ ریاست اپنی غیرتِ قومی کو زندہ رکھتی ہو۔ ان کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور نفاذ کسی ہالی وڈ فلم کا سین نہیں بلکہ ایک سچائی ہے، جو دنیا نے دیکھا۔ سوال یہ ہے کہ اسرائیل جیسی محدود سرزمین کا حامل ملک ایران جیسی “انقلابی ریاست” میں اتنی گہرائی تک کیسے اتر گیا؟

جواب سیدھا اور کڑوا ہے: یہ سب کچھ اندرونی تعاون، غداری اور کرپشن کے بغیر ممکن نہ تھا۔

ایران کی موجودہ دفاعی صورتِ حال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کی فضائیہ آج بھی انہی طیاروں پر منحصر ہے جو شاہِ ایران کے دور میں خریدے گئے تھے۔ انقلاب کے بعد جب ایران نے امریکہ اور یورپ سے اپنا رشتہ توڑا یا توڑ دیا گیا، تب سے نہ اس کے پاس نئے جہاز آئے، نہ پرانے کی دیکھ بھال کے لیے پرزے۔ امریکہ اور مغربی ممالک نے نہ صرف معاشی پابندیاں لگائیں بلکہ ایران کو عالمی دفاعی منڈی سے مکمل طور پر الگ تھلگ کر دیا۔ ایسے میں ایران کا ہر طیارہ، ہر رڈار اور ہر دفاعی نظام ایک چلتی پھرتی تاریخ بن چکا ہے، نہ کہ ایک فعال دفاعی ہتھیار۔

آج کے جدید دور میں جہاں ڈرون، مصنوعی ذہانت، الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر ٹیکنالوجی دشمن کو شکست دینے کے بنیادی آلات بن چکے ہیں، وہاں ایران محض بیلسٹک میزائلوں اور “خودکش ڈرونز” پر بھروسا کر رہا ہے، جو کسی حد تک جوابی کارروائی تو کر سکتے ہیں، مگر حملے کو روکنے کے قابل نہیں۔ اسرائیل جیسا چالاک اور عسکری طور پر جدید ملک اس کمزوری کو بخوبی جانتا ہے اور اسی لیے اس کی فضائیہ ایران کی ناک کے نیچے ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنا جاتی ہے، بغیر کسی مزاحمت کے۔

یہ حقیقت بھی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اسرائیل کے ایجنٹس ایران کے اندر موجود ہیں۔ موساد کا نیٹ ورک ایرانی شہروں، حتیٰ کہ حساس تنصیبات میں گھسا ہوا ہے۔ یہ محض جاسوسی کا کمال نہیں بلکہ ایران کے اندر موجود کرپٹ، خودغرض اور مفاد پرست افراد کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ بقول شاعر:

> جو درونِ خانہ آشنا ہوں، وہی دیتے ہیں شکست ورنہ بیرونی حملے کچھ نہیں بگاڑ سکتے

ایران کی سب سے بڑی کمزوری اس کی “داخلی سوسائٹی” ہے، جو معاشی بحران، بدعنوانی، سیاسی کشمکش، اور نوجوانوں کی مایوسی سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ جب ایک قوم کا نوجوان خوابوں سے محروم ہو جائے، جب علماء و حکمران عوامی مسائل سے بیگانہ ہوں، جب میڈیا صرف نعرے بیچے اور حقیقت چھپائے، تب ملک کی فضائی حدود سے پہلے اس کی نظریاتی و اخلاقی حدود پامال ہوتی ہیں۔
ایران کا دفاعی نظام اب بھی “بابا آدم کے زمانے” کا ہے، جب دنیا سوویت و امریکی طیاروں کی دوڑ میں تھی۔ آج F-35، رافیل، اور ڈرون وار فیئر کا زمانہ ہے، جبکہ ایران اب بھی اپنے پرانے F-14 اور MiG سیریز کے ساتھ خوابِ غفلت میں ہے۔

ایران کی معاشی کمزوری بھی اس کا بڑا دشمن ہے۔ پٹرول کی دولت کے باوجود عالمی پابندیاں، کرپشن اور محدود تجارتی رسائی نے اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایران نے کیوں اپگریڈیشن نہیں کی، سوال یہ ہے کہ کیا وہ کر بھی سکتا تھا؟

اور یہی کمزوری اسرائیل کی ہمت بن گئی۔ اسرائیل جانتا ہے کہ ایران جوابی حملہ کرے گا، لیکن صرف ڈرون یا میزائل سے، جسے امریکی اور خلیجی “ٹٹو ریاستیں” آسانی سے انٹرسیپٹ کر لیں گی۔ ایران کو محض حملہ کرنے کی طاقت ہے، روکنے کی نہیں۔ اور یہی ایک ریاست کی اصل کمزوری ہوتی ہے۔

ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں محض ایک فوجی مہم نہیں بلکہ ایک نفسیاتی جنگ بھی ہیں، جس کا مقصد ایران کے وقار  کو روندنا ہے۔ اگر ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی پر سنجیدہ نظر ثانی نہ کی، اور داخلی صفائی نہ کی، تو آنے والا وقت اس کے لیے اور بھی ذلت آمیز ہو سکتا ہے۔

کرپشن زدہ قومیں دشمن کے لیے خود چل کر دروازے کھولتی ہیں، اور جب اندرونی دروازے کھلے ہوں، تو دشمن کو دیوار پھلانگنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
✍محمد عباس الازہری