أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالشَّفَقِۙ ۞

ترجمہ:

پس میں شفق کی قسم کھاتا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس میں شفق کی قسم کھاتا ہوں۔ اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ سمیٹ لے۔ اور چاند کی جب وہ پورا ہوجائے۔ تم ضرور درجہ بہ درجہ چڑھو گے۔ تو ان کو کیا ہوا وہ کیوں ایمان نہیں لاتے ؟۔ اور جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جائے تو وہ سجدہ نہیں کرتے۔ بلکہ کفار جھٹلا رہے ہیں۔ اور اللہ خوب جاننے والا ہے جس کو یہ اپنے دلوں میں رکھے ہوئے ہیں۔ سو آپ ان کو درد ناک عذاب کی بشارت سنا دیجئے۔ سو ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے، ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ ( الانشقاق : ٢٥۔ ١٦)

” شفق “ کا معنی

الانشقاق : ١٦ میں ” شفق “ کا لفظ ہے۔

” شفق “ کے معنی میں اختلاف ہے، فقہاء شافعیہ کے نزدیک غروب ِ آفتاب کے بعد جو سرخی آسمان کے کناروں میں دکھائی دیتی ہے وہ شفق ہے اور فقہاء احناف کے نزدیک اس سرخی کے غائب ہونے کے بعد جو سفیدی دکھائی دیتی ہے وہ شفق ہے۔

محمد بن محمود باترتی متوفی ٧٨٦ ھ لکھتے ہیں :

شفق کے مصداق میں علماء کا اختلاف ہے، امام ابوحنیفہ نے فرمایا : شفق آسمان کے کناروں میں وہ سفیدی ہے جو سرخی کے بعد ظاہر ہوتی ہے، حضرت ابو بکر، حضرت معاذ، حضرت انس اور حضرت ابن الزبیر (رض) کا بھی یہی قول ہے، اور امام ابو یوسف اور امام محمد نے کہا کہ شفق سرخی ہے، اور امام ابوحنیفہ سے بھی ایک روایت یہی ہے، یہ حضرت ابن عمر، حضرت شداد بن اوس اور حضرت عبادہ بن الصامت (رض) کا قول ہے اور امام شافعی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ شفق سرخی ہے۔ ( مؤطا امام مالک ج ١ ص ٣٩، سنن دارقطنی ج ١ ص ٣٦٩) اور امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مغرب کا آخری وقت وہ ہے جب آسمان کے کناروں میں سیاہی پھیل جائے۔ ( سنن ابو دائود ج ١ ص ٥٧، اسلام آباد)

اور آسمان کے کناروں میں سیاہی اسی وقت پھیلتی ہے جب سفیدی زائل ہوجائے اور امام شافعی نے جو حدیث روایت کی ہے کہ شفق سرخی ہے، وہ دراصل حدیث موقوف ہے۔ ( عنایہ مع فتح القدیر ١ ص ٢٢٤۔ ٢٢٣، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 16