حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اسلام میں جہاد کے نئے باب کی بنیاد رکھنے والے اول صحابی
حضرت معاویہ رضی اللہ
اسلام میں جہاد کے نئے باب کی بنیاد رکھنے والے اول صحابی!
ازقلم: اسد الطحاوی
تمہید:
تاریخ اسلام میں جہاد حضور اکرمﷺ کی زندگی میں اپنی اب و تاب سے چمکتا اور پھیلتا رہا ۔ پھر رسول اکرمﷺ کی رحلت فرمانے کے بعد شیخین کے ادوار میں جہاد کا سلسلہ پھیلتا رہا ۔ اور انکے دور میں نئے پیدا ہونے والے فتنوں کی سرکوبی کی گئی۔ اور کئی ہزار صحابہ کرام شہید ہوئے جنکے نام تاریخ اسلام میں محفوظ بھی نہ ہو سکے۔ انکی خدمت اسلام اور ایثار کا راز انکی شہادت کے ساتھ ہی دنیا سے چھپ گیا۔
کیونکہ عند المحدثین زیادہ سے زیادہ 12 ہزار صحابہ کرام کے نام محفوظ ہو سکے اور اس میں بھی 6 ہزار کرام صحابہ کرام کی اخبار محفوظ ہو سکی ۔ جبکہ کم و بیش 1 لاکھ 25 ہزار میں بقیہ اصحاب رسولﷺ کی اخبار حتیٰ کے نام و نسب کا بھی معلوم تک نہ ہوسکا۔
شیخین کی خلافت کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ کے دور میں بھی جہاد کا سلسلہ جاری و ساری رہا جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے دور میں شروع ہوئے تھے ۔
لیکن بد قسمتی سے حضرت عثمان رضی اللہ کو جب محصور کر دیا گیا۔ تو اسلام کے اندر بڑے بڑے فتنے سر اٹھانے لگے ۔ جس سے جہاد کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اور صحابہ کرام کے مابین اختلاف اور یہ اختلاف پھر شہادت حضرت عثمان رضی اللہ سے ہوتے ہوئے جنگ جمل و صفین کا نتیجہ نکلے۔
برحال جب حضرت علی رضی اللہ کا دور خلافت شروع ہوا ۔ اس میں معاملات بہت مشکل تھے۔ ایک تو مولا علی رضی اللہ کو اندرونی معاملات سے نپٹنا تھا۔ اور انکے سامنے خوارج کی شکل میں ایک ایسا نیا فتنہ سامنے آیا ۔ جسکی نظیرپہلے دور میں نہ تھی۔ اور یہ حکمت و دنائی حضرت علی رضی اللہ کی بھی بے مثال تھی کہ انہوں نے انکی سرکوبی کے لیے سخت اقدامات کیے جسکو شروع میں دیگر صحابہ اپنانے میں ترد د محسوس کر رہے تھے ۔ لیکن مولا علی رضی اللہ کے فیصلے اور حضور اکرمﷺ کی حدیث کے زریعہ اپنے فیصلے کی صداقت جب ثابت کی تو صحابہ کرام نے دل کھول کر خوارج کی سرکوبی میں حصہ لیا۔ اور یوں اس فتنے کو مکمل پھیلنے سے پہلے ہی مولا علی رضی اللہ نے ختم کر دیا۔
یہ وہ پہلی عجیب صورت حال پر مبنی لڑائی تھی۔ جس میں لڑنے والے باہم ایک ہی کلمہ توحید کہتے جبکہ حضور کی زبانی یہ خوارج جہنم کے کتے تھے ۔ جن سے کسی قسم کی نرمی کا سلسلہ نہ رکھا مولا علی رضی اللہ نے ۔
پھر 5 پانچ مہینے امام حسن رضی اللہ کا دور خلافت آیا جو منہاج علی نبوہ یعنی خلافت راشدہ کا آخری سلسلہ تھا۔ اور اس میں حضرت امام حسن نے سب سے عظیم قربانی دیکر اس امت کو اتحاد اور سکون کا دور دیا اپنا تخت دے کر۔ جیسا کہ حضور اکرمﷺ کی خبر غیب تھی کہ میرا یہ بیٹا “سید” ہے جو خون خرابہ کرنے والے دو عظیم مسلمین کی جماعتوں میں صلح کا بائث بنے گا۔
