٣٥ – بَابُ الرَّجُلِ يُوَضِيءُ صَاحِبَهُ

ایک شخص اپنے صاحب (آقا) کو وضوء کرائے

 

باب سابق اور اس باب میں یہ مناسبت ہے کہ دونوں باب احکام پر مشتمل ہیں۔

۱۸۱ – حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى ابْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْب مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسِ عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اَن رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ عَدَلَ إِلَى الشَّعْبِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ . قَالَ أَسَامَةٌ بنُ زَيْدٍ فَجَعَلْتُ اَصْب عَلَيْهِ وَيَتَوَضَّاً ، فَقُلْتُ یارسُولَ اللهِ اتصَلَّى ؟ فَقَالَ الْمُصَلَّى اَمَامَكَ.

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: مجھے محمد بن سلام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا : ہمیں یزید بن ہارون نے حدیث بیان کی از یحیی از موسیٰ بن عقبه از کریب، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کرده غلام از حضرت اسامه بن زید رضی اللہ عنہما کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقوف عرفات کرکے روانہ ہوئے تو آپ ایک گھاٹی میں مڑگئے پس آپ نے قضاء حاجت کی، حضرت اسامہ بن زید نے کہا: میں آپ کے اوپر پانی ڈال رہا تھا اور آپ وضوء کر رہے تھے پس میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپ نماز پڑھیں گے؟ آپ نے فرمایا: نماز پڑھنے کی جگہ تمہارے آگے ہے۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری: ۱۳۹ میں مطالعہ فرمائیں۔

حدیث:۱۳۹ میں اس کا عنوان تھا: مکمل وضو کرنا، کیونکہ وہاں مذکور تھا کہ آپ نے المزدلفہ میں جا کر مکمل وضوء کیا اور اس حدیث میں حضرت اسامہ کے وضوء کرانے کا ذکر ہے۔