أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا قُرِئَ عَلَيۡهِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا يَسۡجُدُوۡنَ ؕ ۩‏ ۞

ترجمہ:

اور جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جائے تو وہ سجدہ نہیں کرتے

الانشقاق : ٢١ میں فرمایا : اور جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جائے تو وہ سجدہ نہیں کرتے۔

اگر انسان بہ غور قرآن مجید کو سنے تو اس کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ یہ کلام فصاحت و بلاغت میں حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے اور جب قرآن مجید معجز کلام ہے تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا صدق واجب ہے، لہٰذا آپ کے احکام کی اطاعت کرنا واجب ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بعید قرار دیا کہ کفار قرآن مجید کو سن کر سجدہ نہیں کرتے۔

امام رازی فرماتے ہیں کہ روایت ہے کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی :” وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ۔ “ ( العلق : ١٩) سجدہ کرو اور اللہ کے قریب ہو، پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مؤمنین نے سجدہ کیا، اور کفار اپنے سروں کے اوپر تالیاں بجاتے رہے، تب یہ آیت نازل ہوئی کہ جب ان کے سامنے قرآن مجید پڑھا جائے تو یہ سجدہ نہیں کرتے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے اس آیت سے سجدہ تلاوت کے وجوب پر دو وجہ سے استدلال کیا ہے، اول اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل کی اتباع کو واجب قرار دیا، فرمایا :

فَاٰمِنُوْا بِ اللہ ِ وَرَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِ اللہ ِ وَکَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہُ (الاعراف : ١٥٨ )

پس اللہ پر ایمان لائو اور اس کے رسول نبی امی پر جو کہ اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی اتباع کرو۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو قرآن مجید سن کر سجدہ تلاوت ادا نہیں کرتے، اور جب کسی فعل کے ترک پر مذمت کی جائے تو اس فعل کا کرنا واجب ہوتا ہے۔

(تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٠٤، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 84 الإنشقاق آیت نمبر 21