… – بَابُ إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِأحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا

جب تم میں سے کسی ایک کے برتن سے کتا پی لے تو وہ اس کو سات مرتبہ دھوئے

 

۱۷۲ – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ  أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلُهُ سَبْعًا.

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبد اللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی از امام مالک از ابی الزناد از اعرج از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا تم میں سے کسی ایک کے برتن سے (پانی) پی لے تو وہ اس کو سات مرتبہ دھوئے۔

(صحیح مسلم : ۲۷۹ الرقم المسلسل : 636،  سنن نسائی: 636 سنن الکبری للنسائی: ۶۵ سنن ابن ماجه: 363،  موطا امام مالک ج اص 34،  مسند الشافعی ج اص ۲۳ المنتقی : ۵۰ مسند ابوعوانہ ج ا ص 207،  سنن بیہقی ج 1 ص ۲۴۰ شرح السنتہ: ۲۸۸ مسند احمد ج ۲ ص 460،  طبع قدیم، مسند احمد :۹۹۲۹- ج 16 ص 23،  مؤسسة الرسالة بیروت)

باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں مذکور ہے : جس برتن میں کتنا منہ ڈال دے اس کو سات مرتبہ دھویا جائے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف کیا جا چکا ہے۔

کتے کے جھوٹے کے متعلق مذاہب فقہاء

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال القرطبی المالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

جس پانی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے، اس کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے:

زہری، امام مالک اور امام اوزاعی کا یہ قول ہے کہ یہ پانی طاہر ہے، اس سے وضوء اور غسل کرنا جائز ہے، جب اس کے سوا کوئی اور پانی نہ ملے اور سفیان ثوری، ابن الماجشون اور امام مالک کے اصحاب میں سے ابن مسلمہ نے یہ کہا ہے کہ اس پانی سے وضو بھی کرے اور تیمم بھی کرے، انہوں نے اس پانی کو مشکوک قرار دیا ہے۔

امام ابو حنیفہ ان کے اصحاب،لیث امام شافعی، اور ابوثور کا مذہب یہ ہے کہ جس پانی کے برتن میں کتنا منہ ڈال دے وہ پانی نجس ہے۔ ابن القصار مالکی نے کہا کہ کتے کے جھوٹے کے پاک ہونے پر دلیل یہ ہے کہ آپ نے اس کے جھوٹے برتن کو سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے اور اگر اس میں نجاست ہوتی تو آپ اس کو ایک مرتبہ دھونے کا حکم دیتے کیونکہ نجاست کو دھونے میں عبادت یہ ہے کہ اس کو زائل کیا جائے نہ یہ کہ اس کوکئی مرتبہ دھویا جائے اور یہ جائز ہے کہ کسی پاک چیز کو کسی وجہ سے کئی مرتبہ دھویا جائے،  جیسے اعضاء وضوء کو دو دو مرتبہ اور تین تین مرتبہ دھویا جاتا ہے حالانکہ غرض ایک مرتبہ دھونے سے پوری ہو جاتی ہے اور امام مالک نے کہا ہے کہ جب کتا کھانے میں منہ ڈال دے تو وہ کھانا کھایا جائے گا اور حدیث پر عمل کرنے کے لیے اس برتن کو سات مرتبہ دھویا جائے گا۔

نیز ابن القصار مالکی نے کہا ہے کہ کتوں کے طاہر ہونے پر دلیل یہ ہے کہ شریعت میں یہ ثابت ہے کہ طاہر وہ چیز ہے، جس سے نفع اٹھانے کو بغیر کسی ضرورت کے ہمارے لیے مباح کر دیا گیا ہو، جب کہ اس سے نفع نہ اٹھانا بھی ہماری قدرت میں ہو اور نجس وہ چیز ہے، جس سے نفع اٹھانے سے ہمیں منع کر دیا گیا ہو جب کہ اس سے نفع اٹھانا ہماری قدرت میں ہو اور اس پر دلائل قائم ہیں کہ بغیر کسی ضرورت کے کتوں سے نفع اٹھانا جائز ہے، جیسے شکاری کتے ہیں اور کھیتوں اور مویشیوں کی حفاظت کے کتے ہیں اور کتے کے جھوٹے برتن کو سات مرتبہ دھونے کا حکم تغلیظا ہے کیونکہ مہمانوں اور گزرنے والوں کے خوف کی وجہ سے انہیں کتوں کو رکھنے سے منع کیا گیا تھا۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص ۲۷۶-۲۷۵ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۴ھ )

کتے کے جھوٹے کے متعلق فقہاء احناف کا مذہب

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :

اس باب کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ کتے نجس ہیں کیونکہ طہارت یا تو حدث سے حاصل ہوتی ہے یا نجس سے یہاں پر حدث تو ہے نہیں، اس لیے یہ متعین ہوگیا کہ کتے کے منہ ڈالنے سے برتن نجس ہوجائے گا، اس لیے اس کو سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے، کیونکہ کتا جب پانی کے برتن میں منہ ڈالے گا تو اس کا لعاب اس برتن میں لگے گا اور لعاب اس کے گوشت سے پیدا ہوتا ہے اور اس سے معلوم ہوا کہ اس کا گوشت نجس ہے اور اس کا جھوٹا بھی نجس ہے امام مالک اور امام بخاری جو کتے کو پاک کہتے ہیں، ان کے نزدیک کتے کے جھوٹے برتن کو سات مرتبہ دھونے کا حکم تعبدی ہے ۔

(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۵۷ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ )

کتے کے منہ ڈالنے سے برتن کے نجس ہو جانے پر ہماری دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو سات مرتبہ دھوئے اور پہلی بار مٹی سے دھوئے۔

(صحیح مسلم :  279، الرقم المسلسل : ۶۳۹ سفن دار قطنی : 180،181، ابن عدی فی الکامل ج 3 ص 882)

اس حدیث میں آپ نے کتے کے جھوٹے برتن کو پاک کرنے کا طریقہ بتایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ کتے کا جھوٹا برتن نجس ہے اور اس کو سات مرتبہ دھونا تعبدی حکم نہیں ہے بلکہ حصول طہارت کا حکم ہے اور سات مرتبہ دھونا استحباب کے لیے ہے ورنہ طہارت تین مرتبہ دھونے سے بھی حاصل ہوجاتی ہے اس کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب کتاکسی برتن میں منہ ڈال دے تو اس چیز کو گرا دو اور اس برتن کو تین مرتبہ دھوؤ ۔

( سنن دار قطنی : ۱۹۳ – ۱۹۲ ابن عدی فی الکامل ج ۲ ص 777، شرح معانی الآثار ج ۱ ص ۲۴)

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۵۸ – ج ا ص ۷ ۹۵ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں :

کتے کے جھوٹے برتن کو پاک کرنے کے متعلق ائمہ ثلاثہ کا نظریہ

کتے کے جھوٹے برتن کو پاک کرنے کے متعلق امام

ابوحنیفہ کا نظریہ۔