اور یہ بے مثال کارنامہ امام حسن رضی اللہ کے حصے میں آیا جسکی بدولت اللہ نے حسنین کریمین کو جنت کے نوجوانوں کی سرداری سے نوازا۔
پھر صلح حسن رضی اللہ کے بعد جب اقتدار حضرت معاویہ رضی اللہ کے سپرد ہوا۔ اور اسکے بعد وہ تمام فتنے جو شہادت حضرت عثمان رضی اللہ کے بعد پیدا ہوئے وہ سب ختم ہو گئے۔ اور اس کے بعد مسلمانوں کے اس امن کے سالوں میں آپسی اختلاف و جنگ و جدل کا کوئی ایک چھوٹا موٹا واقعہ بھی ظاہر نہ ہوا۔ گویہ حضرت معاویہ رضی اللہ نے اپنی حکومت اور انٹیلی جنس کو بہت مضبوطی سے قائم رکھا۔ اور اپنی رعایا میں مالی اور خوشی کو قائم رکھا۔
اور حضرت معاویہ رضی اللہ کے سامنے ایک مضبوط روم موجود تھا جسکی سرکوبی اور انکو اپنے نئی فتوحات سے دور رکھنے کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ نے جہاد کا ایک نیا انقلابی جال بچھایا۔
روم کو مسلسل لڑائی میں مصروف رکھنے میں حضرت معاویہ رضی اللہ کا بہت بڑا قردار تھا۔
جیسا کہ محدث شام امام سعید بن عبدالعزیز علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
حدثنا أبو زرعة قال: حدثني عبد الرحمن بن إبراهيم عن الوليد بن مسلم عن سعيد بن عبد العزيز قال: لما قتل عثمان، واختلف الناس، لم تكن للناس غازية، ولا صائفة، حتى اجتمعت الأمة على معاوية سنة أربعين، وسموها سنة الجماعة.
قال سعيد بن عبد العزيز: فأغزا معاوية الصوائف، وشتاهم بأرض الروم ست عشرة صائفة، تصيف بها وتشتو، ثم تقفل وتدخل معقبتها، ثم أغزاهم معاوية ابنه يزيد في سنة خمس وخمسين في جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في البر والبحر حتى جاز بهم الخليج، وقاتلوا أهل القسطنطينية على بابها، ثم قفل.
امام سعید بن عبد العزیز کہتے ہیں:
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا، تو نہ کوئی لشکر جہاد کے لیے نکلا اور نہ ہی گرمیوں میں کوئی غزوہ ہوا، یہاں تک کہ امت چالیس ہجری میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر مجتمع ہو گئی، اور اسی سال کو “سنة الجماعة” (یعنی اتحاد و اتفاق کا سال) کہا گیا۔
پس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے صیفی (گرمیوں کے) جہاد شروع کروائے اور ان کو زمینِ روم میں سردیوں اور گرمیوں کے جہاد پر لگائے رکھا — سولہ (16) سال تک یہ سلسلہ جاری رہا کہ وہ گرمیوں میں جہاد کے لیے نکلتے، سردیوں میں وہیں قیام کرتے، پھر واپس لوٹتے اور ان کی جگہ دوسرا لشکر روانہ کیا جاتا۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے یزید کو پچپن (55) ہجری میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ خشکی اور سمندر دونوں راستوں سے روم کے جہاد پر بھیجا، یہاں تک کہ وہ ان کو خلیج کے پار لے گئے اور قسطنطنیہ کے دروازے پر جا کر رومیوں سے قتال کیا، پھر وہاں سے واپس شام لوٹے۔
اور یہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی آخری وصیتوں میں سے تھی کہ انہوں نے کہا: “روم کی ناک دبائے رکھو” (یعنی ان پر دباؤ قائم رکھو)۔
[تاریخ ابی زرعہ ، ص188]
