ایک نابغہ عصر مربی ۔۔۔ پیر محمد کرم شاہ الازہری
محمد طاہر عزیز باروی،ناروے
میں اگر کسی شخصیت سے نہ مل سکنے کی محرومی کا کبھی سوچوں تو دو لوگ استاذ الکل علامہ عطا محمد بندیالوی،اور ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری کی زیارت و  ملاقات کی محرومی مجھے اکثر غمگین کر دیتی ہے۔
یہ دونوں شخصیات میرے شعوری دور میں اس دنیا سے تشریف لے گئیں مگر میں اس سعادت سے بہرہ مند نہ ہو سکا۔ مگر میرے دل میں ان دونوں شخصیات کی محبت عقیدت،انس اور الفت اپنے اکابر اساتذہ جیسی موجود ہے۔  الحمد للہ۔
علامہ استاذ بندیالوی صاحب علیہ الرحمۃ ایک واسطے سے چونکہ ہمارے استاذ ہیں اس لیے ان کے واقعات، تذکار ہمیشہ کانوں میں رس گھولتے رہے۔ دوسرا ان سے رابطے کا ذریعہ ان کی کتب تھیں۔خصوصا جب ان کتب کی اشاعت برادر گرامی علامہ مفتی محمد کاشف جمیل کی نگرانی میں ہوئی مجھے وہ سب کتب پروف ریڈنگ کےلیے پڑھنے کو ملیں ان کتب سے محبت میں اضافہ ہوا۔  سفرنامہ بغداد اور ذکر عطا ان میں سر فہرست اور  روحانیت سے بھر پور کتب ہیں۔
حضرت ضیاء الامت کی تحریر کا کون سا ذی شعور دیوانہ نہیں ہوگا۔ سیدی خورشید گیلانی کہا کرتے ’’پیر کرم شاہ الازہری کا طرز زیست قلندرانہ، مزاج صوفیانہ ، سر میں دماغ عالمانہ اور ہاتھ میں قلم ادیبانہ تھا۔
کتاب سے صاحب کتاب تک کا سفر ادیبوں کی جس جماعت کے حصے میں آیا ان میں حضرت ضیاء الامت سرفہرست ہیں۔ گویا ان کے ہاتھ میں قلم نہیں شہپر جبریل ہے اور وہ زمین پر نہیں سدرۃ المنتہیٰ کی بلندی پر فائز حمد خداوندی اور نعت رسول کے نغمے لکھی جارہے ہیں۔ اور چہار دانگ عالم اس اسلوب،ادب،انتخاب الفاظ،پیرایہ بندی، اور ترتیب پر ورطہ حیرت میں ہے۔
اس سب کے باوجود وہ شخص سراپا عجز و انکسار۔
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
حضرت ضیاء الامت کے کئی پروردگان سے میری ملاقات رہی خدا شاہد ہے ہر ایک نے ایسے ایسے واقعات سنائے کہ محبت و عقیدت میں اضافہ ہی ہوا۔ پروین  شاکر کے بقول
’’روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی‘‘
امین امانات کرم حضرت پیر امین الحسنات شاہ صاحب اوسلو  تشریف لائے تو فرمانے لگے جب میرے والد گرامی مصر جانے لگے تو بھیرہ ریلوے اسٹیشن پہ  میرے جد امجد نے انہیں مخاطب  کر کے کہا۔
’’کرم شاہ تم پڑھ کے واپس آؤ میں تمہیں اسپیکر لے دوں گا اور وہ تو ریڑھی پہ رکھ کے میرے نبی ﷺ کے دین کا ’’ہوکا’’ دینا۔
جانے اس غازی اسلام کی زبان میں تاثیر تھی یا دل میں وہ سوز یا قبولیت کی کوئی ایسی سعید گھڑی سر پر تھی کہ وہ الفاظ سیدھے عرش الہی سے ٹکرائے اور امر ہوگئے۔
کرم شاہ کا ہوکا لگتا ہے کہیں’’وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالاً وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ‘‘ سے خیرات پا گیا اور چہار دانگ عالم میں وہ جگہ پاگیا۔
حضرت ضیاء الامت علیہ الرحمۃ پر کافی باتیں میں لکھ بھی چکا، مگر کوئی بات نئی خصوصا جو سیدھی دل پہ لگے تو  کوشش ہوتی ہے کہ سعادت مندی کے طور پر یہ زینت قرطاس کر دوں تاکہ ان کے ذکر خیر کرنے والے سعید لوگوں میں شامل ہو سکوں۔
