أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّيۡلِ وَمَا وَسَقَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ سمیٹ لے

الانشقاق : ١٧ میں فرمایا : اور رات کی اور جن چیزوں کو وہ سمیٹ لے۔

” وسق “ اور ” اتسقاق “ کا معنی

اس آیت میں ” وسق “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : جمع کرنا، اسی اعتبار سے فقہاء غلہ کے اس پیمانے کو وسق کہتے ہیں جس میں ساٹھ صاع طعام ( غلہ یا اناج) جمع کیا جاسکے ( ایک صاع چار کلو گرام کا ہوتا ہے) اور ” وما وسق “ سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جن کو رات جمع کرلیتی ہے، جیسے چاند اور ستارے، اور انسانوں، حیوانوں اور حشرارت الارض کی حرکات، کام کاج اور انتشار سے سکون کی طرف رجوع کرنا۔

سعید بن جبیر نے کہا : اس سے مراد ہے : رات میں انسان جو کم کرتے ہیں، قفال نے کہا : ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد بندوں کا تہجد پڑھنا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان مسلمان بندوں کی تحسین فرمائی ہے جو سحری کے وقت اٹھ کر استغفار کرتے ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 17