اسی طرح امام ابن کثیر علیہ الرحمہ دور خلافت حضرت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
والجهاد في بلاد العدو قائم، وكلمة الله عالية والغنائم ترد إليه من اطراف الأرض والمسلمون معه في راحة وعدل وصفح وعفو
اور دشمن کی سرزمین میں جہاد جاری تھا، اللہ کا کلمہ بلند تھا، اور زمین کے کناروں سے غنیمتیں اس کے پاس لائی جاتی تھیں، اور مسلمان اس کے ساتھ راحت، انصاف، درگزر اور عفو کے ماحول میں زندگی گزار رہے تھے۔
نیز فرماتے ہیں:
وكان يغزو الروم في كل سنة مرتين، مرة في الصيف ومرة في الشتاء، ويأمر رجلاً من قومه فيحج بالناس وحج هو سنة خمسين وحج ابنه يزيد سنة احدى وخمسين، وفيها أو في التي بعدها أغزاه بلاد الروم فسار معه خلق كثير من كبراء الصحابة حتى حاصر القسطنطينة، وقد ثبت في الصحيح [أول جيش يغزو القسطنطينة مغفور لهم
وہ (حضرت معاویہ رضی اللہ )ہر سال دو مرتبہ رومیوں کے خلاف جہاد کے لیے جایا کرتے تھے۔، ایک بار گرمیوں میں اور ایک بار سردیوں میں۔ اور اپنی قوم کے ایک شخص کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں کو حج کرائے، جبکہ خود انہوں نے پچاس ہجری میں حج کیا، اور ان کے بیٹے یزید نے اکیاون ہجری میں حج کیا۔ اسی سال یا اگلے سال میں انہوں نے یزید کو روم کی سرزمین پر جہاد کے لیے بھیجا، تو صحابہ کرامؓ کے بہت سے بڑے لوگ اس کے ساتھ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ انہوں نے قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا۔ اور صحیح حدیث میں ثابت ہے: [پہلا لشکر جو قسطنطنیہ پر چڑھائی کرے گا، وہ بخشا ہوا ہے]۔
[البداية والنهايةوج8، ص 135]
حضرت معاویہ رضی اللہ کا جہاد اور کفر سے لڑنے میں ایسی بے مثال جزبے کی وجہ سے وہ حضور اکرم کی اس خوشخبری کے مستحق بنے ۔
اور اسلامی جہاد میں پہلی بار اسلامی نیوی کی بنیاد رکھنے والے مجاہد بنے ۔
جیسا کہ محد ث مغرب امام ابن عبد البر علیہ رحمہ انبیاء کے سچے خوابوں اور سورہ واقعہ کے تحت حضرت معاویہ کو اولین گروہ امت جو جہاد میں شامل ہوئے ان میں شمار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ﻭﻣﺎ ﻳﻨﺒﻐﻲ ﻓﻲ ﺭﻭاﻳﺘﻪ ﻭﺣﻤﻠﻪ ﻭﺳﻴﺄﺗﻲ ﻣﻦ ﻫﺬا اﻟﺒﺎﺏ ﺫﻛﺮ ﻓﻲ ﻣﻮاﺿﻊ ﻣﻦ ﻫﺬا اﻟﻜﺘﺎﺏ ﺇﻥ ﺷﺎء اﻟﻠﻪ ﻭﻓﻴﻪ ﺃﻥ اﻟﺠﻬﺎﺩ ﺗﺤﺖ ﺭاﻳﺔ ﻛﻞ ﺇﻣﺎﻡ ﺟﺎﺋﺰ ﻣﺎﺽ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ اﻟﻘﻴﺎﻣﺔ ﻷﻧﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺪ ﺭﺃﻯ اﻵﺧﺮﻳﻦ ﻣﻠﻮﻛﺎ ﻋﻠﻰ اﻷﺳﺮﺓ
ﻛﻤﺎ ﺭﺃﻯ اﻷﻭﻟﻴﻦ ﻭﻻ ﻧﻬﺎﻳﺔ ﻟﻵﺧﺮﻳﻦ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ ﻗﻴﺎﻡ اﻟﺴﺎﻋﺔ
ﻗﺎﻝ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﻗﻞ ﺇﻥ اﻷﻭﻟﻴﻦ ﻭاﻵﺧﺮﻳﻦ ﻟﻤﺠﻤﻮﻋﻮﻥ ﺇﻟﻰ ﻣﻴﻘﺎﺕ ﻳﻮﻡ ﻣﻠﻌﻮﻡ
ﻭﻗﺎﻝ ﺛﻠﺔ ﻣﻦ اﻷﻭﻟﻴﻦ ﻭﺛﻠﺔ ﻣﻦ اﻵﺧﺮﻳﻦ
(القرآن)
اور جو کچھ اس کی روایت اور اس کے بیان کرنے میں ہونا چاہیے، وہ ان شاء اللہ اس کتاب کے کئی مقامات میں ذکر کیا جائے گا۔
اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر امام کے جھنڈے تلے جہاد قیامت تک جائز اور جاری رہے گا، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بعد والوں کو بھی بادشاہوں کے طور پر دیکھا، جس طرح پہلے والوں کو دیکھا تھا، اور بعد والوں کا سلسلہ قیامت تک ختم نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کہہ دو کہ یقیناً پہلے اور بعد والے سب ایک مقررہ دن کے وقت جمع کیے جائیں گے
(الواقعہ: 49-50)
اور فرمایا: ایک گروہ پہلے والوں میں سے ہوگا اور ایک گروہ بعد والوں میں سے
(الواقعہ: 39-40)
اور یہ ہمیشہ کے لیے جاری رہے گا۔
پھر امام ابن عبد البر علیہ الرحمہ حضرت معاویہ کے تعلق سے فرماتے ہیں:
ﻭﻫﺬا ﻋﻠﻰ اﻷﺑﺪ ﻭﻓﻴﻪ ﻓﻀﻞ ﻟﻤﻌﺎﻭﻳﺔ ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ ﺇﺫ ﺟﻌﻞ ﻣﻦ ﻏﺰا ﺗﺤﺖ ﺭاﻳﺘﻪ ﻣﻦ اﻷﻭﻟﻴﻦ ﻭﺭﺅﻳﺎ اﻷﻧﺒﻴﺎء ﺻﻠﻮاﺕ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻬﻢ ﻭﺣﻲ اﻟﺪﻟﻴﻞ ﻋﻠﻰ ﺫﻟﻚ ﻗﻮﻝ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ ﺇﻧﻲ ﺃﺭﻯ ﻓﻲ اﻟﻤﻨﺎﻡ ﺃﻧﻲ ﺃﺫﺑﺤﻚ ﻓﺎﻧﻈﺮ ﻣﺎﺫا ﺗﺮﻯ ﻓﺄﺟﺎﺑﻪ اﺑﻨﻪ ﻗﺎﻝ ﻳﺎ ﺃﺑﺖ اﻓﻌﻞ ﻣﺎ ﺗﺆﻣﺮ ﻭﻫﺬا ﺑﻴﻦ ﻭاﺿﺢ ﻭﻗﺎﻟﺖ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺃﻭﻝ ﻣﺎ ﺑﺪﺉ ﺑﻪ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﻦ اﻟﻮﺣﻲ اﻟﺮﺅﻳﺎ اﻟﺼﺎﺩﻗﺔ ﻓﻜﺎﻥ ﻻ ﻳﺮﻯ ﺭﺅﻳﺎ ﺇﻻ ﺟﺎءﺕ ﻣﺜﻞ ﻓﻠﻖ اﻟﺼﺒﺢ ﻭﻓﻲ ﻓﺮﺡ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭاﺳﺘﺒﺸﺎﺭﻩ ﻭﺿﺤﻜﻪ ﺑﺪﺧﻮﻝ اﻷﺟﺮ ﻋﻠﻰ ﺃﻣﺘﻪ ﺑﻌﺪﻩ ﺳﺮﻭﺭا ﺑﺬﻟﻚ ﺑﻴﺎﻥ ﻣﺎ ﻛﺎﻥ ﻋﻠﻴﻪ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﻦ اﻟﻤﻨﺎﺻﺤﺔ ﻷﻣﺘﻪ۔
اسی میں حضرت معاویہ ان پر اللہ کی رحمت ہو انکے لیے فضیلت ہے، کیونکہ جو ان کے جھنڈے تلے جہاد میں شریک ہوئے، وہ پہلے لوگوں میں سے تھے۔ (سمندری جہاد کے تعلق سے)
اور انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں، اس کی دلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول ہے:
میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، پس دیکھو تمہاری کیا رائے ہے؟
(الصافات: 102)
تو ان کے بیٹے نے جواب دیا: اے ابا جان! وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے
یہ بات بالکل واضح اور روشن ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
سب سے پہلے جو چیز رسول اللہ ﷺ پر وحی کی صورت میں ظاہر ہوئی، وہ سچے خواب تھے، پس جو خواب آپ دیکھتے، وہ صبح کی روشنی کی مانند ظاہر ہو جاتا تھا۔
اور رسول اللہ ﷺ کا اپنی امت پر اجر کے داخل ہونے پر خوشی کا اظہار، بشارت دینا اور مسکرانا، اس بات کو واضح کرتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کی خیرخواہی میں ہمیشہ مشغول رہتے تھے۔
[التمھید ابن عبد البر ،ج1۔ ص 235]
نیز دوسری کتاب میں بھی ایسا فرماتے ہیں:
ﻗﺎﻝ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ (ﺛﻠﺔ ﻣﻦ اﻷﻭﻟﻴﻦ ﻭﺛﻠﺔ ﻣﻦ اﻵﺧﺮﻳﻦ) اﻟﻮاﻗﻌﺔ 39 40
ﻭﻫﺬا ﻋﻠﻰ اﻵﻳﺔ
ﻭﻓﻴﻪ ﻓﻀﻞ ﻟﻤﻌﺎﻭﻳﺔ ﺇﺫ ﺟﻌﻞ ﻣﻦ ﻏﺰا ﺗﺤﺖ ﺭاﻳﺘﻪ ﻣﻦ اﻷﻭﻟﻴﻦ
ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻗﻠﻨﺎ ﻓﻲ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺩﻟﻴﻞ ﻋﻠﻰ ﺭﻛﻮﺏ اﻟﺒﺤﺮ ﻟﻠﺠﻬﺎﺩ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻟﻠﺮﺟﺎﻝ ﻭاﻟﻨﺴﺎء ﻻﺳﺘﻴﻘﺎﻅ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﻫﻮ ﻳﻀﺤﻚ ﻓﺮﺣﺎ ﺑﺬﻟﻚ ﻓﺪﻝ ﻋﻠﻰ ﺟﻮاﺯﻩ ﻭﺇﺑﺎﺣﺘﻪ ﻭﻓﻀﻞﻫ ﻭﺟﻌﻠﻨﺎ اﻟﻤﺒﺎﺡ ﻓﻴﻤﺎ ﺭﻛﺐ ﻓﻴﻪ اﻟﺒﺤﺮ ﻗﻴﺎﺳﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﻐﺰﻭ ﻓﻴﻪ
ﻭﻳﺤﺘﻤﻞ ﺑﺪﻟﻴﻞ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ اﻟﻤﻮﺕ ﻓﻲ ﺳﺒﻴﻞ اﻟﻠﻪ ﻭاﻟﻘﺘﻞ ﺳﻮاء ﻓﻲ اﻝﻓﻀﻞ ﻷﻥ ﺃﻡ ﺣﺮاﻡ ﻟﻢ ﺗﻘﺘﻞ ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻣﺎﺗﺖ ﻣﻦ ﺻﺮﻋﺔ ﺩاﺑﺘﻬﺎ
ﻭﻗﺪ ﺫﻛﺮﻧﺎ ﻓﻲ ((اﻟﺘﻤﻬﻴﺪ)) اﻵﺛﺎﺭ اﻟﺸﻮاﻫﺪ ﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﻤﻌﻨﻰ ﻭاﺧﺘﻼﻓﻬﺎ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ
اللہ عزوجل نے فرمایا: ایک گروہ پہلے والوں میں سے ہوگا اور ایک گروہ بعد والوں میں سے
(الواقعہ: 39-40)،
اور یہی آیت اس بات کی دلیل ہے۔
اسی میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے فضیلت ہے، کیونکہ ان کے جھنڈے تلے جہاد کرنے والوں میں پہلے لوگوں کا شمار تھا۔
اور ہم نے حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ سمندر میں جہاد اور دیگر مقاصد کے لیے مردوں اور عورتوں کا سفر کرنا جائز ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے جب اس کا تصور فرمایا تو خوشی کے سبب مسکرا دیے، جو اس کے جواز، اباحت اور فضیلت پر دلیل ہے۔ ہم نے ان تمام سمندری اسفار کو اسی اصول پر مباح قرار دیا ہے، جیسے سمندری جہاد کو مباح سمجھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں موت اور قتل، فضیلت کے لحاظ سے برابر ہیں، کیونکہ حضرت اُمّ حرام رضی اللہ عنہا کو قتل نہیں کیا گیا تھا، بلکہ وہ اپنی سواری کے گرنے سے وفات پا گئی تھیں۔
ہم نے “التمہید” میں اس موضوع سے متعلق آثار و شواہد ذکر کیے ہیں اور اس حوالے سے اختلافات کو بھی بیان کیا ہے۔
[الاستذکار ج5،ص128]
امام ابن عبدالبر کے کلام کی شرح :
یعنی امام ابن عبد البر فرما رہے ہیں کہ حضور کی امت میں سے ایک پہلا گروہ ہوگا (جو سمندری جہاد کریگا)
اور
پھر امت کے بعد والا گروہ ہوگا۔
یہاں امام ابن عبد البر مابین صحاب سابقون و اولون کی بات نہیں کر رہے ۔
بلکہ امت محمدیہ کی بات کر رہے ہیں کہ ان میں اولون و سابقون سمندری جہاد میں حصہ لینگے۔
اور مطلق جہاد ہمیشہ تاقیامت تک قائم رہیگا۔
اور حضرت معاویہ کی فضیلت یہ ہے کہ امت محمدی کا پہلا گروہ جو سمندری جہاد کیا وہ حضرت معاویہ کے جھنڈے تلے یعنی انکی کماند میں تھے جو کہ حضرت معاویہ کی ذاتی فضیلت ہے۔ ۔
اور یہی بات عند ائمہ سلف متفقہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ ہی پہلے شخص تھے جو سمندری جہاد کی بنیاد ڈالنے والے تھے ۔
حدیث اول جیش کی شرح میں امام عینی لکھتے ہیں:
كر معناه: قوله: (أول جيش من أمتي يغزون البحر) أراد به جيش معاوية، وقال المهلب: معاوية أول من غزا البحر،