’’گرقبول افتد زہے عز و شرف’’
اوسلو کے علماء کرام کا ماحول باہم رشک قمر ہے کہ یہ ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں اہل سنت کے کئی علمی،فکری،روحانی باغات سے چنے پھول شامل ہیں۔ جو اس کی دلکشی اور جاذبیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ جامعہ نظامیہ،جامعہ نعیمیہ، بھیرہ شریف،منہاج القرآن، دعوت اسلامی ، اور انوار العلوم کے فضلاء ہیں مگر ایک سید زادے (پیر سید نعمت علی شاہ بخاری مدظلہ) کی قیادت میں یہ یک جاں کئی قالب ہیں۔ اللہ کریم بری نظر سے محفوظ بلکہ  پنجابی میں کہتے ساڈے سراں تے سائیاں نوں سلامت رکھے۔
کئی نجی محافل میں ہر ایک اپنی مادر علمی سے وابستہ یادیں شیئر کرتا ہے کئی چیزیں بہت متاثر کرتی ہیں۔
چند دن قبل بھیرہ شریف کے فضلاء علامہ حافظ شیراز حسین مدنی،(خطیب ورلڈ اسلامک مشن اوسلو) علامہ قاری نور علی سیالوی(خطیب فیوروست مسلم سنٹر اوسلو) علامہ ڈاکٹر محمد ارشد ضیاء (خطیب غوثیہ مسلم سوسائٹی اوسلو) راقم الحروف اور علامہ پروفیسر نصیر احمد نوری(فاضل منہاج القرآن، و خطیب بزم نقشبند اوسلو) ایک نجی محفل میں حاضر تھے روئے سخن قبلہ پیر صاحب کی طرف ہو گیا۔
دو ایسی خوبصورت باتیں سنی جو  آج کے دور میں نئے اساتذہ،فضلاء،مدارس کے منتظمین اور دارالاقامہ کے ذمہ داران کے لیے یہ عظیم راہنما ثابت ہوں گی۔
میرے لیے یہ باتیں اس لیے بھی دلچسپی کا سامان تھیں کہ ہمارے استاذ گرامی علامہ حافظ محمد عبدالستار سعیدی دامت برکاتہم کے مزاج میں بعینہ یہی چیز دیکھی کہ کبھی کسی ٹوہ میں نہیں رہنا، کوئی بات صرف ان کی ذات تک ہو تو عبدالستار ہونے کے ناطے اسی کو بھی نظر انداز کر دینا یا اشارے کنائے میں سمجھا دینا مگر انہوں نے نظام کو ہمیشہ ضرب المثل بنائے رکھا۔
وہ نشست بھی شاید مرور زمانہ کا شکار ہو جاتی کہ دو چار دن گذر گئے تو روٹین نارمل ہو جاتی  لیکن پیر صاحب علیہ الرحمۃ کے عرس کی تقریبات کا اشتہار دیکھا اور اس کے ساتھ برادرم علامہ غلام علی اعوان صاحب زید مجدہ کا ایک مضمون دیکھا اس سے مہمیز ملی۔ ہمارے ہاں موسمی تغیر و تبدل کے غیر فطری ہونے کی وجہ سے ان دنوں میں عشاء سے صبح کے درمیان آج کل کوئی دو گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے تو اس وقت کو قیمتی بنایا۔
امام شافعی کا شعر ہے
أُحِبُّ الصالِحينَ وَلَستُ مِنهُم
لَعَلّي أَن أَنالَ بِهِم شَفاعَه
کئی مقامات پر لعل اللہ یرزقنی صلاحا بھی پڑھا ہے (واللہ ورسولہ اعلم بالصواب)
اساتذہ،منتظمین اور دارالاقامہ کے ذمہ داران اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ طلبہ کی ہر سرگرمی پر نظر رکھی جائے یہاں تک کہ طلبہ کی پرائیویسی بھی مجروح کر کے رکھ دی جاتی ہے۔ یہ وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں لیکن یہ ایک ایسی غیر اخلاقی اور ناشائستہ سی حرکت ہے کہ  طلبہ کی شخصیت پر ایک گہرا اثر ڈالتی ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے  میں کہیں پڑھا تھا کہ ایک گھر میں جھانک کے دیکھا تو ایک بوڑھا شخص ’’چسکی‘‘ بھی لگا رہا تھا اور کچھ عشقیہ اشعار گا بھی رہا تھا آواز دے کے کہا صبح خلیفہ کے دربار میں پیش ہو تاکہ وہ تیرا حساب کتاب کرے۔
