هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ الۡجُـنُوۡدِۙ – سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 17
sulemansubhani نے Wednesday، 16 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
هَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ الۡجُـنُوۡدِۙ ۞
ترجمہ:
کیا آپ کے پاس لشکروں کی خبر پہنچی ؟
عہد رسالت اور اس سے پہلے کے مکذبین کی سر شت
البروج : ٢٠۔ ١٧ میں فرمایا : کیا آپ کے پاس لشکروں کی خبر پہنچی ؟۔ فرعون اور ثمود کی۔ بلکہ کفار تکذیب کے درجے ہیں۔ اور اللہ ان کا ہر طرف سے احاطہ کرنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ کفار نے خندق کھود کر آگ جلائی اور اس میں مؤمنوں کو ڈال دیا، اب یہ بتایا کہ ان سے پہلے جو کفار تھے وہ بھی اسی طرح مؤمنوں پر ظلم کرنے والے تھے، اپنے اپنے زمانے میں فرعون اور ثمود بھی مؤمنوں پر ظلم کرتے تھے اس سے پہلی سورتوں میں قوم فرعون اور ثمود کے واقعات گزر چکے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ ہر زمانہ میں کفار مسلمانوں کے ساتھ ظالمانہ کارروائی کرتے رہے ہیں۔
اور فرمایا : اور اللہ ان کا ہر طرف سے احاطہ کرنے والا ہے۔ اس کے حسب ذیل معانی ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ کی سلطنت اور اس کا اقتدار تمام کفار کو محیط ہے، کوئی کافر اس کے حیطہ ٔ اقتدار سے باہر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ ان سب کو فوراً ہلاک کر دے اور آپ کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ان پر فوراً عذاب نازل کر دے، سو آپ ان کی تکذیب کی وجہ سے نہ گھبرائیں، جب اللہ تعالیٰ ان سے انتقام لینا چاہے گا تو اس کو ایک پل بھی دیر نہیں لگے گی۔
(٢) اللہ تعالیٰ کے احاطہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کی تکذیب کی وجہ سے ان کی ہلاکت قریب آپہنچی ہے۔
(٣) اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال کو محیط ہے اور ان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 17