(أول جيش من أمتي يغزون البحر)
اس سے مراد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا لشکر ہے۔ مہلب نے کہا: معاویہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے سمندر کا غزوہ کیا۔
[عمدتہ القاری ]
اور سمندر میں جہاد کی بات پہلی بار اللہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ کے قلب میں ڈالی ۔ اور آپ نے اس کی جستجو تب ہی شروع کر دی جب آپ حضرت عمر رضی اللہ کے دور میں شام کے گورنر تھے ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ سے بار بار اسکی اجازت مانگتے رہے ۔ لیکن اس وقت حضرت عمر رضی اللہ نے سمندر میں جہا د کی اجازت نہ تھی ۔ لیکن پھر آپ نے یہ اجازت بار بار حضرت عثمان رضی اللہ سے مانگی اور آپ کی مراد پوری ہوئی ۔
جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ اس روایت کی شرح میں فرماتے ہیں :
وكان ذلك في خلافة عثمان ومعاوية يومئذ أمير الشام وظاهر سياق الخبر يوهم أن ذلك كان في خلافته وليس كذلك وقد اغتر بظاهره بعض الناس فوهم فإن القصة إنما وردت في حق أول من يغزو في البحر وكان عمر ينهى عن ركوب البحر فلما ولي عثمان استأذنه معاوية في الغزو في البحر فأذن له ونقله أبو جعفر الطبري عن عبد الرحمن بن يزيد بن أسلم ويكفي في الرد عليه التصريح في الصحيح بأن ذلك كان أول ما غزا المسلمون في البحر ونقل أيضا من طريق خالد بن معدان قال أول من غزا البحر معاوية في زمن عثمان وكان استأذن عمر فلم يأذن له فلم يزل بعثمان حتى أذن له وقال لا تنتخب أحدا بل من اختار الغزو فيه طائعا فأعنه ففعل وقال خليفة بن خياط في تاريخه في حوادث سنة ثمان وعشرين وفيها غزا معاوية البحر ومعه امرأته فاختة بنت قرظة ومع عبادة بن الصامت امرأته أم حرام وأرخها في سنة ثمان وعشرين غير واحد وبه جزم بن أبي حاتم وأرخها يعقوب بن سفيان في المحرم سنة سبع وعشرين قال كانت فيه غزاة قبرس الأولى۔
یہ واقعہ خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں پیش آیا،
اور اس وقت معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے گورنر تھے۔
ظاہری طور پر روایت کے سیاق سے یہ وہم ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت معاویہ کی خلافت کے دور میں پیش آیا،
حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
بعض لوگوں نے اس ظاہر سے دھوکا کھایا اور غلط فہمی میں پڑ گئے،
حالانکہ یہ واقعہ ان مسلمانوں کے متعلق ہے جنہوں نے سب سے پہلے سمندر میں جہاد کیا۔
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سمندر کے سفر سے منع فرماتے تھے،
لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے سمندر کے راستے جہاد کی اجازت مانگی،
تو حضرت عثمان نے اجازت دے دی۔
امام ابو جعفر طبری نے عبدالرحمن بن یزید بن اسلم کے واسطے سے یہی بات نقل کی ہے۔
اس کے رد کے لیے یہ کافی ہے کہ صحیح حدیث میں واضح طور پر آیا ہے
کہیہ وہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں نے سمندر میں غزوہ کیا۔
