أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الۡبُرُوۡجِۙ ۞

ترجمہ:

برجوں والے آسمان کی قسم

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : برجوں والے آسمان کی قسم۔ اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ اور حاضر کی اور جس کو حاضر کیا جائے گا۔ (البروج : ٣۔ ١)

البروج : ١ میں اللہ تعالیٰ نے برجوں والے آسمان کی قسم کھائی ” بروج “ ” برج “ کی جمع ہے اور اس کا معنی درج ذیل ہے :

” بروج “ کا لغوی اور اصطلاحی معنی

” بروج “ ” برج “ کی جمع ہے۔ اس کے معنی بلند عمارت اور محل ہیں۔ گنبد اور ستارے کے مقام کو کہتے ہیں۔ آسمان کا بارہواں حصہ جو رصد گاہوں سے دکھائی دیتا ہے، اس کو بروج کہتے ہیں۔ علماء ہیئت کہتے ہیں کہ آسمان نو ہیں۔ سات آسمانوں میں سے ہر آسمانوں میں ایک سیارہ ہے۔ سات سیارگان یہ ہیں، قمر، زحل، عطارد، شمس، مشتری، مریخ اور زہرہ اور آٹھویں آسمان میں وہ ستارے ہیں جو ثابت ہیں ( یعنی گردش نہیں کرتے) اور نویں آسمان کو وہ فلک اطلس کہتے ہیں، وہ سادہ ہے، اور آٹھویں آسمان میں ستاروں کے اجتماع سے جو مختلف شکلیں بنتی ہیں، وہ اس نویں آسمان میں نظر آتی ہیں جن کو رصد گاہوں میں دیکھا جاتا ہے۔ کہیں یہ شکل شیر کی سی بنی جاتی ہے، اس کو برج اسد کہتے ہیں اور کہیں ترازو کی سی شکل بنتی ہے، اس کو برج میزان کہتے ہیں اور کہیں یہ شکل بچھو کی سی بنتی ہے، اس کو برج عقرب کہتے ہیں۔ یہ کل بارہ برج ہیں، حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو اور حوت۔ سورج ہر ماہ میں ایک برج کی مسافت کو طے کرتا ہے اور ایک سال میں بارہ بروج کی مسافت قطع کرتا ہے۔ گرمی، سردی، بہار اور خزاں یہ چاروں موسم سورج کی اسی حرکت سے وجود میں آتے ہیں۔

(روح المعانی جز ١٤ ص ٣٣۔ ٣٢ ملخصاً و موضحا ً )

ترقی اردو بورڈ کی مرتب کردہ لغت میں لکھا ہے :

سیارہ کا دائرہ گردش جسے اس کا گھر، مقام یا منزل کہتے ہیں، آسمان دائرہ کے بارہ حصوں میں سے ہر ایک راس ہے۔ قدیم ہیئت دانوں نے ستاروں کے مقامات سمجھنے کے لیے منطقہ یا راس منذل (فضا) کے بارہ حصے کیے ہیں۔ ہر حصہ میں جو ستارے واقع ہیں ان کی اجتماعی صورت سے جو شکل بنتی ہے، اس حصہ کا نام اسی شکل پر رکھ دیا گیا ہے، مثلاً چند ستارے مل کر شیر کی سی شکل بناتے ہیں، اس حصہ کا نام برج اسد رکھ لیا گیا ہے۔ ( اردو لغت ج ٢ ص ٩٩٥، مطبوعہ محیط اردو پریس، کراچی)

ڈاکٹر وہبہ زحیلی لکھتے ہیں :

اہل عرب ستاروں اور بروج کے علم کو بہت عظیم علوم میں سے شمار کرتے تھے اور ان سے راستوں، اوقات اور ان سے خشک سالی اور فصل کی سرسبزی اور زرخیزی پر استدلال کرتے تھے۔ مریخ کا برج الحمل اور العقرب ہے اور زہرہ کا برج الثور اور المیزان ہے اور عطارد کا برج الجوزاء اور السنبلہ ہے اور القمر کا برج السرطان ہے اور الشمس کا برج الاسد ہے اور مشتری کا برج القوس اور الحوت ہے اور زحل کا برج الجدی اور الدلو ہے۔ ( تفسیر منیر ج ١٤ ص ٢٠، مطبوعہ دارالفکر، بیروت، ١٤١١ ھ)

” بروج “ کے مصادیق میں اقوال مفسرین

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ لکھتے ہیں :

کسی عمارت کو مضبوط بنانے کے لئے اس کی ایک طرف پر جو گنبد بنایا جاتا ہے اس کو برج کہتے ہیں، اور بعض نے کہا : برج کا معنی محل ہے اور بعض نے کہا : برج کا معنی ستارے ہیں اور بعض نے کہا : یہ سورج، چاند اور ستاروں کی گزرگاہ ہیں اور ان کی منازل بروج ہیں۔ (تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٤٢٤، مؤسسۃ الرسالہ، ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

بروج کی تفسیر میں تین اقوال ہیں :

(١) یہ مشہور بارہ برج ہیں، ان کی قسم اس لیے کھائی ہے کہ ان میں بہت عجیب حکمت ہے کیونکہ ان بروج میں معارج حرکت اور دورہ کرتا ہے اور اس جان کے فوائد سورج کے دورہ پر موقوف ہیں اور یہ اس کی دلیل ہے کہ ان بروج کا خالق زبردست حکیم ہے۔

