جو دوست عرب ممالک میں رہتے ہیں ان کے علم میں ہو گا کہ عرب گوروں سے شدید مرعوب ہیں۔
یورپ کا امیر ترین آدمی فیشن برانڈ لوئی وُٹوں کا مالک ہے۔ اسی طرح دیگر برانڈز مثلاً گوچی، پراڈا ، ڈائر  اور شنیل وغیرہ کا بھی بزنس اربوں ڈالرز میں ہے۔
ان یورپ برانڈز کے سب سے بڑے گاہکوں میں ایشیا کی کمتری کی ماری قوموں کے ساتھ ساتھ عرب ممالک بھی بہت نمایاں ہیں۔
ان فیش برانڈز کی ایک ایک شے کئی کئی ہزار ڈالرز میں ہوتی ہے۔  لیکن ان عربوں کے ہاں ہر دوسری عورت کے پاس  گوچی اور شنیل وغیرہ کی مصنوعات ہوتی ہیں ، اور وہ بھی ہر ایک کے پاس ایک سے زیادہ۔ حتٰی کہ اچھی خاصی عمر کی اور شادی شدہ  عورتیں اور مائیں  بھی گوچی وغیرہ کے بیگز لٹکائے پھرتی ہیں جن کی ادھیڑ عمری کی وجہ سے نہ کوئی کشش ہوتی ہے ۔ یعنی یہ عیاشی ان کا طرزِ زندگی ہے۔
یہی حال ان ممالک کی مقتدر شخصیات کا ہے، جن کی نوجوانی سے مغربی ممالک میں تعلیم اور آنیاں جانیاں لگی رہتی ہیں اور وہ مغربی ممالک سے ملنے والی عیاشیوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ان کے بادشاہ اور امیرترین افراد مغربی مصوروں کی پینٹنگز اور پرتعیش کشتیوں وغیرہ کے رسیا ہوتے ہیں۔
یہ سب شاپنگز عین اس وقت بھی پورے زور  و شور سے ، بلکہ پہلے سے بھی زیادہ زوروشور سے جاری ہیں  جب یہی خبیث مغرب مسلمانوں کی چیر پھاڑ کرنے میں یکسو ہے۔ (جس کا مظاہرہ آج کی تازہ جی سیون کانفرنس کے اعلامیہ میں دیکھا جا سکتا ہے، جس میں اس۔ رائل سے شدید محبت کا اعادہ کیا گیا ہے۔)

چلتے چلتے ایک اور دلچسپ بات: یورپ کے کچھ شہر ایسے ہیں جہاں ہمیں انتہائی مہنگی یورپ برانڈز دیکھ کر کچھ حیرت ہوئی، کیونکہ ہر شہر میں یہ اتنے زیادہ نہیں ہوتے۔ تو غور کرنے پر پتا چلا کہ جن شہروں میں عربوں کی سیاحت زیادہ ہوتی ہے وہیں ان مہنگی برانڈز کی دکانیں بھی کھلی ہوتی ہیں۔  یعنی ضرورت ایجاد کی ماں۔ ان برانڈز کو پتا ہوتا ہے کہ عرب عوام کی اکثریت گھگھو گھوڑوں پر مشتمل ہے جس کو کوئی پرواہ نہیں کہ ہر سال کتنے دسیوں ارب ڈالرز یہ ان ہی مغربی ممالک کی پرتعیش مصنوعات پر لٹا دیتے ہیں جن کے بغیر بھی گزارہ ہو سکتا ہے۔

یہ ان اسلاف اور اس نبی ﷺ  کے وارث ہونے کے دعویدار ہیں جنہوں نے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر ۔۔۔۔ آرام نہیں کیا بلکہ اس حالت میں جنگی تیاریاں کیں اور جنگیں لڑیں۔ ایک ایک دن میں اپنے جسموں پر درجنوں زخم لگوائے۔ اپنے ایک ساتھی۔۔۔ سیدنا عثمان کے قتل کی خبر سننے پر نبی ﷺ اور ان کی ساری ہی ساتھی قیادت نے چودہ سو کی تعداد میں بیعتِ رضوان کرتے ہوئے مشرکین سے انتقام لیتے ہوئے اپنی جانوں کے نظرانے پیش کرنے کا عظیم عہد کیا۔
آج اس نبی ﷺ کے وارث ہونے کے دعویدار مغربی عیاشیوں سے جان نہیں چھڑا سکتے۔۔۔ کہ بیچاروں کو گوچی ، لوئی وُٹوں اور شنیل وغیرہ کے بیگز نہ ملے ۔۔۔ اور بیچاروں کو امریکی برگرز کا چسکا نہ ملا تو کہیں یہ مر ہی نہ جائیں۔۔۔

پیٹ بھر جاتے ہیں۔۔۔ آنکھیں نہیں بھرتیں؟
ان آنکھوں کو قبر کی مٹی بھرے گی!

فداک امی و ابی یارسول اللہ ﷺ !  کہنے والے صحابہ، اور اپنے ہاتھوں سے تیر روک روک کے چھلنی ہو جانے والے صحابہ کے وارث ہونے کے دعویدارو! کیا “توحید” کے یہی تقاضے ہوتے ہیں؟

تحریر: Usman EM
۔۔۔۔
۔۔۔۔