أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّهٗ كَانَ فِىۡۤ اَهۡلِهٖ مَسۡرُوۡرًا ۞

ترجمہ:

بیشک وہ ( دنیا میں) اپنے اہل میں بہت خوش تھا.

کافر کی دنیا کی خوش حالی کے بعد آخرت کی تنگی کی طرف لوٹنا 

الانشقاق : ١٥۔ ١٣ میں فرمایا : بیشک وہ ( دنیا میں) اپنے اہل میں بہت خوش تھا۔ اس کا گمان تھا وہ اللہ کی طرف نہیں لوٹے گا۔ کیوں نہیں ! بیشک اس کا رب اس کو خوب دیکھنے والا تھا۔

دنیا میں اہل جنت غم اور خوف میں مبتلا رہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آخرت میں نعمتیں اور خوشی عطاء فرمائی۔

جیسا کہ ان آیات میں ہے :

قانو انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین۔ فمن اللہ علینا ووقنا عذاب السموم۔ ( الطور : ٣٧۔ ٣٦)

( اہل جنت کہیں گے) ہم سے پہلے اپنے اہل کے درمیان بہت ڈرتے رہتے تھے۔ سو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہم کو دوزخ کی گرم ہوائوں کے عذاب سے بچا لیا۔

اور اہل دوزخ کے متعلق یہ بتایا کہ وہ دنیا میں بہت خوش تھے، پھر ان کو آخرت میں دوزخ کے عذاب میں دوزخ کے عذاب میں جھونک دیا گیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 13