أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَالۡيَوۡمَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الۡكُفَّارِ يَضۡحَكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پس آج مؤمنین کافروں پر ہنس رہے ہیں.

المطففین : ٣٥۔ ٣٤ میں فرمایا : پس آج مسلمان کافروں پر ہنس رہے ہیں۔ عزت والی مسندوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کے کفار پر آخرت میں ہنسنے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) دنیا میں کفار مسلمانوں کی تنگ دستی اور زبوں حالی دیکھ کر ان پر ہنستے تھے اور آخرت میں مسلمان کفار کو عذاب میں مبتلا دیکھ کر ان پر ہنسیں گے اور اس پر ہنسیں گے کہ کفار نے باقی لذتوں کے بدلہ میں فانی لذتوں کا سودا کرلیا اور ان کو اس تجارت میں خسارا ہوا۔

(٢) کفار دوزخ میں دیکھیں گے کہ دوزخ میں باہر نکلنے کا دروازہ کھل گیا ہے جب وہ دوڑ کر اس دروازے تک پہنچیں گے تو وہ دوازہ بند ہوجائے گا اور مؤمنین جنت میں عزت والی مسندوں پر بیٹھے ہوئے یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے اور یہ منظر دیکھ کر ہنس رہے ہوں گے۔ مؤمنین عزت والی مسندوں پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے کہ کفار دنیا کی عزت اور تکبر کے بعد آج کتنی ذلت اور رسوائی میں ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 83 المطففين آیت نمبر 34