أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِىۡ خَلَقَ فَسَوّٰى ۞

ترجمہ:

جس نے ( مخلوق کو) پیدا کیا پھر اس کو درست بنایا۔

الاعلیٰ : ٣۔ ٢ میں فرمایا : جس نے ( مخلوق کو) پیدا کیا، پھر اس کو درست بنایا۔ اور جس نے ( صحیح) اندازہ کیا پھر ہدایت دی۔

اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اس کی ہدایت سے اس کی الوہیت اور اس کی توحید پر استدلال

چونکہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنا اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول پر موقوف ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تسبیح کا حکم دینے کے بعد اپنے وجود اور اپنی الوہیت کا ذک فرمایا کہ اسی نے مخلوق کو پیدا کیا اور اسی نے ہدایت دی ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی توحید پر یہ دلیل قائم کی :

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَہُوَ یَہْدِیْنِ ۔ (الشعرائ : ٧٨) جس نے مجھے پیدا کیا ہے پس وہی مجھے ہدایت دیتا ہے۔

اور جب فرعون نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) سے پوچھا : تم دونوں کا رب کون ہے یا موسیٰ ! ( طہٰ : ٤٩) تو انہوں نے جواب دیا :

رَبُّنَا الَّذِیْٓ اَعْطٰی کُلَّ شَیٍٔ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی۔ (طہٰ : ٥٠)

ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی مخصوص بناوٹ عطاء کی، پھر ہدایت دی۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو ابتدائی آیات نازل کیں، ان میں بھی اپنی تخلیق اور ہدایت کا ذکر فرمایا :

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ۔ اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ ۔ (العلق : ٥۔ ١)

اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب بہت کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا۔ انسان کو وہ سب سکھادیا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔

اللہ تعالیٰ کا خالق ہونا اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور توحید پر ایسی واضح دلیل ہے، جس کا مشرکین بھی اعتراف کرتے تھے، قرآن مجید میں ہے :

وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللہ ُ ط (لقمان : ٢٥ )

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمینوں کو کس نے پیدا کیا، تو یہ ضرو کہیں گے کہ اللہ نے ( ان کو پیدا کیا ہے)

وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مآئً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِ مَوْتِھَا لَیَقُوْلُنَّ اللہ ُ ط (العنکبوت : ٦٣ )

اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی کس نے نازل کیا اور اس پانی سے زمین کے مردہ ( بنجر) ہونے کے بعد کس نے اس کو زندہ کیا ( زرخیز بنایا) تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔

اور چونکہ تمام روئے زمین کو زرخیز بنانے کا یہی واحد نظام ہے کہ آسمان سے بارش برسائی جائے تو معلوم ہوا کہ اس نظام کا خالق بھی واحد ہے تو اسی طرح یہ آیت اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اس کی ربویت، اس کی الوہیت اور اس کی توحید پر دلالت کرتی ہے، اس کا کفار اور مشرکین بھی اعتراف کرتے تھے اور العلق : ٥ میں فرمایا : انسان کو وہ سب سکھا دیا جس کو وہ نہیں جانتا تھا، اس نے اللہ تعالیٰ کے ہدایت دینے کا ذکر ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا عام اور ہمہ گیر ذریعہ اس کی تخلیق اور اس کی ہدایت ہے اور جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت حاصل ہوجائے تو پھر اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرے اور کہے کہ وہ خود تو ممکن اور حارث ہے لیکن اس کا خالق اور اس کو راہ راست کی ہدایت دینے والا مخلوق ہونے اور امکان اور حادث سے پاک ہے، بلکہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے اور ہر حسن اور کمال سے متصف ہے۔

عام مخلوق اور خصوصاً انسان کی درست تخلیق کا معنی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس نے مخلوق کو پیدا کیا پھر اس کو درست بنایا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا، اور بالخصوص انسان کو پیدا کیا اور اس کو درست بنایا یعنی اس کو حسین بناوٹ پر پیدا فرمایا، جیسا کہ ارشاد فرمایا :

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۔ (التین : ٤) بیشک ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا۔

انسان کو اس نے تمام عبادات ادا کرنے کے قابل بنایا، اور زمینوں اور آسمانوں کو تمام جمادات، نباتات اور حیوانات کو اس کے نفع کے لیے مسخر کردیا اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں ہر قسم کا تصرف اور عمل کرنے کا مالک اور قادر ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 2