أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَذِنَتۡ لِرَبِّهَا وَحُقَّتۡ ۞

ترجمہ:

اور اپنے رب کا حکم سن کر اس کی اطاعت کرے گا اور یہی اس پر حق ہے۔

” اذنت “ کا معنی

الانشقاق : ٢ میں ” اذنت “ کا لفظ ہے، علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے : اس کا معنی ہے : کسی بات کو سن کر اس کا علم حاصل کیا جائے۔ (المفردات ج ١ ص ١٧، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے فرمایا ہے کہ درج ذیل حدیث میں بھی ” اذن “ کا معنی سنا ہے، حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں :

ما اذن اللہ لشئی کا ذنہ لنبی یتغنی بالقرآن

اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو اتنا نہیں سنا جتنا اس نے اپنی نبی سے خوش آوازی کے ساتھ قرآن مجید کو سنا ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٠٢٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٩٠)

حضرت ابن عباس (رض) اور مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ” واذنت لربھا “ کا معنی ہے : زمین نے اپنے رب کا حکم سنا۔

قتادہ اور ضحاک نے بیان کیا کہ اس کا معنی ہے : زمین نے اپنے رب کا حکم سنا اور اس کی اطاعت کی۔

( جامع البیان جز ٣٠ ص ١٤٢۔ ١٤١، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥)

القرآن – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 2