اِنَّهٗ ظَنَّ اَنۡ لَّنۡ يَّحُوۡرَ – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 14
sulemansubhani نے Sunday، 13 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّهٗ ظَنَّ اَنۡ لَّنۡ يَّحُوۡرَ ۞
ترجمہ:
اس کا گمان تھا کہ وہ اللہ کی طرف نہیں لوٹے گا
الانشقاق : ١٥۔ ١٣ میں فرمایا : بیشک وہ ( دنیا میں) اپنے اہل میں بہت خوش تھا۔ اس کا گمان تھا وہ اللہ کی طرف نہیں لوٹے گا۔ کیوں نہیں ! بیشک اس کا رب اس کو خوب دیکھنے والا تھا۔
الانشقاق : ١٤ میں ” یحور “ کا لفظ ہے، اس کا مصدر ” حور “ ہے۔ ” حور “ کا مشہور معنی سفیدی ہے، ” الخیز الحواری “ کا معنی ہے : سفید روٹی، اور اسی وجہ سے جنت کی گوری خواتین کو قرآن مجید میں حور فرمایا ہے، حصرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : مجھے ” یحور “ کے معنی کا اس وقت تک نہیں پتہ چلا حتیٰ کہ میں نے سنا : ایک اعرابی اپنی بیٹی سے کہہ رہا تھا :” حوری ارجعی الی “ اے گوری بچی ! میری طرف لوٹ آ، اور اس آیت کا معنی ہے : اس کا گمان تھا کہ وہ اللہ کی طرف نہیں لوٹے گا۔
اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
اللھم انی اعوذ بلک من و عشاء السفرو کا بۃ المنقلب و الحور بعد الکور۔ الحدیث
اے اللہ ! میں سفر کی مشقت سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اور واپسی کے غم سے اور زیادتی کے بعد کمی کی طرف لوٹنے سے۔
( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٣٤٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٤٥٠، سنن نسائی رقم الحدیث : ٥٥٠٨، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٠٨٠٤)
القرآن – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 14