فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرً – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 8
sulemansubhani نے Sunday، 13 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا ۞
ترجمہ:
تو اس سے عنقریب بہت آسان حساب کیا جائے گا
الانشقاق : ٩۔ ٧ میں فرمایا : سو جس شخص کا صحیفہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ تو اس سے عنقریب بہت آسان حساب لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے اہل کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا۔
آسان حساب کا معنی یہ ہے کہ اس کے اوپر اس کے اعمال پیش کیے جائیں اور وہ جان لے کہ ان اعمال میں یہ طاقت ہے اور یہ معصیت ہے، پھر اس کو طاعت کے اوپر ثواب دیا جائے اور اس کی معصیت سے در گزر کرلیا جائے تو یہ آسان حساب ہے، اس میں اس شخص پر کوئی سختی ہے نہ اس سے کوئی مناقشہ ہے، اور نہ اس سے یہ کہا جائے گا : تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ اور نہ اس سے یہ کہا جائے گا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟ کیونکہ اگر اس سے کوئی عذر پوچھا جائے اور وہ عذر پیش نہ کرے سکے تو وہ رسوا ہوگا، پھر جب اس سے یہ آسان حساب لیا جائے گا تو وہ اپنے اہل کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا اور وہ ثواب کو حاصل کرنے والا ہوگا اور عذاب سے نجات پانے والا ہوگا اور اس کے اہل سے مراد اس کو ملی ہوئی بڑی آنکھوں والی حوریں، اس کی بیویاں اور اس کی اولاد ہیں، بہ شرطی کہ وہ مومن اور اہل جنت سے ہوں۔
آسان حساب کے متعلق احادیث
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت عائشہ (رض) جب بھی کوئی ایسی بات سنیں، جس کو انہوں نے یہ سمجھا ہوتا تو وہ اس کے متعلق سوال کرتیں، حتیٰ کہ اس کو سمجھ لیتیں اور بیشک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : جس شخص سے حساب لیا گیا، اس کو عذاب دیا گیا ہے، حضرت عائشہ (رض) نے سوال کیا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا :
فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا۔ (الانشقاق : ٨) تو اس سے عنقریب بہت آسان حساب لیا جائے گا۔
آپ نے فرمایا : اس سے مراد حساب کو پیش کرنا ہے، لیکن جس سے حساب میں مناقشہ کیا جائے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٠٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٣٧، مسند احمد ج ٦ ص ٤٧ )
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے : اے اللہ ! مجھ سے آسان حساب لینا، میں نے کہا : یا نبی اللہ ! آسان حساب کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے صحیفہ اعمال کو دیکھے اور اس سے در گزر فرما لے، اور جس سے اس دن حساب میں مناقشہ کیا جائے گا وہ ہلاک ہوجائے گا اور مومن پر دنیا میں جو بھی مصیبت آتی ہے، اللہ عزوجل اس مصیبت کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے، حتیٰ کہ اسے جو کانٹا چبھتا ہے۔ ( المستدرک ج ١ ص ٢٥٥۔ ٥٧، شعب الایمان رقم الحدیث : ٢٧٠، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٧٣٧٢۔ ٨٤٩، مسند احمد ج ٦ ص ٤٨ )
القرآن – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 8