يَّخۡرُجُ مِنۡۢ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالتَّرَآئِبِؕ – سورۃ نمبر 86 الطارق آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Friday، 18 July 2025 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَّخۡرُجُ مِنۡۢ بَيۡنِ الصُّلۡبِ وَالتَّرَآئِبِؕ ۞
ترجمہ:
جو پیٹھ اور سینہ کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے.
الطارق : ٧ میں فرمایا : جو پیٹھ اور سینہ کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔
اس آیت میں ” صلب “ کا لفظ ہے، اس سے مراد ہے : مرد کی پیٹھ اور ” ترائب “ کا لفظ ہے، اس سے مراد عورت کے سینہ کی درمیانی جگہ ہے، یعنی اس کے پستانوں کے درمیانی جگہ، جب انسان جماع کرتا ہے تو اس کی پیٹھ سے پانی نکل کر رحم میں داخل ہوتا ہے اور عورت کے سینہ سے نکل کر پانی وہاں پہنچتا ہے۔ علامہ قرطبی لکھتا ہے :
ہم مانتے ہیں کہ نطفہ بدن کے تمام اجزاء سے نکلتا ہے، اسی وجہ سے انسان اپنے والدین کے بہت مشابہ ہوتا ہے، اور خروج منی کے بعد تمام جسم کے غسل کی بھی یہی حکمت ہے اور جو آدمی بہت زیادہ جماع کرتا ہے، اسی وجہ سے اس کی کمر میں بہت درد ہوتا ہے اور یہ اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ جو پانی کمر میں جمع ہوتا ہے، وہ بہت زیادہ نکل جاتا ہے۔
( الجامع الاحکام القرآن جز ٢٠ ص ٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری المتوفی ١٩٩٧ ء لکھتے ہیں :
” صلب “ کہتے ہیں : ریڑھ کی ہڈی کو، ” ترائب “ ” تریبۃ “ کی جمع ہے، ” ھی موضع الفلادۃ من الصدر “۔ ( قرطبی عن ابن عباس) گلے کا ہار سینہ پر جس جگہ لٹکتا ہے اس کو ” ترائب “ کہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس آیت کا یہ معنی کیا ہے کہ مادہ منویہ مرد کی پشت اور عورت کے سینہ کے درمیان سے نکلتا ہے، لیکن دوسرے مفسرین جن کے سرخیل حسن بصری ہیں، وہ کہتے ہیں :” وقال الحسن المعنی : یخرج من صلب الرجل وترائب الرجل ومن صلب المراۃ وترائب المراۃ “ ( قرطبی) یعنی یہ مادہ مرد کی ریڑھ کی ہڈی اور اس کے سینے کی ہڈی کے درمیان سے، اسی طرح عورت کی ریڑھ کی ہڈی اور اس کے سینے کی ہڈی کے درمیان سے نکلتا ہے، یہی قول طبی تحقیقات کے مطابق ہے۔
اس آیت میں بعض ملحدین نے اعتراض کیا ہے کہ مادہ منویہ کے خروج کا کیا مطلب ہے ؟ خروج کا مطلب اگر جسم سے باہر خارج ہوتا ہو تو ہدایۃً غلط ہے، کیونکہ منی کا خروج یہاں سے نہیں ہوتا۔ اگر خروج کا معنی اس کا مقر ہے جہاں وہ جمع ہوتی ہے تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ اس کا ذخیرہ ” او عیۃ المعنی : خصیتین “ ہیں نہ کہ پشت و سینہ، اگر خروج کا مقصد یہ ہے کہ اس کے اجزائے ترکیبی یہاں تیار ہوتے ہیں تو بھی درست نہیں، کیونکہ اس کے بنانے میں سب سے زیادہ حصہ دماغ کا ہے نہ کہ صلیب و ترائب کا۔
جن لوگوں نے ان امور کا بنظر ِ مطالعہ کیا ہے، ان کے نزدیک معترض کا یہ اعتراض اس کی جہالت اور اس کے الحاد کی دئیل ہے۔ قرآن کریم نے ” بین الصلب والترائب “ کے مختصر اور جامع الفاظ سے حیثیت کی جس طرح ترجمانی کی ہے، اس سے بہتر ناممکن ہے۔ جسم میں کوئی ایک عضو ایسا نہیں جو تنہاء اس مادہ تولید کو بناتا ہو، بلکہ تمام اعضائے رئیسہ کے اشتراک سے یہ مادہ تیار ہوتا ہے۔ دماغ، دل اور جگر کا حصہ اس میں نمایاں اور سب سے زیادہ ہے۔ دل اور جگر کا مقام تو بلا شبہ ” بین الصلب والترائب “ ہے۔ باقی رہا دماغ تو ریڑھ کی ہڈی میں نخاع ( وہ سفید رنگ کی تار جو دماغ سے گردن سے گزرتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے سارے موہروں سے ہوتی ہوئی کمر تک پہنچتی ہے) اس مادہ کی تیاری میں حصہ لیتا ہے۔ یہاں اس کے اصلی عناصر تیار ہو کر کیسئہ منی میں پہنچتے ہیں اور وہاں سے نکل کر کئی نالیوں کو طے کرتے ہوئے باہر نکلتے ہیں، چناچہ علامہ آلوسی نے اس حقیقت کو مندرجہ ذیل سطور میں بیان فرمایا ہے :
ترجمہ : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کا ریشہ، دماغی، قلبی اور جگری قوتیں سب اس مادہ کو اس قابل بنانے میں ایک دوسرے کی اعانت کرتی ہیں، یہاں تک کہ وہ انسان کا مبدائن جاتا ہے۔ ” من بین الصلب و الترائب “ کی مختصر اور جامع عبارات اس امر کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ” ترائب “ قلب اور جگر کو شامل ہے ” صلب “ سے وہ ریڑھ کی ہڈی کا ریشہ مراد ہے جس کے ذریعہ سے دماغ اس کی تیاری میں حصہ لیتا ہے۔
علاوہ ازیں مادہ منویہ اگرچہ خصیتین پیدا کرتے ہیں اور کیسئہ منویہ میں جمع ہوجاتا ہے، مگر اس کے اخراج کا مرکز تحریک صلب اور ترائب کے درمیان واقع ہے اور دماغ سے اعصابی رو جب اس مرکز کو پہنچی ہے تب اس مرکز کی تحریک صلب اور ترائب کے درمیان واقع ہے اور دماغ سے اعصاب رو جب اس مرکز کو پہنچتی ہے تب اس مرکز کی تحریک سے کیسئہ منویہ سکڑتا ہے اور اس سے ماء ِ دافق پچکاری کی طرح نکلتا ہے۔ قرآن کریم کا بیان علم ِ طب کی جدید تحقیقات کے عین مطابق ہے۔
علامہ بیضاوی اور علامہ ثناء اللہ پانی پتی نے بھی اپنی تفاسیر میں اس آیت کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔
(ضیاء القرآن ج ٥ ص ٥٣٧۔ ٥٣٦)
القرآن – سورۃ نمبر 86 الطارق آیت نمبر 7