(٢) بروج چاند کی منازل ہیں اور ان کی قسم اس لیے کھائی ہے کہ ان بروج میں چاند دورہ کرتا ہے اور چاند کی حرکت سے آثار عجیبہ وجود میں آتے ہیں۔

(٣) بروج سے مراد بڑے بڑے ستارے ہیں اور ان کو ان کے ظہور کی وجہ سے بروج فرمایا ہے کیونکہ بروج کا لغوی معنی ہے : ظہور۔ (تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٠٦، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : بروج کے متعلق چار قول ہیں :

(١) الحسن، قتادہ، مجاہد اور ضحاک نے کہا : بروج سے مراد ستارے ہیں۔

(٢) حضرت ابن عباس (رض) ، عکرمہ اور مجاہد نے کہا : بروج سے مراد محلات یا قلعے ہیں، عکرمہ نے کہا : یہ محل آسمان میں ہیں، مجاہد نے کہا : بروج میں محافظ ہیں۔

(٣) المنہال بن عمرو نے کہا : وہ کوئی خوب صورت مخلوق ہے۔

(٤) ابو عبیدہ اور یحییٰ بن سلام نے کہا : وہ منازل ہیں، اور یہ بارہ برج ہیں جو ستاروں، سورج اور چاند کی منازل ہیں۔ قمر ہر برج میں دو دن اور ایک تہائی دن چلتا رہتا ہے اور یہ اٹھائیں دن ہیں اور دو راتیں چھپا رہتا ہے اور سورج ہر برج میں ایک ماہ چلتا رہتا ہے، اور ان بارہ برجوں کے یہ اسماء ہیں : (١) الحمل (٢) الثور (٣) (٤) السر طان (٥) الاسد (٦) السنبلہ (٧) المیزان (٨) العقرب (٩) القوس (١٠) الجدی (١١) الدلو (١٢) الحوت

کلام عرب میں ” البروج “ کا معنی ہے : ” القصور “ یعنی محلالت یا قلعے

(الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ٢٤٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

بارہ برجوں کے معانی

(١) الحمل کا معنی ہے : بکری کا بچہ، موسم بہار کے برجوں میں سے ایک برج (٢) ثور کا معنی ہے : بیل (٣) الجوزا کا معنی ہے : سیاہ بکری جس کے درمیان میں سفیدی ہو (٤) السرطان کا معنی ہے : کیکڑا ایسا پھوڑا جس کی رگیں کیکڑے کے پائوں کی طرح دکھائی دیتی ہیں، کینسر (٥) الاسد کا معنی ہے : شیر (٦) السنبلہ کا معنی ہے : گندم کا خوشیایا گچھا (٧) المیزان کا معنی ہے ترازو (٨) العقرب کا معنی ہے : پچھو (٩) القوس کا معنی ہے : کمان (١٠) الجدی کا معنی ہے : پہلے سال کا بکری کا بچہ یہ برج الدلو کے متقل ہے (١١) الدلو کا معنی ہے : ڈول (١٢) الحوت کا معنی ہے : مچھلی۔

یعنی آسمان پر بعض جگہ ستاروں کے اجتماع سے بکری کے بچہ کی شکل بن جاتی ہے، کہیں بیل کی شکل بن جاتی ہے، کہیں بکری کی شکل بن جاتی ہے اور کہیں کیکڑے کی شکل بن جاتی ہے، علیٰ ہذا القیاس، یہ شکلیں رصد گاہ میں قوی دور بین سے نظر آتی ہے، علماء ہیئت نے اپنی آسانی کے لیے ان شکلوں کے یہ نام رکھ لیے ہیں۔

الحمل اور العقرب مریخ کے منزل ہے، الثور اور المیزان زہرہ کی منزل ہے، الجور اور السنبلہ عطارد کی منزل ہے، السرطان قمر کی منزل ہے، الاسد شمس کی منزل ہے، القوس اور الحوت مشتری کی منزل ہے اور الجدی اور الدلوزحل کی منزل ہے۔

(معالم التنزیل ج ٣ ص ٤٥٤، داراحیاء التراث، العربی، بیرو ت، ١٤٢٠ ھ)

ستاروں کے بروج میں انگریزی مہینوں کے اعتبار سے گردش

ماہرین علم نجوم کے اعتبار سے درج ذیل مہینوں میں ستارے ان بروج میں گردش کرتے ہیں، تاہم یہ کوئی شرعی اور حتمی چیز نہیں ہے :

(١) اپریل : الحمل Aries (٢) مئی : الثور Taurus

(٣) جون : الجوزائ Gemini (٤) جولائی : السرطان Cancer

(٥) اگست : الاسد Leo (٦) ستمبر : السنبلہ Virgo

(٧) اکتوبر : المیزان Libra (٨) نومبر : العقرب Scorpio

(٩) دسمبر : القوس Sagittarius (١٠) جنوری : الجدی Capricorn

(١١) فروری : الدلو Aquarius (١٢) مارچ : الحوت Pisces

تبیان القرآن سورۃ نمبر 85 البروج آیت نمبر 1