بوڑھے نے کہا ضرور تاکہ میں خلیفہ سے پوچھوں کہ اس کو لوگوں کے گھروں میں جھانکنے کی اجازت کس نے دی۔ کیا خلیفہ نے قرآن نہیں پڑھا کہ ’’ لا تجسسوا’’ اور ’’لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستانسوا وتسلموا علی اھلھا‘‘ اس جواب پر خلیفہ وقت ساکت۔۔ آگے پورا واقعہ ہے۔ تفصیل کی ضرورت نہیں کہ بوڑھا بھی تائب اور خلیفہ وقت نے بھی حلفیہ کہا میرے ساتھ میرا غلام اسلم تھا اسے بھی خبر نہیں ہونے دی۔
ذکر ہوا کہ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کے ہاسٹل میں کسی انتظامی ذمہ دار نے بلبوں کے اوپر حفاظت کے پیش نظر جیسے جنگلےعموما گلی کوچوں میں بلدیہ والے لگاتے تھے ویسے جنگلے لگوا دیے کہ یہ محفوظ رہیں۔
حضرت پیر صاحب خیر تھے واپس آئے تو جنگلے دیکھے تو طبیعت بے چین ہوئی جس ذمہ دار نے یہ لگوائے اسے بلوایا اور ان جنگلوں کے نصب کیے جانے کی وجہ پوچھی جوابا بتایا گیا کہ حفاظت کے پیش نظر۔ یہ سنتے ہوئی ان کا چہرہ مرجھا گیا اور بہت پریشانی میں بولے یہ بچے یہاں پڑھنے اور سیکھنے آئے ہیں۔ میں ان کا مربی ہوں، یہ بڑی غیر اخلاقی حرکت ہے ،باہر سے کوئی مہمان آئے تو کیا سمجھے گا یہ لوگ ہماری تربیت کریں گے جن کی اپنی تربیت کا یہ عالم کہ دارالعلوم کے بلب تک محفوظ نہیں۔ اور فورا وہ جنگلے بلبوں سے اتارنے کا کہا اور اس پہ عمل ہوا۔
اسی طرح ایک بار کسی کولر کے ساتھ گلاس بندھا دیکھا تو حکم فرمایا چاہے دن میں پچاس گلاس رکھنے پڑیں رکھیں مگر زنجیر سے باندھا نہ جائے کہ یہ ان کے وقار کے منافی بات ہے ۔
اسی طرح زمانہ طالب علمی ہوتا ہے ہم بھی ایسی حرکتیں کرتے رہے ہیں کہ کمرے کو باہر سے تالا اور اندر کوئی شہزادہ پڑھائی کے وقت کسی بہانے سے آرام فرما ہوتا ۔
ناظم دارالاقامہ نے دروازوں کے اوپر سے ایک ایک لکڑی کا تختہ اتروا دیا تاکہ آسانی سے دیکھا جا سکے ۔
حضرت ضیاء الامت ظہر یا عصر کے بعد درالاقامہ تشریف لے گئے تو نظر پڑی ہر دروازے سے ایک ایک تختہ غائب ، پوچھا تو پتہ چلا کہ نگرانی کے لیے تاکہ کمرے کے اندر دیکھا جا سکے۔یہ سنتے ہی فورا حکم جاری کیا کہ یہ غیر اخلاقی بات ہے اور بلاوجہ ان کی رہائش گاہوں میں جھانکنے والی بات ہے جو اللہ و رسول کو پسند نہیں اور ادھر سے اجازت بھی نہیں۔
چاہے اس کا جتنا فائدہ مرضی ہو کرم شاہ کے جامعہ میں وہ قانون لاگو نہیں ہو سکتا جو شریعت کے منافی ہو۔ اسی دن وہ تختے دوبارہ لگائے گئے اور بڑے دکھی لہجے میں فرمایا میرا کام تربیت کرنا ہے وہ میں کروں گا مگر غیر اخلاقی انداز میں نہیں۔ بلکہ سنت نبوی کی روشنی میں کروں اسی کی ضیاء سے یہ شمعیں جلیں گی اور ایک جہاں منور ہوگا۔
زنور محمد جہاں روشن است
(16 جولائی 2025)