اسی طرح ایک اور روایت میں خالد بن معدان سے منقول ہے کہ:
سب سے پہلے جس نے سمندر میں غزوہ کیا، وہ معاویہ رضی اللہ عنہ تھے عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں۔
کیونکہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی تو انہوں نے انکار فرمایا،
پھر عثمان رضی اللہ عنہ سے بار بار درخواست کی یہاں تک کہ انہوں نے اجازت دی
اور فرمایا:
کسی کو زبردستی منتخب نہ کرو، بلکہ جو از خود اس میں شریک ہونا چاہے، اس کی مدد کرو۔
تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔
خلیفہ بن خیاط نے اپنی تاریخ میں سن 28 ہجری کے واقعات میں لکھا:
اسی سال معاویہ نے سمندر کا غزوہ کیا، اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ فاختہ بنت قرظة تھیں،
اور عبادة بن الصامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی بیوی ام حرام رضی اللہ عنہا تھیں۔
اور ابن ابی حاتم نے بھی یہی سن یعنی 28 ہجری بیان کیا ہے،
اور یعقوب بن سفیان نے محرم الحرام 27 ہجری میں اس غزوہ کی تاریخ دی ہے
اور کہایہی قبرص کا پہلا غزوہ تھا۔
[فتح الباری شرح صحیح البخاری ]
اسی طرح امام ابن کثیر اس روایت کے تعلق سے فرماتے ہیں:
وقد ثبت في الحديث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” أول جيش يغزو مدينة قيصر مغفور لهم “.
وهو الجيش الثاني الذي رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم في منامه عند أم حرام فقالت: ادع الله أن يجعلني منهم، فقال: ” أنت من الأولين ” .
يعني جيش معاوية حين غزا قبرص، ففتحها في سنة سبع وعشرين أيام عثمان بن عفان، وكانت معهم أم حرام فماتت هنالك بقبرص، ثم كان أمير الجيش الثاني ابنه يزيد بن معاوية، ولم تدرك أم حرام جيش يزيد هذا.
وهذا من أعظم دلائل النبوة
یہ بات حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر (روم کے بادشاہ) کے شہر پر حملہ کرے گا، ان کی مغفرت کر دی گئی ہے۔
اور یہ وہ دوسرا لشکر تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی خواب میں دیکھا تھا جب آپ ام حرام رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف فرما تھے۔
تو ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:
“اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔”
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم پہلے لشکر میں شامل ہو گی۔”
مراد یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا لشکر جو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 27 ہجری میں قبرص پر حملہ آور ہوا اور اسے فتح کیا۔
ام حرام رضی اللہ عنہا ان کے ساتھ تھیں اور قبرص ہی میں وفات پا گئیں۔
پھر دوسرا لشکر یزید بن معاویہ کی قیادت میں گیا،
لیکن ام حرام رضی اللہ عنہا نے وہ دوسرا لشکر نہیں پایا (یعنی اس وقت وہ زندہ نہ تھیں)۔
یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کی عظیم ترین نشانیوں میں سے ہے۔
[البداية والنهاية]
تحقیق: اسد الطحاوی
رضی اللٰ٘ہ عنہ